جامعہ اُردو کے نئے VC نے آتے ہی اہم عہدوں پر متنازعہ افسران تعینات کر دیئے

جامعہ اُردو کے نئے VC نے آتے ہی اہم عہدوں پر متنازعہ افسران تعینات کر دیئے

کراچی: جامعہ اردو کے مستقل تعینات ہونے والے وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر عطاء نے بدھ 25 مئی کو چارج لیتے ہی ایک گھنٹے میں تین افسران کو ہٹا کر دو متنازعہ افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کر دیا،توقع کی جارہی تھی کہ مستقل وائس چانسلر کی تعیناتی کے بعد موجودہ سیٹ اپ میں تبدیلی کئے بغیر رجسٹرار، ناظم امتحانات اور خازن کے عہدوں کیلئے اشتہار جاری کیا جائے گا تاہم اس کے برعکس تعیناتیاں کی جانے لگی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جامعہ اردو کے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر عطاء نے تعینات ہونے کے بعد سب سے اچھا کام متنازعہ و خلاف ضابطہ سیکرٹری برائے دفتر شیخ الجامعہ شرجیل نوید کو ہٹا کر جامعہ کے مستقل پرسنل سیکرٹری برائے وائس چانسلر رحیم بخش کو اصل عہدے پر تعینات کر دیا۔ جس کے لیئے رجسٹرار نے مجاریہ نمبر 2029 جاری کیا ہے۔ رحیم بخش جمعرات 26 مئی کو ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

اس کے علاوہ شیخ الجامعہ کے حکم سے رجسٹرار نے قائم مقام و متنازعہ ترین خازن دانش احسان کو ہٹا کر ان کی جگہ ایک اور متنازعہ افسر ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس عاصم بخاری کو قائم مقام خازن کا چارج دے دیا ہے۔

عاصم بخاری کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ماضی میں اسلام آباد کیمپس میں ڈپٹی ٹریژرار کے عہدے پر کام کرتے رہے ہیں جہاں عاصم بخاری پر اسلام آباد کمپیس میں مبینہ طور پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام تھا۔ عاصم بخاری پر اسلام آباد کیمپس میں 15 کروڑ روپے کرپشن کا الزام ہے اور ان کے خلاف انکوائری اب بھی زیر التواء ہے۔ عاصم بخاری کو ماضی میں کرپشن کے الزامات پر اکاؤنٹنٹ اور دیگر اہم عہدوں سے ہٹایا گیا تھا۔

عاصم بخاری اس سے پہلے بھی جامعہ اردو کے قائم مقام خازن تعینات رہے ہیں۔ جن کو یکم فروری 2020 کو سابق وائس چانسلر ڈاکٹر عارف زبیر نے تعینات کیا تھا۔ جس کے بعد خاتون وائس چانسلر ڈاکٹر روبینہ مشتاق نے ان کو دوبارہ ہٹا کر ان کی جگہ واپس دانش احسان کو عہدے پر تعینات کر دیا تھا جن کے پاس ملازمت سے زائد اثاثوں کی اطلاعات بھی ہیں۔

اس کے علاوہ وائس چانسلر کے حکم پر ڈپٹی رجسٹرار نے مجاریہ 2025 جاری کر کے قائم مقام رجسٹرار ڈاکٹر روبینہ مشتاق کو عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ صدر شعبہ نباتات پروفیسر ڈاکٹر زرینہ علی کو قائم مقام رجسٹرار تعینات کر دیا ہے۔ شعبہ حیوانیات کی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق پر بھی اگرچہ جعل سازی سے بھرتی اور ترقی کے الزامات ہیں تاہم جن کو تعینات کیا گیا ہے ان کے بارے میں بھی اطلاعات ہیں کہ وہ متعدد انکوائریوں کمیٹیوں میں رہی ہیں اور کوئی بھی انکوائری کمیٹی مکمل نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر زرینہ علی خود پروفیسر برائے باٹنی اور شعبہ باٹنی کی سربراہ بھی ہیں۔

ادھر اساتذہ کا خیال ہے کہ اگر مستقل وائس چانسلر نے بھی جس طرح رجسٹرار اور خازن کو ہٹایا ہے اس سے لگتا ہے وائس چانسلر ایک بار پھر ڈی ٹریک ہو کر کسی ایک گروپ کے زیر اثر ہو کر معاملات کو شفاف چلانے میں ناکام ہو جائیں گے۔ توقع ظاہر کی جارہی تھی کہ وائس چانسلر تعینات ہوتے ہی اگلے روز رجسٹرار، خازن اور ناظم امتحانات کی اسامیاں مشتہر کر کے مارکیٹ سے اہل افسران کا تقرر کریں گے۔

مزید پڑھیں:طویل عرصے بعد جامعہ اردو میں مستقل وائس چانسلر تعینات

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں