پاکستانی صدر کا دورہ کرغزستان اور تعلقات کی نئی بلندی

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات نہ صرف تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط اور پائیدار ہوتا جا رہا ہے۔

کرغزستان نے 20 دسمبر 1991 کو آزادی کا اعلان کیا اور پاکستان نے اسی دن اسے تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات 10 مئی 1992 کو قائم ہوئے۔ یہ تعلقات جدید ریاستوں سے کہیں پہلے کی تہذیبوں، تجارت اور عوامی  نقل و حرکت پر مبنی ہیں۔ قدیم سلک روڈ کی راہیں کاشغر، پامیر، بدخشاں اور برصغیر کو جوڑتی تھیں جن سے دونوں علاقوں کے درمیان رابطے استوار تھے  اور مشترکہ اسلامی ورثہ نے اس تعلق کو مزید فروغ دیا۔

پاکستان نے 1995 میں بشکیک میں اپنا سفارت خانہ کھولا اور تین دہائیوں سے زائد عرصے سے سیاسی، سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر مسلسل تعاون جاری ہے اور باہمی سیاسی مشاورت اور بین الحکومتی کمیشن جیسے نظامِ کار نے اس شراکت کو پختہ اور مستحکم بنایا ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کا کرغزستان کا حالیہ چار روزہ سرکاری دورہ (6 سے 9 جولائی) اس تعلق کی ایک اہم کڑی ہے، جو  21 سال بعد کسی پاکستانی صدر کا کرغزستان کا دورہ تھا۔ کرغز صدر صدر ژاپاروف دسمبر 2025 میں پاکستان آ چکے تھے اور دونوں صدور نے مشترکہ بیان میں تعلقات کی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا اور دسمبر کے دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں پر عملدرآمد کی توثیق کی۔

دونوں ممالک کے مابین توانائی کے شعبے میں تعاون خاص طور پر اہم ہے اور کاسا 1000 منصوبے کو مؤثر بنانے پر اتفاقِ رائے ہوا جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو جوڑنے والی اہم کڑی ہے۔ اس کے علاوہ کان کنی، زراعت، ٹیکسٹائل، ہلکی صنعتوں، حلال صنعت، صحت، ادویہ سازی، طبی تعلیم، ضابطہ جاتی ہم آہنگی، ویکسین اور حیاتیاتی مصنوعات کی پیداوار میں مشترکہ مواقع پر بات چیت ہوئی۔ ادویہ سازی میں مشترکہ شراکتوں، ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی، سیاحت اور بینکاری شعبے میں تعاون کی صلاحیت پر غور کیا گیا۔

دونوں ممالک کے مابین نقل و حمل کے روابط کو بہتر بنانے، رسد اور راہداری کے معاہدوں پر عملدرآمد، پاکستانی سمندری بندرگاہوں کے استعمال اور کرغزستان کی راہداری صلاحیت کو وسطی ایشیا اوریوریشین معاشی اتحاد تک رسائی کے لیے بروئے کار لانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ مال برداری کے حجم میں اضافے کے لیے اقدامات پر بات کی گئی اور تعلیم، سائنس، ثقافت، سیاحت، نوجوانوں، طبی اور عوامی صحت کے تبادلوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا گیا۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، غیر قانونی ہجرت، سائبر جرائم اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الادارہ تعاون پر اتفاق ہوا۔

کرغزستان نے پاکستان کی  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کی 2025 تا 2026 کی غیر مستقل رکنیت کے لیے تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کردار کی تعریف کی۔ دونوں نے ایران جنگ کے خاتمے کی بنیاد بننے والی اسلام آباد یادداشت کو علاقائی امن کی بنیاد قرار دیا۔پاکستان نے 2027 میں بشکیک پلس 25 عالمی پہاڑی سربراہی اجلاس کی حمایت کی جبکہ کرغزستان نے پاکستان کو چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں  میں شرکت کی دعوت دی، جسے قبول کر لیا گیا۔صدر زرداری نے کرغز عوام کے گرمجوشی سے استقبال کا شکریہ ادا کیا اور کرغز صدر کو پاکستان آنے کی دعوت دی، جسے قبول کر لیا گیا۔

یہ دورہ صرف سفارتی رسم نہیں بلکہ تزویراتی وژن کا عکاس ہے۔ پاکستان اور کرغزستان دونوں ایس سی او  اورای سی او کے فعال ارکان ہیں جو اقوام متحدہ کے منشور کے باب 8 کے تحت قائم ہیں۔ یہ تنظیمیں علاقائی معاشی تعاون، روابط اور استحکام کو فروغ دیتی ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن اسے وسطی ایشیا کے لیے قدرتی دروازہ بناتی ہے۔

