ایران امریکا جنگ کا خاتمہ: امید کی ایک کرن

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران جنگ اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال نے ایک بار پھر پوری دنیا کو تذبذب میں مبتلا کر دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی اور کہا کہ ان کے سامنے ایک طرف معاہدے کے ذریعے ایران کو دوبارہ تعمیر اور ترقی کی راہ پر ڈالنے کا راستہ ہے جبکہ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران کو مکمل تباہ کرنے کا راستہ موجود ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران ایک عظیم ملک بن سکتا ہے اور جنگ کے خاتمے کیلئے معاہدہ بھی ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران ایک امید کی کرن پیدا ہوئی جس میں ایران اور امریکا کے مابین دوسرے امن مذاکرات کے انعقاد کا عندیہ دیا گیا ہے جس میں پاکستان اور قطر کی کاوشیں پیش پیش ہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے مابین کشیدگی کی حدت و شدت کم کرنے سے جنگ کے خطرات ٹالنے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ہی چینی صدر شی جن پنگ جن کا امریکا میں پرتپاک استقبال کیا گیا، وہاں بھی چین امریکا کے مابین باہمی تجارت، تائیوان کے معاملات، اے آئی، الیکٹرانک چپس کے علاوہ ایران جنگ اور حوثیوں کے معاملات پر یقیناً گفتگو ہوگی جس سے دونوں طاقتوں کے مابین کوئی نہ کوئی پیشرفت ضرور ہوگی جس سے خطے میں امن کی راہیں ہموار ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے جبکہ ایک اہم پیشرفت یہ بھی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت ایران کو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل کرنے کیلئے تیار ہے جس کی داغ بیل ڈال دی گئی ہے۔

بظاہر یہ دونوں مؤقف ایک دوسرے سے متضاد دکھائی دیتے ہیں، لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو امریکا اور ایران کے درمیان فوجی دباؤ اور سفارت کاری بیک وقت جاری ہے۔ اس کی تازہ مثال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ہونے والی کئی گھنٹوں کی بات چیت ہے۔ امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کے مطابق ثالثوں نے پورے دن دونوں وفود کے درمیان پیغامات کی منتقلی جاری رکھی جبکہ صدر ٹرمپ کے مطابق اسٹیووٹکوف اور جیرڈ کشنر کی ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات تقریباً تین گھنٹے جاری رہی اور آج بھی یہ عندیہ دیا جارہا ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین دوسری میٹنگ کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔

پاکستان کے تناظر میں یہاں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خاص اہمیت رکھتی ہے اور 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد جنگی کارروائیوں کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وسیع تر معاہدے کیلئے مذاکرات کی راہ ہموار کرناتھا۔ اس کے بعد سوئٹزرلینڈ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان تکنیکی مذاکرات بھی ہوئے اور حتمی معاہدے کیلئے ایک طریقۂ کار بھی وضع کیا گیا۔ تاہم یہ تمام تر مذاکرات بے سود رہے جنہیں خطے کے مستقل امن میں تبدیل نہ کیا جاسکا اور اگست میں اسلام آباد یادداشت کا فریم ورک عملاً ختم ہوگیا حالانکہ اب بھی ایران کی جانب سے اسی مفاہمتی یادداشت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔

دونوں ممالک کے مابین جنگ بندی میں کم و بیش 7 ماہ کے بعد بھی تاخیر اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات انتہائی گہرے ہیں، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ پاکستان نے ستمبر میں بھی واضح کیا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کیلئے اپنا ثالثی کردار جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ملکوں کو درپیش مسائل کا پائیدار حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی ممکن ہے۔

