شی جن پنگ کا دورہ امریکا اور خطے کے بدلتے حالات

تازہ ترین

تازہ ترین

عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور بین الاقوامی منظرنامے میں تیزی سے بدلتی ترجیحات کے دوران ایک طرف چینی صدر شی جن پنگ کے واشنگٹن پہنچنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا، ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، امریکی فضائیہ کے بینڈ نے دھنیں بجائیں اور دو بی ون بمبار طیاروں نے فضائی مظاہرہ کیا، امریکی تاریخ میں شی جن پنگ ان چند غیر معمولی صدور میں شامل ہوگئے ہیں جن کا امریکی صدر نے خود ائیرپورٹ پرپہنچ کر ریڈ کارپٹ پر استقبال کیا، اور اس کے بعد کے مناظر اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ امریکا چین کو اپنے برابر سمجھنے پر مجبور ہوگیا اور وہی مقام اس بار عطا ہوتا ہوا نظر آیا۔ جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے دورہ نیویارک انتہائی مختصر رہا اور جنرل اسمبلی میں دوران تقریر 70 سے زائد ممالک کے نمائندگان نے واک آؤٹ کرکے غم و غصے کا اظہار کیا، سڑکوں پر لوگوں نے قتل عام کے خلاف احتجاج بھی کیا۔

بلاشبہ یہ دونوں مناظر اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک طرف اسرائیل کا امریکا میں گراف گر جانے کی وجہ سے الیکشن سے قبل عوامی طو رپر اسرائیل کے ساتھ امریکی صدر غالباً نظر نہیں آنا چاہتے جو عالمی طاقتوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے باوجود برسہا برس سے اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امریکا سے ایران جنگ یا غزہ سمیت کسی بھی عالمی محاذ پر نیکی کی توقع نہیں کی جاسکتی بلکہ غزہ اور ایران میں عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے عوام الناس کا جتنا خون ناحق ہوا ، اس کے باوجود بھی بظاہر یہ جنگ جلد اختتام کی جانب بڑھتی دکھائی نہیں دیتی، پھر بھی یہ کہنا درست ہوگا کہ چینی صدر کے دورے کے بعد ایران کے محاذ پر بھی کسی نہ کسی مثبت پیشرفت کی توقع کی جاسکتی ہے۔

درحقیقت شی جن پنگ کا دورہ واشنگٹن 11 برس بعد امریکہ کا ان کا پہلا ریاستی دورہ تھا۔ ٹرمپ کا ہوائی اڈے پر ذاتی طور پر چینی صدر کا استقبال کرنا امریکی صدارتی روایت کے اعتبار سے غیر معمولی اقدام مانا گیا۔ 1962 میں صدر جان ایف کینیڈی کے دور میں واشنگٹن کے ہوائی اڈوں پر غیر ملکی سربراہان کے استقبال کی ایسی مثالیں موجود تھیں، تاہم حالیہ دہائیوں میں یہ روایت معمول نہیں رہی، جس سے ظاہر ہوتا رہا کہ امریکا اپنے سپر پاور ہونے کے زعم میں مبتلا رہا ہے اور کسی قوم کے سربراہ کو اپنے متوازی لانے یا ظاہرکرنےکا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ اس لیے موجودہ استقبال کو محض رسمی کارروائی کے بجائے واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات کو سنبھالنے کی ایک علامتی کوشش کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔اس دورے کے فوری اثرات میں یہ اہم حقیقت بھی شامل ہے کہ دورے کے دوران دونوں ممالک نے تجارتی جنگ بندی میں مزید 2ماہ کی توسیع اور 30 ارب ڈالرز مالیت کی اشیا پر محصولات میں کمی پر اتفاق کرلیا۔ جنگ بندی میں توسیع کا مقصد مزید اقتصادی مذاکرات کے لیے مہلت کا حصول ہے جبکہ دونوں ممالک کے مابین نایاب معدنیات، زرعی مصنوعات، محصولات اور ٹیکنالوجی سمیت کئی معاملات اب بھی زیر بحث ہیں ۔

مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران بھی واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اہم موضوعات رہے اور دونوں ملکوں کے درمیان بنیادی مسابقت ختم نہیں ہوئی، لیکن موجودہ حکمت عملی میں ایک دوسرے سے مکمل ٹکراؤ کی بجائے رابطے اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو قابو میں رکھنے کی کوشش نمایاں ہے۔ چینی صدر کے دورے کے اختتام پر دونوں ممالک نے احترام، برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر ایک تعمیری و تزویراتی استحکام کی سمت آگے بڑھنے پر اتفاق کا بھی اظہار کیا۔

