مہنگائی 4سال بعد اپنے ہدف سے زیادہ رہی،اسٹیٹ بینک کی معاشی رپورٹ

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

اسٹیٹ بینک مکئی کی فصل کیلئے الیکٹرانک ویئرہاؤس ریسیٹ فنانسنگ کا آغاز کرے گا
اسٹیٹ بینک مکئی کی فصل کیلئے الیکٹرانک ویئرہاؤس ریسیٹ فنانسنگ کا آغاز کرے گا

کراچی : اسٹیٹ بینک نے30جون2018کو ختم ہونے والے مالی سال کی معاشی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملکی معاشی شرح نمو نو سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے جب کہ مہنگائی چار سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 30 کو ختم ہونے والے مالی سال کا معاشی جائزہ پیش کر دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور مہنگائی بھی 4 سال بعد اپنے ہدف سے زائد رہی، معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھی گئی، دیہی اور شہری آمدنی میں کمی ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال ترقی کا ہدف6.2فیصد کے مقابلے میں3.3 فیصد رہا، زراعت کے شعبے میں شرح نمو اعشاریہ8فیصد رہی جبکہ صنعتی شرح نمو 1اعشاریہ4فیصد رہی، اسٹیٹ بینک جائزہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال مہنگائی کی شرح7اعشاریہ3فیصد رہی۔

روپے کی قدر میں کمی سے درآمدی اشیاء پر اثر پڑا، مالی سال 2019ء کی آخری سہ ماہی میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں بھاری اضافہ مہنگائی کا سبب بنا، مالی سال کے دوران شرح سود میں اضافہ ہوا بجلی اور گیس مہنگی ہوئی، پالیسی ریٹ میں لگاتار اضافہ سے نرخوں پر طلب کا دباؤ کم کرنے میں مدد دی لیکن پالیسی ریٹ میں مسلسل اضافہ کے باوجود مہنگائی میں اضافہ ہوا۔

جاری کھاتوں کا خسارہ4اعشاریہ8فیصد رہا جبکہ مالیاتی خسارہ8اعشاریہ9فیصد رہا۔اس کے علاوہ گزشتہ مالی سال معاشی سست روی سے گھریلو اخراجات میں کٹوتی دیکھی گئی اور دیہی اور شہری آمدنی میں کمی واقع ہوئی۔

رپورٹ میں ریمارکس دیئے گئے ہیں کہ حکومت ٹیکس وصولی کے لیے گنے چنے شعبوں پر انحصار کررہی ہے اور نان ٹیکس محاصل پر انحصار حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، گزشتہ مالی سال اسٹیٹ بینک پر قرضوں کے انحصار سے سخت مانیٹری پالیسی کے اثرات بھی زائل ہوتے رہے۔