ایران کی موجودہ شرائط میں آبنائے ہرمز مرکزی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ ایران نے حالیہ دنوں میں امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اور ایران سمیت ہر محاذ پر حملوں کو روکے، اور ایرانی منجمد فنڈزریلیز کرے ، یوں فوجی دباؤ کم ہونے کے بعد ایران سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے تیار ہوسکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایران پر حملے بند کیے جائیں۔ واضح رہے کہ پچھلی مرتبہ جب ایران نے آبنائے ہرمز کھولی تو امریکا نے کچھ ہی عرصے کے بعد ناکہ بندی دوبارہ نافذ کردی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد کی سطح کم ہوئی اور اب ایران نے یہ شرط عائد کی ہے کہ پہلے ناکہ بندی ختم کی جائے اور اس کے 7روز بعد آبنائے ہرمز کھولے جانے کا اشارہ دیا ہے، گو کہ ثالثوں کی کاوشوں کے نتیجے میں اس میں کوئی درمیانی راستہ نکل سکتا ہے۔

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق اپنا دباؤ برقرار رکھتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ غیر مجاز تجارتی جہازوں کو لے جائی جانے والی ترسیل کے 20 فیصد تک جرمانے کا سامنا ہوسکتا ہے اور جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جہاز عارضی طور پر قبضے میں بھی لیا جاسکتا ہے۔ تاہم موجودہ ایرانی بیان میں براہ راست حملے کی دھمکی کے بجائے ضابطوں اور جرمانے کی زبان استعمال ہونا بھی قابل توجہ ہے۔ چاہے اسے باہمی کشیدگی میں کمی کی قطعی علامت قرار نہ بھی دیا جاسکے ، لیکن سفارتی گنجائش کے موجود رہنے کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔

اس پوری صورتحال کا ایک اور اہم پہلو باب المندب اور یمن کا محاذ ہے۔ ایران سے وابستہ حوثی فورسز کی کارروائیوں اور سعودی عرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی جنگ کو خلیج سے آگے لے کر جارہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے بھی اپنے حالیہ مشترکہ بیان میں علاقائی کشیدگی کم کرنے، محفوظ بحری آمدورفت اور مذاکرات کو پائیدار حل کا راستہ قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ صرف ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے بھی اس کی اہمیت اور افادیت مسلم ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور ایران مزید طویل عرصے تک موجودہ صورتحال برداشت کرسکتے ہیں؟ امریکا کیلئے جنگ کے مالی، عسکری اور عالمی توانائی کے اثرات اہم ہیں، جبکہ ایران شدید معاشی دباؤ، پابندیوں اور مسلسل فوجی خطرات کا سامنا کررہا ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک بھی طویل جنگ اور آبنائے ہرمز یا باب المندب میں مسلسل رکاوٹ کے متحمل نہیں ہوسکتے اوریہی باہمی دباؤ دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

چنانچہ موجودہ صورتحال کو نہ تو فوری جنگ بندی کی حتمی علامت سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ امن کی کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ایک طرف صدر ٹرمپ کی سخت دھمکیاں موجود ہیں، دوسری طرف وہ خود معاہدے اور ایران کے تابناک مستقبل کی بات کررہے ہیں؛ ایران ایک طرف مزاحمت کا اعلان کررہا ہے تو دوسری طرف ہرمز کھولنے کیلئے واضح شرائط پیش کررہا ہے؛ جبکہ پاکستان، قطر، عمان اور دیگر علاقائی ممالک جنگ کے خاتمے کیلئے پرعزم اور باہمی رابطوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بلاشبہ ایران جنگ کا اختتام چند دنوں میں ہوگا یا مزید وقت لے گا، اس بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں، لیکن موجودہ پیش رفت یہ ضرور بتاتی ہے کہ سفارتی راستہ دوبارہ فعال ہورہا ہے۔ اگر آبنائے ہرمز، پابندیوں، جوہری مسئلے اور جنگ بندی جیسے بنیادی اختلافات پر مرحلہ وار سمجھوتا پیدا ہوگیا تو یہی رابطے ایک وسیع تر معاہدے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اہم ہے کہ خطے میں جنگ کے بجائے مذاکرات آگے بڑھیں، کیونکہ امن صرف ایران اور امریکا کیلئے نہیں بلکہ خلیج، پاکستان اور پوری عالمی معیشت کیلئے ایک زبردست اور مثبت پیش رفت ہوگی۔

Related Posts