افغان سرزمین سے دہشت گردی کا عفریت

تازہ ترین

تازہ ترین

افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا معاملہ اب محض دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تنازع نہیں رہا بلکہ علاقائی امن، بین الاقوامی سلامتی اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے منسلک ہوچکا ہے۔ پاکستان مسلسل افغان طالبان حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیاں پاکستان کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ تاہم، افغان طالبان نے کبھی اس بات کو تسلیم نہیں کیا اور اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ قرار دیتے رہے، حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور ان کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ یہی اختلاف ہے اور پاکستان کا مؤقف ہے کہ سفارتی احتجاج، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مذاکرات کے باوجود افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر اور قابلِ تصدیق کارروائی کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب طالبان حکومت پاکستان کے سرحد پار حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے، حالانکہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کا پورا اختیار حاصل ہے۔ ستمبر 2026 میں دونوں ممالک کے درمیان فضائی حملوں اور سرحدی جھڑپوں میں شدت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارتی کوششیں تاحال مستقل حل فراہم نہیں کرسکیں۔

اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو پہنچ رہا ہے، جو پہلے ہی غربت، بے روزگاری، غذائی قلت اور بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی امدادی اداروں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری سرگرمیوں کے باوجود افغانستان کی معاشی مشکلات برقرار ہیں۔ افغان طالبان کی خواتین کی تعلیم، روزگار اور شہری آزادیوں سے متعلق پالیسیوں نے بھی عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے اور افغان عوام کے ساتھ اس کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط موجود ہیں۔ تاہم، طالبان حکومت کی پالیسیوں اور دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات کا خمیازہ عام افغان شہریوں کو نہیں بھگتنا چاہیے۔

افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی محض پاکستان کا دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی 2026 کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم سب سے بڑے دہشت گرد گروہوں میں شامل ہے، جبکہ القاعدہ سمیت دیگر تنظیموں کی موجودگی بھی علاقائی سلامتی کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، لیکن ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بدستور پاکستان کیلئے خطرہ ہیں۔ یہ شواہد افغان طالبان حکومت کیلئے اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری کو مزید اہم بناتے ہیں۔

پاکستان کا یہ مؤقف بھی اہم ہے کہ بھارت افغان طالبان کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی روابط کو اپنے علاقائی مفادات کیلئے استعمال کرسکتا ہے، گو کہ افغان طالبان کو شاید اس کا ادراک نہ ہوسکے اور غیر دانستہ طور پر کہیں وہ بھارت کے چنگل میں پھنستے نہ چلے جائیں۔ پاکستان نے ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کو بیرونی مالی اور عملی معاونت فراہم کیے جانے کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جن میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گھناؤنے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسئلہ کشمیر ایک بنیادی تنازع ہے، جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ بھارت کی موجودہ حکومت کی پاکستان سے متعلق پالیسیوں اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل عدم اعتماد نے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں افغانستان میں بھارت کے بڑھتے ہوئے سفارتی روابط پاکستان کے تزویراتی خدشات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ تاہم، افغانستان کو علاقائی طاقتوں کی باہمی مسابقت کا میدان بنانے کے بجائے ایک خودمختار اور پُرامن ریاست کے طور پر مستحکم کرنا تمام متعلقہ ممالک کے مفاد میں ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں، پولیس اور عام شہریوں کی ہلاکتیں اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات اور دوست ممالک کی ثالثی کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں، جن میں قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور چین کے سفارتی کردار قابلِ ذکر ہیں۔ تاہم، ان تمام کاوشوں کے باوجود حالیہ سرحدی کشیدگی ظاہر کرتی ہے کہ محض عارضی جنگ بندی مسئلے کا مستقل حل نہیں، جب تک دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے قابلِ عمل اقدامات نہیں کیے جاتے۔

افغان طالبان کو دوحہ معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2593 کے تحت اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔ قرارداد 2593، جو 30 اگست 2021 کو منظور ہوئی، طالبان سے مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کو دھمکانے یا اس پر حملے کیلئے استعمال نہ ہونے دی جائے اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت روکی جائے۔ پاکستان کا مطالبہ بھی اسی بین الاقوامی اصول سے مطابقت رکھتا ہے کہ کوئی ملک اپنی سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے۔

پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، تاہم سرحد پار فوجی کارروائیوں کے دوران شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری بھی ناگزیر ہے۔ حالیہ فضائی حملوں کے حوالے سے افغان حکام نے شہری ہلاکتوں کے الزامات عائد کیے ہیں جس کی تحقیق بھی کرائی جاسکتی ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں تک محدود رہی ہیں۔ ضروری ہے کہ افغان طالبان پاکستان کے ساتھ اپنے اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں، ٹی ٹی پی سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کریں اور اپنی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکیں۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کا استحکام پاکستان کی سلامتی، وسطی ایشیا کے ساتھ تجارتی روابط اور پورے خطے کی معاشی ترقی کیلئے اہم ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ افغان عوام کو عالمی تنہائی اور معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے انسانی امداد کا تسلسل اور دہشت گردی کے خاتمے کو سیاسی اختلافات پر ترجیح دی جائے اور برادرانہ تعلقات کو پائیدار امن کی بنیاد بنایا جائے۔

Related Posts