8 فروری کے دن ملک کی چابی عوام کے پاس ہے،بلاول بھٹو زرداری

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

اسلام آباد: سابق وزیر خارجہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 8 فروری کے بعد میں جشن منا رہا ہوں گا، حکومت بنانے جا رہا ہوں گا، میاں صاحب کی اب وہ نیت نہیں کہ میں ان کے ساتھ اتحاد پر غور کروں،انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے دن ملک کی چابی عوام کے پاس ہے۔

ذرائع کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں نئی سوچ کے ساتھ وزیر اعظم بننا چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں وزیر اعظم و صدر کے امیدوار میڈیا کے سامنے پیش ہوتے ہیں، امیدوار ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں منشور سامنے رکھتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نواز شریف نے میرے مناظرے اور موازنے کا چیلنج قبول نہیں کیا جس پر افسوس ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ملک کو شہباز شریف کی طرح نہیں چلانا چاہتا، آصف علی زرداری اور ہم نے مل کر قوم کی مفاد میں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا تھا، آصف علی زرداری اُن کو وزیر عظم بنا رہے تھے، کرسی کے شوقین ہوتے تو اس وقت ہی کہتے اور وزیر اعظم بن جاتا۔

سابق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بارش کے بعد بھی میں مناظرے کیلیے تیار تھا، کراچی کے حوالے سے ان کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا، حفیظ پاشا نے پاکستان کے تمام صوبوں کا موازنہ کیا جس میں سندھ پنجاب سے ہر شعبے میں آگے ہے، یہ سروے شہباز شریف کی کابینہ میں شامل وزیر کے شوہر نے کیا تھا۔

بلاول نے کہا کہ ہم نے سمجھا تھا اپنے مورچے سنبھالیں گے ووٹ کو عزت دلائیں گے، میں نے خارجہ سطح پر دن رات کام کیا، ان کی نیت کچھ اور تھی معاشی بحران کے حل میں بھی دلچسپی نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ خلوص نیت کے ساتھ 16 ماہ پاکستان کے عوام کیلیے کام کیا، پاکستان کا کھویا ہوا مقام واپس لانے کیلیے بھرپور کوشش کی۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ اب مقابلہ (ن) لیگ کے شیر اور پیپلز پارٹی کے تیر میں ہے، 8 فروری کے دن ملک کی چابی عوام کے پاس ہے، عوام اپنے ووٹ کا درست استعمال کریں گے تو ہم شیر کا راستہ روکیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہیں کسی نہ کسی طرح حکومت میں آنا تھا، یہ چاہتے ہیں کچھ بھی کر کے نواز کو چوتھی بار وزیر اعظم بنوانا ہے، 8 فروری کے بعد میں جشن منا رہا ہوں گا، حکومت بنانے جا رہا ہوں گا، میاں صاحب کی اب وہ نیت نہیں کہ میں ان کے ساتھ اتحاد پر غور کروں۔