اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تاحال دنیا کے کئی بڑے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کا تنازعہ، جو جنوبی ایشیا سمیت پوری دنیا کی گردن پر کسی تلوار کے لٹکنے سے کم نہیں سمجھا جاسکتا اور جو عالمی برادری کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہی نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر وہ خطرہ ہے جس کے باعث پاکستان اور بھارت جیسی 2 ایٹمی قوتیں نہ صرف ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئیں بلکہ ایک دوسرے کے خلاف فوجی آپریشن بھی کیے جس سے پوری دنیا ایٹمی جنگ کے خطرے سے سہم سی گئی ، حتیٰ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا کہ دو ایٹمی ممالک کے مابین میں نے جنگ رکوائی جس سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن سکتے تھے۔ تاہم پاکستان اور بھارت کے مابین مقبوضہ کشمیر کے جاری تنازعے کو اقوام متحدہ کی ایک اور بڑی ناکامی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کا قتل عام بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک چاہیں تو کسی بھی قوم کو خاک و خون میں نہلا دیتے ہیں، مگر ان کے خلاف قراردادیں ویٹو کر دی جاتی ہیں۔
ویٹو پاور آج بھی اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ہے۔ 1945 کے چارٹر کے تحت 15 رکنی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے کسی بھی قرارداد کی منظوری روک دیں۔ آرٹیکل 27 کے تحت اہم معاملات پر 9مثبت ووٹوں کے ساتھ تمام مستقل ارکان کی رضامندی ضروری ہے، اور ویٹو پاور کا حامل کوئی ایک ملک بھی پورے عمل کو روک سکتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز اور بعض اوقات بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا سبب بننے والا کوئی بھی عالمی مسئلہ برسہا برس اور بعض اوقات عشروں تک حل طلب رہتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جو گزشتہ 79سال سے حل طلب ہے اور جس کا آغاز 1947 میں پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی ہوگیا تھا۔
رواں صدی میں واپس آئیں تو سال 2023 کے بعد غزہ میں قتل و غارت کے حوالے سے منظور ہونے والی متعدد قراردادیں بھی صرف اس لیے بے اثر رہیں کہ انہیں چارٹر کے چیپٹر 5 یا 6کے تحت پاس کیا گیا، جن پر عملدرآمد کا کوئی مؤثر طریقہ کار نہیں۔ امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی کئی قراردادوں کو ویٹو کیا۔ 2024 میں آٹھ ویٹو اور 2025 میں چار ویٹو ریکارڈ ہوئے، جبکہ سلامتی کونسل نے 2025 میں صرف 44 قراردادیں منظور کیں، جو 1991 کے بعد سب سے کم ہیں۔
آئندہ ماہ 8ستمبر 2026 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81 واں اجلاس شروع ہوگا جس میں سلامتی کونسل کی اصلاحات پر بین الحکومتی مذاکرات(آئی جی این) جاری رکھے جائیں گے، جو اب 18ویں سال میں داخل ہو رہے ہیں۔ بحث کا مرکز ویٹو کی حدود، اراکین میں اضافہ اور علاقائی نمائندگی جیسے عوامل ہوں گے۔ فرانس اور میکسیکو کی مشترکہ پہل کے تحت نسل کشی یا بڑے پیمانے کے جرائم کی صورت میں ویٹو سے رضاکارانہ دستبرداری کی بات اب تک 118 ممالک کی حمایت حاصل کر چکی ہے اور دو تہائی اکثریت کے قریب ہے۔
چارٹر میں ویٹو کے خلاف کوئی براہ راست آرٹیکل نہیں، بلکہ یہ خود آرٹیکل 27 میں درج ہے۔ تبدیلی کے لیے آرٹیکل 108 کے تحت جنرل اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی توثیق درکار ہے، جس میں تمام پانچ مستقل ارکان کی رضامندی لازمی ہے۔ آرٹیکل 109 کے تحت چارٹر پر نظرثانی کے لیے جنرل کانفرنس بلائی جا سکتی ہے، جس کے لیے بھی آخر میں ویٹو پاور والے ممالک کی منظوری ضروری ہے، اس لیے تکنیکی اعتبار سے عالمی طاقتوں کی ویٹو پاور ختم یا محدود کرنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔
پاکستان کا واضح مؤقف ہے کہ ویٹو پاور کسی ملک کو حاصل نہیں ہونی چاہیے اور ہمارا وطن “اصلاح سب کے لیے، مراعات کسی کے لیے نہیں” کے اصول پر قائم ہے۔ پاکستان “یونائٹنگ فار کنسنسز” گروپ کا حصہ ہے، جس میں اٹلی، ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، ساؤتھ کوریا، میکسیکو، اسپین، ترکیہ، انڈونیشیا، مالٹا اور سین مارینو جیسے ممالک شامل ہیں۔ یہ گروپ سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان کے اضافے کی مخالفت کرتا ہے اور مستقل منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے کی بات کرتا ہے تاکہ کثیر المقاصد کنسنسز کے ساتھ ویٹو کا اثرنہ صرف کم کیا جاسکےبلکہ اس کے طریقہ کار میں بھی ترامیم کی جاسکیں۔
عالمی سطح پر حمایت کی بات کی جائے تو پاکستان کے مؤقف کو تقویت دینے والے ممالک میں افریقی گروپ، چھوٹے جزیرے والے ترقی پذیر ممالک، نورڈک ممالک، اور کئی ترقی پذیر اقوام شامل ہیں۔ فرانس اور میکسیکو کی ویٹو محدود کرنے کی پہل بھی پاکستان کے موقف سے ہم آہنگ ہے۔ تاہم چین اور روس جیسے ممالک ویٹو کو چارٹر کی بنیاد قرار دیتے ہیں، جبکہ امریکا سلامتی کونسل کے انفراسٹرکچر میں کسی بھی تبدیلی کی شدید مخالفت کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب تک ویٹو کا طوق دنیا کے گلے سے نہیں اترے گا، عالمی مسائل کے حل میں رخنہ اندازی ہوتی رہے گی اور غزہ جیسا قتل عام اور خون ناحق جاری رہے گا۔ جنرل اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں اگر رکن ممالک متحد ہو کر سیاسی دباؤ بڑھائیں تو شاید امن کے کچھ راستے ہموار ہوسکیں اور شاید امن کی کوئی کرن بھی نظر آسکتی ہے، ورنہ سلامتی کونسل 1940 کی دہائی کی قید میں ہی قید رہے گی، پھر بھی پاکستان جیسے ممالک پر جدوجہد لازم ہے، بقول شاعر:
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب؟
آؤ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

