شب برات کیا ہے؟ اس رات کیا کرنا چاہئے؟ یہ رات کہاں کہاں منائی جاتی ہے؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

پاکستان میں ہر سال رمضان سے پہلے آنے والے اسلامی مہینے شعبان کی 15 تاریخ کو شب برات منائی جاتی ہے، جسے ایک اسلامی ثقافتی تہوار کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اس دن صوبوں کی سطح پر سرکاری چھٹی بھی ہوتی ہے اور لوگ اسے اسلامی آداب کے مطابق پورے جوش و عقیدت سے مناتے ہیں۔

آئیے ہم جانتے ہیں شب برات کیا ہے، اس دن اور رات کو کیا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات میں اس دن کا کیا مقام ہے، نیز اس دن کیا مخصوص مذہبی عبادات اور ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔

شب برات کیا ہے؟

شب برات کو ابتدائے اسلام سے ایک خاص مقام حاصل ہے۔ شب برات فارسی زبان کا لفظی مرکب ہے، جس کے معنی ہیں برات یا نجات کی رات۔ اس رات کو شبِ برات اس لیے کہتے ہیں کیونکہ بعض روایات کے مطابق اس رات کو اللہ تعالیٰ بڑی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے نجات دیتا ہے۔

اسلامی کیلنڈر کے مطابق رمضان سے پہلے آنے والے مہینے شعبان کی پندرہویں شب ”شب برأت“ کہلاتی ہے۔

شب برات کی فضیلت

تقریبا دس صحابہ کرامؓ سے اس رات کے متعلق احادیث منقول ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پرموجود نہ پایا تو تلاش میں نکلی، دیکھا کہ آپ جنت البقیع کے قبرستان میں ہیں، پھرمجھ سے فرمایا کہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتاہے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ اس رات میں اس سال پیداہونے والے ہربچے کا نام لکھ دیا جاتاہے، اس رات میں اس سال مرنے والے ہرآدمی کانام لکھ لیا جاتا ہے، اس رات میں تمہارے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اورتمہارارزق اتاراجاتاہے۔

اس رات محروم ہونے والے کون ہیں؟

ایک روایت میں ہے کہ اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات اشخاص کے وہ یہ ہیں۔ مشرک، والدین کا نافرمان، کینہ پرور، شرابی، قاتل، شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا (تکبر کرنے والا) اورچغل خور، ان سات افراد کی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم سے توبہ نہ کرلیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت میں منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیا کرو اور دن میں روزہ رکھاکرو، اس رات سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان ہوتا ہے کون ہے جو گناہوں کی بخشش کروائے؟ کون ہے جو رزق میں وسعت طلب کرے؟ کون مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکاراحاصل کرناچاہتاہو؟

اس رات کیا کرنا چاہئے؟

ان احادیث کریمہ اورصحابہ کرام ؓاوربزرگانِ دینؒ کے عمل سے ثابت ہوتاہے کہ اس رات اچھے اعمال زیادہ سے زیادہ اچھے اعمال کرنے چاہئیں۔

اس رات شب بیداری میں تلاوت، ذکر الٰہی، نماز، قبرستان کی زیارات وغیرہ مختلف روایات سے ثابت ہیں۔

دنیا میں کہاں کہاں شب برات منائی جاتی ہے؟

پاکستان کے علاوہ مشرق وسطی، بعض عرب ممالک جیسے فلسطین، مصر، تیونس، الجزائر، بھارت، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، وسطی ایشیا میں شب برات جوش و جذبے کے ساتھ اور مقامی ثقافتی رنگوں کے ساتھ منائی جاتی ہے۔