گوادر پورٹ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو  کا مرکزی حصہ ہے، جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کا کلیدی جزو بھی ہے۔ 2013 میں چین کے وژن کے تحت شروع ہونے والا یہ منصوبہ وسطی ایشیا کو بحرِ ہند سے جوڑتا ہے اور کرغزستان جیسے خشکی میں گھرے ہوئے ملک کے لیے یہ راستہ انتہائی اہم ہے۔ سی پیک کے تحت پاکستان میں توانائی، سڑکوں، ریلوے اور بندرگاہوں کی ترقی ہوئی ہے، جو علاقائی تجارت کو فروغ دے گی۔

کاسا 1000منصوبہ بھی اسی علاقائی رابطہ کاری کا اہم حصہ  اور ہ 1.2 ارب ڈالر کا وہ منصوبہ ہے جو کرغزستان اور تاجکستان کی آبی بجلی افغانستان اور پاکستان تک منتقل کرے گا۔ 1300 میگاواٹ بجلی کی فراہمی سے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری ہوں گی جبکہ کرغزستان کو آمدنی حاصل ہو گی۔ 2004 سے زیرِ غور یہ منصوبہ 2025 کے معاہدوں کے بعد نئی رفتار حاصل کر رہا ہے۔ افغانستان میں اس کے حصے پر دوبارہ کام شروع ہونے کی توقع ہے۔ یہ منصوبہ بی آر آئی سے بھی منسلک ہے، جو علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنائے گا۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن بھی توانائی کے تحفظ کا ایک اہم عنصر ہے۔ ایرانی حصہ مکمل ہو چکا ہے اور حالیہ پیش رفت سے پاکستان کو کم قیمت گیس ملنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ یہ منصوبہ علاقائی توانائی کے تحفظ کو مزید مستحکم کرے گا۔ دسمبر 2025 میں 15 یادداشتِ مفاہمت پر دستخط ہوئے جن میں تجارت، توانائی، کان کنی، زراعت، صحت، تعلیم اور سیاحت شامل ہیں ۔پاکستان ادویات، ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان اور فرنیچر برآمد کرتا ہے جبکہ کرغزستان سے خشک پھلیاں اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی جاتی ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور مذہبی روابط بھی گہرے ہیں۔ اسماعیلی مسلم برادری کے رہنما واخان وادی سے پاکستان آئے اور جو آگے چل کر گلگت بلتستان کی تعلیم اور ترقی کا اہم سبب بنا۔ صدر زرداری کا ثقافتی مرکز کا دورہ بھی اسی ثقافتی قربت کی عکاسی کرتا ہے۔ عوامی روابط، تعلیم اور نوجوانوں کے تبادلے اس شراکت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ دہشت گردی اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششیں بھی جاری ہیں۔

پاکستان کو کرغزستانی تاجروں کے لیے مزید سہولتیں فراہم کرنی چاہییں، جن میں کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں تک رسائی، ویزے کے حصول میں آسانی، زمینی راستوں کی بہتری اور سرمایہ کاری کی سہولتیں شامل ہیں۔ کرغزستان معدنیات، آبی بجلی اور زراعت میں مضبوط ہے جبکہ پاکستان ٹیکسٹائل، ادویہ سازی اور زرعی مصنوعات کی پراسیسنگ میں مہارت رکھتا ہے۔ مشترکہ کاروباری منصوبے، براہِ راست پروازیں اور کاروباری فورمز تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ دنیا سکڑ رہی ہے اور ہمسایگی بہترین بنیاد ہے۔ سلک روڈ کے ذریعے ہم پہلے بھی ایک دوسرے کے زیادہ قریب تھے، اب جدید ٹیکنالوجی اور مشترکہ تاریخ کے ذریعے مزید قریب آنے کا وقت ہے۔ پاکستان کم قیمت پر اشیاء فراہم کر سکتا ہے اور مختلف صنعتی شعبوں میں تحقیق اور تعاون کو فروغ دے سکتا ہے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کا ذریعہ بنے گا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے باہمی تعلقات اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ مختلف خطوں کے ممالک مشترکہ مفادات کی بنیاد پر کس طرح ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ صدر زرداری کا یہ دورہ اسی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے جو دونوں ممالک کو خوشحالی اور استحکام کی جانب لے جائے گا۔ علاقائی تنظیمیں، بڑے ترقیاتی منصوبے اور باہمی عزم مل کر ایک نئے اور روشن مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔

Related Posts