مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطہ اس وقت تاریخ کے ایک انتہائی کٹھن اورخوفناک دور سے گزر رہا ہے جس پر جنگ کی خطرناک کالی گھٹائیں چھا چکی ہیں اور جہاں ایران اور امریکہ کے مابین بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی کشیدگی نے بین الاقوامی برادری کو ایک ہیجانیت میں مبتلا کر رکھا ہے، وہیں خطہ بھی سلامتی سے متعلق خدشات سے دوچار ہے، اس سنگین صورتحال میں پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر خطے میں امن کے پیغامبر اور ایک غیر جانبدار مصالحت کار کے طور پر پاکستان کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے مابین جنگ کی چنگاریوں کو ٹھنڈا کرنے اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی تمام تر عسکری و روایتی سفارتکاری کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا ہے اور پاکستان کی ان مصلحانہ کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف اور چیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیر نےمنگل کے روز سلامی جمہوریہ ایران کا ایک اہم اور ہنگامی دورہ کیا۔
گو کہ یہ دورہ ایران کا چوتھا دورہ تھا، لیکن یہ دورہ ایک ایسے موقعے پر کیا گیا جب امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کو خطرناک دھمکیاں دینا شروع کردی تھیں اور کسی وقت بھی جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی تھی۔ ایران کی اعلیٰ ترین قیادت کے افراد نے واضح دھمکی دی تھی کہ اگر ایران پر پابندیاں سخت کی گئیں ، اگر ایران کا تیل دنیا میں فروخت نہ ہوسکا تو آبنائے ہرمز سے ایک قطرہ تیل بھی باہر نہیں جا سکے گا اور اگر پڑوسی ممالک نے اس سخت ترین مالی پابندی میں امریکا کا ساتھ دیا تو ان کے مفادات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، لہٰذا اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اور ساتھ ہی مکالمے کا ماحول پیدا کرنے کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی ظاہراً ایرانی قیادت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ، جس کے مثبت اور بارآور نتائج جلد ہی سامنے آنے کی امید ہے بلکہ دورے کے دوران اور اس کے فوراً بعد دونوں جانب سے کشیدگی میں واضح کمی اور ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے مثبت اشارے ملنا شروع ہو گئے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں محض انفرادی سطح تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پاکستان نے شروع ہی سے خلیجی خطے کے اپنے برادر اور قریبی دوست ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ اور جامع حکمتِ عملی وضع کرنے پر زور دیا۔ ان مربوط کاوشوں کے نتیجے میں ایک 14 نکاتی سفارتی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جو اب دونوں فریقین کے سامنے باہمی کشیدگی ختم کرنے کیلئے ایک قابلِ عمل حل کے طور پر موجود ہے۔ یہ روڈ میپ ایران اور امریکہ کے مابین موجودہ بحران کے خاتمے اور مستقل امن کی راہیں ہموار کرنے کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے اور جس کے تحت دونوں فریقین کو ایسے اقدامات کرنے کی ترغیب دی گئی ہے جس سے عسکری اشتعال انگیزی کا خاتمہ ہو اور مذاکرات کی میز پر تعمیری گفتگو کا آغاز ہو سکے۔
پاکستان کے لیے خلیجی خطے میں امن کا قیام پاکستان کے مفادات کے تحفظ اور قومی سلامتی کا بھی معاملہ ہے کیونکہ پاکستان خلیجی ممالک میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا عسکری کارروائی سے براہِ راست اور گہرے طور پر متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان کے ان ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلقات کے ساتھ ساتھ مضبوط تجارتی اور اقتصادی روابط بھی قائم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی شہری مقیم ہیں، جو پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں تقریباً 17 لاکھ سے زائد پاکستانی برسرِ روزگار ہیں اور ان کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں اہم ترین کردار ادا کرتی ہیں۔ خلیج میں کسی بھی ممکنہ جنگ یا بدامنی کی صورت میں ان لاکھوں پاکستانیوں کا مستقبل اور روزگار شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سب سے زیادہ متحرک نظر آتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے دوران خلیجی ممالک، بالخصوص متحدہ عرب امارات نے جس اعلیٰ درجے کے صبر، تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ بلاشبہ قابلِ ستائش ہے۔ ان ممالک کو امریکی بیسز کی وجہ سے براہِ راست فضائی اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باوجود ان کی قیادت نے عسکری جوابی کارروائی کے بجائے سفارتی رویے کو برقرار رکھا اور دانشمندی سے کام لیا۔ اگر یہ ممالک مشتعل ہو کر جوابی عسکری کارروائیاں شروع کر دیتے تو خطے میں حملوں اور جوابی حملوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا جس پر قابو پانا ناممکن ہو جاتا اور پورا خطہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ جاتا اور دوبارہ ریگستانی دور کا حصہ بن جاتا۔ اس بات کا سہرا پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے سپہ سالار کے سر جاتا ہے کہ اس نے خاموش سپاہی کے طور پر اپنی بھرپور مصالحتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا اور خلیجی قیادت کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ جوابی کارروائی کے بجائے تعمیری سفارت کاری کو موقع دیں۔
اس پورے تنازعے کا سب سے اہم اور حساس ترین نکتہ آبنائے ہرمزکی بحالی اور اس کا کھلا رہنا ہے جبکہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے دورے ایران کے دوران ہی عمان اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جو کہ فیلڈ مارشل کی سفارتی حکمت عملی اور مصالحتی کوششوں کا ایک انتہائی مثبت اور فوری نتیجہ ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف انتہائی سخت اور کمر توڑ معاشی پابندیوں کے نفاذ کا عمل، جس کا آغاز گزشتہ شب امریکا کے اعلان کردہ ڈی ڈے سے ہوا، تہران کو مالی طور پر مفلوج کرنے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم امید یہ ہے کہ خلیجی ممالک اس معاملے میں امریکہ کی توقعات کے برعکس خطے کے مفاد میں ایک انتہائی معتدل اور دانشمندانہ رویہ اختیار کریں گے۔ جیسے جیسے پاکستان کا فراہم کردہ سفارتی مصالحتی پلیٹ فارم فعال ہوگا اور معاملات ٹھنڈے ہوں گے، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک ان پابندیوں کا ساتھ دینے کی بجائے ان پر نرم گوشہ اختیار کرنا شروع کردیں گے تاکہ امن کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکے اور خطے میں جاری کشیدگی کی حدت و شدت میں کمی لائی جاسکے۔
متحدہ عرب امارات میں اس وقت 3,690 سے زائد فعال امریکی کمپنیاں سرگرمِ عمل ہیں۔ اگر ایران اور امریکہ کے مابین جنگ کی صورت میں خلیجی خطے کو نشانہ بنایا گیا تو ان امریکی کمپنیوں کے کاروبار اور سرمایہ کاری کو شدید ترین خطرات لاحق ہو جائیں گے اور یہ خود امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا معاشی دھچکا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی قیادت مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہے کہ جنگ کسی کے بھی مفاد میں نہیں جس کے معاشی اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے معاشی اور تجارتی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
روسی ذرائع ابلاغ سمیت بین الاقوامی میڈیا بھی پاکستان کی اس سفارتی پیش رفت کو نمایاں کوریج دے رہا ہے اور اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ پاکستان کی ان مصلحانہ کوششوں کے نتیجے میں جلد ہی ایک بڑا اور مثبت سفارتی نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔ پاکستان نے دونوں فریقین کو مذاکرات کی طرف لانے اور خطے کو ایک ہولناک تباہی سے بچانے کے لیے جو کوشش و کاوش کی ہے، اس کے ثمرات اب واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ اگرچہ اب بھی کئی چیلنجز موجود ہیں، لیکن پاکستان کا قائم کردہ یہ سفارتی فورم ایران اور امریکہ کو طویل المدتی امن کی طرف لے جانےکیلئے سب سے زیادہ قابلِ بھروسہ اور مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات بلکہ پورے خطے اور دنیا کے امن کے تحفظ کے لیے ایک ذمہ دار اور بااثر اسلامی ریاست کے طور پر اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور یقیناً پاکستان کے تشخص کو ملنے والی یہ نئی بلندی آنے والے دنوں میں ملکی معیشت، سیاست اور سفارت کاری کے شعبوں میں مثبت اثرات کی صورت میں نمایاں طور پر نظر آئے گی اور ایسا کیوں نہ کرے کیونکہ پاکستان کو اس بات کا ادراک ہے کہ اگر یہ خطہ دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آگیا تو تمام خلیجی ممالک دوبارہ ریگستان میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