امریکی عوام کی رائے میں بھی اس وقت چین کے ساتھ مکمل محاذ آرائی کی مخالفت دیکھنے میں آئی جب شکاگو کونسل کے جولائی 2026 کے سروے میں 57 فیصد امریکی بالغ افراد نے چین کے ساتھ دوستانہ تعاون اور رابطے کی پالیسی کی حمایت کی، جبکہ 40 فیصد نے چین کی طاقت کے پھیلاؤ کو محدود کرنے کی پالیسی کو ترجیح دی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں چین کے بارے میں گزشتہ برسوں کی شدید منفی سوچ میں کچھ تبدیلی آئی ہے، اگرچہ چین اب بھی امریکی پالیسی میں ایک بڑا تزویراتی حریف تصور کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب نتن یاہو کا حالیہ دورہ ایک بالکل مختلف سفارتی منظر پیش کرتا ہے۔ وہ 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے 24 ستمبر کو نیویارک پہنچے اور چند ہی گھنٹوں بعد اسرائیل واپس روانہ ہوگئے۔ امریکی حکام کے مطابق اس دورے کے دوران ٹرمپ سے ملاقات طے نہیں تھی۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں یہ غیر معمولی طور پر مختصر قیام تھا، اگرچہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بنیادی تزویراتی تعلق بدستور برقرار ہے اور جس کا اصل سبب امریکا میں اسرائیل کا اثر رسوخ کانگریس سے لے کر وائٹ ہاؤس تک اور اسرائیلی لابی کا امریکا کے ہر محکمے میں فعال ہونا ہے، جو ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اس لیے اسے امریکی اسرائیلی اتحاد کے مدھم ہونے کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا، تاہم یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ امریکی سفارتی ترجیحات میں نتن یاہو کی موجودگی پہلے جیسی مرکزی حیثیت میں نہیں رہی۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ کئی مقامات پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور لیک شدہ خبروں کے مطابق مختلف اکابرین نے اسرائیلی وزیراعظم کے جنگی پلان پر نکتہ چینی کی کہ انہوں نے ایران پر حملے سے قبل یہ باور کرایا تھا کہ یہ مختصر جنگ ہوگی لیکن یہ جنگ قریب قریب 7ماہ گزر جانے کے باوجود بھی جاری و ساری ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی طاقتوں کی باہمی کشمکش میں کسی ایک کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے قومی مفادات، معاشی ضروریات اور علاقائی سلامتی کو سامنے رکھا جائے، اس لیے پاکستان امریکہ، چین اور روس سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور کسی جغرافیائی سیاسی محاذ آرائی کا حصہ نہیں بننا چاہتا، لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان چین کو اپنی خارجہ پالیسی کے اہم ستونوں میں شمار کرتا ہے۔

اسی تناظر میں واشنگٹن میں شی جن پنگ کا شاندار استقبال اور نیویارک میں نتن یاہو کی مختصر موجودگی پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی سبق رکھتی ہے: عالمی سیاست اب صرف مستقل اتحادوں کے بجائے مفادات، معیشت، علاقائی سلامتی اور مذاکرات کی نئی ترجیحات کے گرد تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔موجودہ عالمی حالات میں طاقت کا اصل مظاہرہ صرف فوجی برتری نہیں بلکہ سفارت کاری، معاشی استحکام، مذاکرات اور مختلف فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ جنگوں اور طاقت کی سیاست کے بجائے امن، مذاکرات، علاقائی استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کی حمایت جاری رکھے، کیونکہ اگر امریکا اور چین جیسی حریف طاقتیں بھی شدید اختلافات کے باوجود مذاکرات اور اقتصادی مفاہمت کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں تو مشرق وسطیٰ سمیت پڑوس کے ممالک کے تنازعات میں بھی طاقت کی بجائے سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دینے کی راہیں ہموار ہونی چاہئیں، گو کہ دنیا کی کچھ طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ پاکستان جیسا مضبوط ترین اور جوہری ملک کسی نہ کسی طرح مشرق وسطیٰ کے حوالے سے جنگ میں ملوث ہوجائے اور مسلمان مسلمانوں سے دست و گریباں ہوں تاکہ گریٹر اسرائیل کا ایک بڑا مقصد جنگ کیے بغیر حاصل ہوجائے ، اور یہی بات ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی باور کرائی کہ اسرائیل اور امریکا کی بھی یہی خواہش ہے کہ خطے کے مسلم ممالک آپس میں لڑپڑیں۔ ضروری ہے کہ سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک بھی اپنی معاشی ترقی، علاقائی امن اور قومی مفادات کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھا سکیں۔

Related Posts