اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب دنیا کو مشرق وسطیٰ میں جنگ، عالمی توانائی ترسیل میں رکاوٹوں اور بین الاقوامی سلامتی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ترک صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی تقاریر نے اجلاس کی اہمیت میں اضافہ کردیا۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک پر مشتمل یہ ادارہ عالمی مسائل پر مؤقف پیش کرنے کا اہم کثیرالجہتی پلیٹ فارم ہے، جہاں سربراہان مملکت اپنی خارجہ پالیسی،علاقائی تنازعات اور عالمی تعاون سے متعلق ترجیحات بیان کرتے ہیں۔ رواں برس ایران امریکا جنگ اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نمایاں موضوعات رہے، جن کے اثرات آبنائے ہرمز سے آگے بحیرہ احمر اور باب المندب تک اور نتیجتاً عالمی معیشت پر محسوس کیے جارہے ہیں۔
دراصل جنرل اسمبلی کی اہمیت صرف تقاریر تک محدود نہیں بلکہ یہ پلیٹ فارم نیویارک میں عالمی رہنماؤں کی موجودگی دوطرفہ ملاقاتوں، سفارتی رابطوں اور اہم معاملات پر مشاورت کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔ تاریخی طور پر جنرل اسمبلی کا پہلا اجلاس 10 جنوری 1946 کو لندن میں ہوا تھا۔ اسی اجلاس کے دوسرے حصے کے بعد اقوام متحدہ کے اجلاس نیویارک کے مختلف مقامات پر منعقد ہوئے اور بالآخر موجودہ مستقل صدر دفتر نیو یارک عالمی سفارت کاری کا مرکزی مقام بن گیا۔
پاکستان کے لیے رواں اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے ساتھ بھارت سے تعلقات، مسئلہ کشمیر اور آبی حقوق بھی اہم رہے۔ 25 ستمبر کو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی طرف آنے والے دریاؤں کے پانی کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کی اہم شریانیں قرار دیتے ہوئے انہیں کھلا رکھنے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کی بھرپورحمایت کا اعادہ بھی کیا۔
شہباز شریف نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی سے خطاب میں مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی افواج کی کارروائیوں کو بھارت کی جارحیت کا جواب قرار دیا تھا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کی جانب سے انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا اعلان دہرایا۔ ان کے مطابق امریکی صدر کی بروقت سفارتی مداخلت نے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان بڑے تصادم کے خطرے کو کم کرنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت بھی اجاگر کی۔
ایران جنگ کے معاملے پر پاکستان نے مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا۔ جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا 14 نکاتی مسودہ سامنے آیا، جس میں فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت اور جامع معاہدے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے جیسے نکات شامل تھے۔ تاہم بدقسمتی سے اس مسودے پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ایران جنگ تاحال ختم نہیں ہوسکی۔ رواں ماہ چین نے بھی فریقین پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں، مذاکراتی عمل بحال کریں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کریں۔
صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کیا، تاہم ساتھ ہی معاہدے کے امکان کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے، جبکہ امریکی انتخابات کے بعد پیش رفت کی امید بھی ظاہر کی۔
امریکی پالیسی میں اسرائیل کا اثر و رسوخ واضح طور پر جھلکتا ہے جو انتہائی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مخالفت کرتے ہوئے جنگ کو غیر آئینی اور غیر ضروری قرار دیا اور کانگریس سے جنگی اختیارات کے معاملے پر کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ مارچ 2026 کے ایک سروے میں 61 فیصد امریکی بالغ افراد نے ایران جنگ سے متعلق صدر ٹرمپ کی حکمت عملی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، جبکہ ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے 59 فیصد نے ایران میں فوجی کارروائی کے فیصلے کو غلط قرار دیا۔
حوثیوں کے حملوں اور سعودی عرب کی سلامتی کا معاملہ بھی پاکستان سمیت مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک کیلئے اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ستمبر میں سعودی عرب نے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دی، جبکہ برطانیہ نے سعودی درخواست پر محدود مدت کے لیے دفاعی فضائی ایندھن فراہم کرنے میں مدد دینے کا اعلان کیا ۔ تاہم موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے سفارت کاری، علاقائی و بین الاقوامی سلامتی، تجارتی راستوں کا تحفظ اور جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا باہم منسلک اہداف ہیں۔
سب سے تکلیف دہ حقیقت تو یہ ہے کہ سات ماہ سے جاری جنگ نے خطے کے عوام کو جانی نقصان، تباہی، بے یقینی اور معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، اس لیے اب عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ جنگ کے بجائے امن اور مذاکرات کے راستے کو ترجیح دینے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکا اور دوسری طرف ایران سمیت اس تنازعے کے تمام فریق اگر اپنی اپنی شرائط پر اصرار کے بجائے قابلِ عمل سمجھوتے کی طرف بڑھیں تو کشیدگی کم کرنے کی راہ نکل سکتی ہے۔ ایرانی اور خود امریکی عوام بھی مزید جنگ ، تباہی و بربادی اور مہنگائی کے اس طوفان کے متحمل نہیں ہو سکتے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے جسم میں سرایت کر جانے والے زہر کی طرح پھیلتا جارہا ہے؛ چنانچہ امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ہی جنگ کے خاتمے، مستقل جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے لیے مزید پیش رفت ہونی چاہیے، تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور خطے میں ہونے والی وسیع تر تباہی کو روکا جا سکے، جس کا راستہ آنے والے دنوں میں مزید ہموار ہونے کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








