امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فرمانا ہے کہ ایران جنگ جلد ختم ہوجائے گی، اس حوالے سے تو یہ کہہ دینا ہی کافی ہوگا کہ جب سے 28 فروری 2026 کو ایران جنگ کا آغاز ہوا ہے، صدر ٹرمپ یہ کہتے آئے ہیں کہ ایرانی فضائیہ، بحریہ اور بری فوج سمیت تمام عسکری قوت 80 سے 90 فیصد ختم ہوگئی ہے اور اب وہ جنگ ختم کرنے کیلئے بار بار فون کر رہے ہیں، تاہم حقیقت کیا ہے، یہ پوری دنیا جانتی ہے چاہے امریکی حکومت اسے ماننے کیلئے کبھی تیار نہ ہو۔
مارچ میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ “ان کے پاس کچھ نہیں بچا”، مئی میں کہا “ایرانی فوج مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے” اور جولائی میں کہا “ان کی کوئی فوج باقی نہیں”۔ مگر خود امریکی میڈیا اور امریکی انٹیلی جنس ان دعووں کی کھل کر تردید کرچکی ہیں۔ سی این این نے اپریل میں انکشاف کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں میزائل، تقریباً نصف ڈرون صلاحیت اور بڑی تعداد میں ساحلی دفاعی کروز میزائل برقرار ہیں جو کسی بھی وقت پورے خطے میں تباہی پھیلا سکتے ہیں، جبکہ دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق نیٹو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی کم از کم 60 فیصد میزائل صلاحیت محفوظ ہے اور پینٹاگون کے اندرونی ادارے کی تشخیص بھی اس کے برعکس ہے۔ گویا امریکی بیان اور حقیقت دو مختلف، بلکہ سراسر برعکس باتیں ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے معلومات کی لیک روکنے کیلئے صحافیوں تک رسائی پر پابندیاں سخت کردیں اور پینٹاگون نے اگست میں ایک “غیر معمولی” اقدام کرتے ہوئے تقریباً 50 ملٹری اور سول حکام کو پولی گرافک ٹیسٹ کا نشانہ بنایا، جسے ہم سچ اور جھوٹ کا پتہ چلانے کیلئے کیا جانے والا ٹیسٹ قرار دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے لیکرز کو “غدار” قرار دیتے ہوئے ان کیلئے “طویل قید کی سزائیں” دینے کی دھمکی بھی دی۔ خود امریکی میڈیا نے یہ بھی انکشافات کیے کہ امریکا کے پاس کتنے پیٹریاٹ میزائل ہیں، ایرانی حملوں نے کس شدت سے امریکی اڈوں کو متاثر کیا اور کیسے امریکی اسٹاک پائلز ختم ہورہے ہیں، جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقت امریکی دعووں کے عین برعکس ہے۔ سی این این کے مطابق جنگ کے آغاز سے امریکا نے اپنے تھاڈ انٹرسیپٹرز کی 80 فیصد سے زیادہ صلاحیت استعمال کرلی، جبکہ سی ایس آئی ایس کے تجزیے کے مطابق پیٹریاٹ کے 65 فیصد انٹرسیپٹرز استعمال ہوچکے ہیں اور واشنگٹن کے پاس اب ایک ہزار سے بھی کم باقی ہیں۔ بلومبرگ نے مارچ میں بتایا کہ خلیج کی فضا میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کیلئے اس وقت تک 2400 سے زائد انٹرسیپٹرز داغے جاچکے تھے، جبکہ ایران نے گلف کی ریاستوں پر تقریباً 1200 بیلسٹک میزائل اور 4000 شاہد ڈرون فائر کیے۔ اسی طرح جولائی میں اردن کے موفاق سلطی ائیر بیس پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور آٹھ ایف 15 لڑاکا طیارے نقصان سے دوچار ہوئے، جس کی اعلیٰ معیار کی سٹیلائٹ تصاویر ایران نے خود جاری کیں۔ خود امریکی اعداد و شمار کے مطابق اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور 624 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ ہیگزتھ کے مطابق ایران جنگ پر امریکا کے صرف براہ راست فوجی اخراجات 37 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں۔ ایرانی وزارت صحت کے مطابق ایران میں صرف ہلاکتیں 3 ہزار 468 سے زائد ہیں جبکہ لبنان اور عراق سمیت پورے خطے میں ہلاکتیں 6 ہزار 200 سے تجاوز کرگئی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خطہ جنگ و جدل سے بھرپور ایران امریکا جنگ کے ایک اور تکلیف دہ دور کا سامنا کررہا ہے۔ بات آبنائے ہرمز سے نکل کر اب باب المندب تک جا پہنچی ہے جہاں ایران نواز حوثیوں نے اپنی قوت کا مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ حوثیوں نے محض اٹھارہ گھنٹے کی تیز پیش قدمی میں بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ موخا، ضوباب اور باب المندب کے وسط میں واقع پرائم یعنی مایون جزیرے پر قبضہ کرکے پوری یمنی ساحلی پٹی اپنے کنٹرول میں لے لی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی کو فروغ ملنے کا ایک اور سلسلہ شروع ہوگیا۔
