شاہی خاندان کی تاریخی و قیمتی اشیاء کی چوری کا معمہ! ملزمان گرفتار، مسروقہ سامان برآمد

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وفاقی دارالحکومت میں پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے سیکٹر ایف ایٹ تھری میں نواب آف بہاولپور کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ پر ہونے والی ہائی پروفائل چوری کی واردات کا سراغ لگا لیا ہے۔ پولیس نے اس کارروائی کے دوران 6 ملزمان کو گرفتار کرکے چوری شدہ قیمتی اور تاریخی سامان کا 70 سے 80 فیصد حصہ کامیابی سے برآمد کر لیا گیا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور سیف سٹی کی مدد سے گرفتاری

مارگلہ پولیس کی ٹیم نے اس پیچیدہ کیس کو حل کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، سیف سٹی کے نگران کیمروں اور ہیومن انٹیلی جنس کا بھرپور استعمال کیا۔ پولیس نے جدید ذرائع کی مدد سے واردات میں ملوث ملزمان کا تعاقب کیا اور چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا۔

ایس ایس پی آپریشنز کی پریس کانفرنس اور تفصیلات

ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد قاضی علی رضا نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے چرایا گیا خاطر خواہ اور قیمتی سامان برآمد کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس سنگین جرم میں ملوث دیگر روپوش ملزمان کی گرفتاری اور باقی ماندہ بیش قیمت اشیاء کی تلاش کے لیے تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔

قاضی علی رضا کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہریوں کو ان کے قیمتی اثاثوں سے محروم کرنے والے مجرمانہ عناصر کے خلاف اسلام آباد پولیس بلا امتياز اور آہنی ہاتھوں سے کارروائیاں جاری رکھے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پکڑے گئے ملزمان کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا اور انہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔

پس منظر: شاہی خاندان کا قیمتی اور تاریخی ورثہ چوری ہوا تھا

یاد رہے کہ یکم اکتوبر 2026 کو وفاقی دارالحکومت کے انتہائی پوش سیکٹر ایف-8/3 میں سابق ریاست بہاولپور کے شاہی خاندان کی رہائش گاہ پر چوری کی یہ بڑی واردات پیش آئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ایک گھریلو ملازم نے اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے اس واردات کو انجام دیا اور تقریباً دو کروڑ روپے مالیت کے قیمتی تاریخی نوادرات اور خاندانی ورثے پر ہاتھ صاف کر لیا تھا۔

متاثرہ رہائش گاہ نواب صلاح الدین عباسی کے صاحبزادے پرنس بہاول عباس خان عباسی کی ہے جہاں سے چوری ہونے والی اشیاء انتہائی نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل تھیں۔ ان میں چاندی کی تخت نما کرسی، چاندی کی سیڑھیاں، چاندی کے پیالے، سونے کی پلیٹیں، مختلف نایاب مجسمے، ریاستِ بہاولپور کے شاہی نشان والی سونے کی اشیا، چاندی کا تاریخی فریم، اور تاریخی نوعیت کی پرانی بندوقیں اور تلواریں شامل تھیں۔

شہر میں بڑھتی ہوئی وارداتیں اور چیلنجز

واضح رہے کہ یہ ہائی پروفائل واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا تھا جب دارالحکومت میں حالیہ دنوں کے دوران چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، رواں ہفتے پیش آنے والے آٹھ مختلف واقعات میں نقدی، قیمتی اشیا اور تاریخی ورثے سمیت کل تین کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا سامان چوری ہو چکا ہے ایسے میں پولیس کی یہ فوری اور بڑی کامیابی ایک اہم پیشرفت قرار دی جا رہی ہے۔

Related Posts