امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں ایک بار پھر خطرناک زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فیصلہ کرنے کے مرحلے میں ہیں اور آنے والے دنوں میں بہت بڑی چیزیں سامنے آسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے لیے اپنے مختلف اختیارات کا ذکر کیا، جن میں سخت معاشی دباؤ، معاہدہ اور ایران کی مکمل تباہی بھی شامل ہیں۔ اسی گفتگو میں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے لیے آمادگی کا بھی عندیہ دیا۔ اس صورتحال سے ایک مرتبہ پھر واضح ہوتا ہے کہ امریکی پالیسی میں فوجی دباؤ اور مذاکرات، دونوں راستے بیک وقت زیر غور ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو تقریباً سات ماہ گزر چکے ہیں۔ دی گارڈین کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا، جبکہ ایران کی جانب سے امریکی مفادات کو خطے میں نشانہ بنائے جانے کے بعد وسیع تر جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ٹرمپ کا کیمپ ڈیوڈ سے اچانک واپس واشنگٹن آنا بھی اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اس پیش رفت کے ساتھ ایران کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ امریکا نئی بمباری کی تیاری کررہا ہے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
تاہم صورتحال کا دوسرا رخ سفارت کاری ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی صدر سے ممکنہ ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے اور اس سے قبل امریکی صدر یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ البتہ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے براہ راست مذاکرات کی بحالی کی تصدیق نہیں ہوئی اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ کسی نئے مذاکراتی عمل سے قبل ایران کی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔
اس بحران میں پاکستان کا کردار بھی اہم ہوگیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپریل کے بعد متعدد مرتبہ ایران کا دورہ کیا اور ایران کے ساتھ رابطے برقرار رکھے، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سعودی اور ترک قیادت کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں۔ یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ اپنے دیرنہ و تاریخی تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے کے باعث نئی عالمی کشیدگی اور پیچیدگی کا سامنا کررہا ہے۔اسی دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ میں طے پانے والا باہمی دفاعی معاہدہ بھی علاقائی صورتحال میں ایک نیا عنصر بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی مزید بڑھی تو اس معاہدے کے باعث پاکستان پر عملی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ایران کی طرف سے امریکا سے مذاکرات کے لیے متعدد شرائط سامنے آئی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق تہران نے جنگ بندی، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے جیسے مطالبات کو نمایاں طور پر سامنے رکھ دیا ہے۔ ایرانی حکام نے امریکا تک 7شرائط پہنچانے کی بھی تصدیق کی، تاہم تمام شرائط باضابطہ طور پر منظرعام پر نہیں لائی گئیں۔ اس لیے ان مطالبات کو کسی ایک حتمی چار یا سات نکاتی معاہدے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا۔
اس دوران آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مذاکرات کی کامیابی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ الجزیرہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کا ایک اہم مرکز یہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کن شرائط کے تحت جاری ہوگی۔ ستمبر میں ایران اور عمان کے درمیان علاقائی ممالک کی مشاورت کے باعث مذاکرات مؤخر بھی ہوئے۔
تازہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف 17 اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے قبل اوسطاً روزانہ تقریباً 125 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔ اس کے باوجود خلیجی تیل کی کچھ برآمدات جاری ہیں۔
امریکی حکومت نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اہم ارکان پر مشتمل بنیادی وفد کو نیویارک آنے کی اجازت دے دی ہے، اگرچہ وفد کی نقل و حرکت اور دیگر سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اس فیصلے کی وجہ اقوام متحدہ کے میزبان ملک کی ذمہ داریاں قرار دی ہیں۔اس سے یہ امکان ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سفارتی رابطوں کے لیے ایک اہم موقع بن سکتی ہے، خصوصاً اس پس منظر میں کہ صدرٹرمپ نے ایرانی ہم منصب پزشکیان سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایران جنگ کا یہ پہلو بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اس وقت بھاری سیاسی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ امریکی وسط مدتی انتخابات 3 نومبر 2026 کو ہوں گے، جن میں ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستیں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستیں انتخاب کے لیے پیش ہوں گی اور خدشہ یہ ہے کہ صدر ٹرمپ ایران جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث یہ الیکشن ہار جائیں گے، تاہم یہ سوال بھی اتنی زیادہ اہمیت نہیں رکھتا جتنا کہ سوال کہ صدر ٹرمپ ایران کے بارے میں اپنے ’’بڑے فیصلے‘‘ کو فوجی کارروائی یا ایران کی تباہی کی طرف لے جاتے ہیں یا مذاکرات کے راستے کو مزید موقع دیتے ہیں۔ ایک طرف امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی برقرار ہے، دوسری طرف پاکستان، عمان، قطر اور دیگر ممالک کے ذریعے سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
اس دوران عالمی برادری کیلئے سب سے تشویشناک معاملہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں مزید رکاوٹ عالمی توانائی، تجارت اور قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہے۔ اسی لیے موجودہ مرحلے میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کے بجائے سفارتی راستے کی کامیابی نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے اہم ہوگی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