حوثی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف تعز اور الحدیدہ کے 6 اضلاع میں ان کا قبضہ 5 ہزار 400 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیل چکا ہے اور انہوں نے 32 آپریشنز کرتے ہوئے 9 طیارے مار گرائے اور سینکڑوں مخالف فوجیوں کو ہلاک یا گرفتار کیا۔ اس سے قبل باب المندب سے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد، بحری تیل کی ترسیل کا 11 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 8 فیصد گزرتا تھا، مگر اب اس اہم راستے کے خطرے میں پڑنے سے برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 102 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی ہے اور جہاز رانی کمپنیاں امید اُمِید کے طویل راستے اپنانے پر مجبور ہوگئی ہیں جس سے جہازوں کے سفر میں 20 دن سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔ ادھر حوثیوں نے مآرب اور تعز کے سرکاری ٹھکانوں کی طرف اپنی پیش قدمی بھی جاری رکھی ہے اور اگر یہ پیش قدمی مزید آگے بڑھی تو مآرب کے قبائل بھی ان کے ساتھ مل سکتے ہیں، جس کی وجہ سے سعودی قیادت شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ حوثیوں کی اس پیش قدمی کے باعث اب تک 50 ہزار سے زائد یمنی شہری بے گھر ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کو دو بار ٹیلیفون کرکے حوثیوں پر حملہ کرنے کی درخواست کی، تاہم صدر ٹرمپ نے انکار کردیا۔ امریکی انتظامیہ نے سعودی عرب کو حوثیوں سے متعلق انٹیلی جنس اور نشانہ بنانے کے اعداد و شمار فراہم کرنے پر اکتفا کیا، جبکہ امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر نے اس موقع پر سعودی عرب کا فوری دورہ بھی کیا اور تقریباً 200 امریکی فوجی غیر جنگی مدد کیلئے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ہدایت یہی ہے کہ امریکی افواج صرف ایران اور آبنائے ہرمز پر مرکوز رہیں اور کوئی نیا محاذ نہ کھولا جائے۔ حوثیوں نے اس دوران سعودی تیل کے راستوں کو نشانہ بناتے ہوئے سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور سعودی فضائیہ موخا کے ہوائی اڈے سمیت حوثی ٹھکانوں پر بمباری کررہی ہے۔ ایسی خطرناک صورتحال میں عالمی معیشت کو مزید جھٹکوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
اسلام آباد مفاہمت کی بات کی جائے تو یہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت 17 جون 2026 کو پاکستان کی ثالثی میں دستخط ہوئی تھی، جس کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے 8 جولائی کو اسے ختم شد قرار دے دیا اور ایران نے بھی 14 جولائی کو اسے کالعدم قرار دیا۔ ایران کا موقف ہے کہ یہ امریکا ہی ہے جو مفاہمتی یادداشت کو بہانہ بناتا ہے ۔ امریکا نے ایم او یو کے آرٹیکل نمبر 1 کے تحت جنگ بندی پر عملدرآمد نہیں کیا، آرٹیکل 10 کے تحت ایران کے منجمد فنڈز جاری نہیں کیے، آرٹیکل 11 کے تحت ایران کو تیل برآمدات کی اجازت نہیں دی اورایران کی بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے، اس لیے ایران کو پورا حق ہے کہ وہ امریکی جارحیت کے سامنے سینہ سپر رہے۔ ایران بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار پہلے سے نہیں رکھتا اور آئی اے ای اے کی نگرانی میں اپنے یورینیم اسٹاک کو کمزور کرنے کیلئے تیار ہے، مگر مغرب اس پر اعتماد نہیں کرتا۔
اس دوران پاکستان ایران، امریکا اور سعودی عرب سمیت اس کثیر ملکی تنازعے کے تمام فریقین سے مسلسل رابطے میں ہے اور مرکزی ثالث کا کردار بھرپور انداز میں ادا کررہا ہے۔ اپریل کی دو ہفتے کی جنگ بندی اور جون کے اسلام آباد میمورنڈم دونوں ہی پاکستانی ثالثی کا نتیجہ تھے، اور اب بھی پاکستانی اور قطری ثالثوں نے 10 روزہ نئی جنگ بندی کا منصوبہ پیش کیا ہے جسے ایران حاصل کرچکا ہے۔
ضروری ہے کہ اسرائیل کی پشت پناہی کیلئے ایران کے ساتھ جنگ میں کودنے والا امریکا اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے۔ ایرانی قوم تمام تر جارحیت، اقتصادی محاصرے اور ہزاروں شہری قربانیوں کے باوجود 6 ماہ سے زائد مدت کے بعد آج بھی جنگ بندی اور پرامن حل کیلئے تیار ہے، یہاں تک کہ جب امریکی صدر نے “پوری تہذیب کو نیست و نابود کرنے” کی دھمکی دی، ایران نے پھر بھی بات چیت کا راستہ کھلا رکھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا مستقل جنگ بندی کیلئے کب تیار ہوگا؟ یہی سوال آج تمام خطے اور پوری دنیا میں معاشی تباہی سے بے زار افراد پوچھنے پر مجبور ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
