میانمار کی صورتحال اوردنیا کے تنازعات ۔۔۔سالِ نو میں حالات کیسے ہوں گے؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

میانمار 1962ء تک اس پورے خطے میں ایک ہنستا کھیلتا اور ترقی کرتا ہوا ملک تھا اور گزشتہ 40، 50 سالوں سے جب سے وہاں فوج نے اقتدار سنبھالا ہے ، اس وقت سے تمام تر صورتحال خراب اور بد سے بدتر ہوتی چلی گئی۔

آج سے 2 سال قبل یعنی 2021 میں عوام کے ووٹوں سے منتخب سربراہِ مملکت آنگ سان سوچی کو اقتدار سے الگ کرکے فوجی سربراہ ہی سربراہِ مملکت بن بیٹھے تو لوگوں نے ہتھیار اٹھا لیے اور اس سے پہلے بھی میانمار کی صورتحال خاصی مخدوش ہوچکی تھی کیونکہ علاقائی اور باغی گروپ پہلے سے موجود تھے جن کے مابین جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں اور پھر فوجی اقتدار اور معیشت کی بتدریج مخدوشیت کے خلاف لوگوں نے رضاکارانہ طور پر پیپلز ڈیفنس آرمی بنا ڈالی۔

پیپلز ڈیفنس آرمی میانمار حکومت کیلئے ہر میدان میں دردِ سر بنی ہوئی ہے اورفوجی حکومت کے خلاف خوب مزاحمت بھی کر رہی ہے۔ کاچن اور شان نامی میانمار کی دو ریاستوں کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور وہاں رہنے والے لوگوں کی عادات و اطوار اور ثقافت و تہذیب بھی چین سے ملتی جلتی ہے۔ دوسری جانب سیگانگ بھارت کی جانب ہے۔ چین کو ایک اسٹرٹیجک تشویش یہ لاحق ہے کہ چین نے میانمار سے بی آر آئی منصوبے کا راستہ نکالا ہے۔

مذکورہ راستہ سمندر کے راستے تیل کو چین لے جانے میں شی جن پنگ حکومت کیلئےاہمیت کا حامل ہے۔ جس طرح پاکستان اسٹرنگ آف پرلز کا حصہ ہے، اسی طرح میانمار کو بھی اسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے جبکہ چین  بی آر آئی کے منصوبے سے قبل اپنی تمام کی تمام مال برداری اور تیل کی رسد آبنائے ملاکا کے ذریعے لے جاتا تھا جسے  امریکا اور اس کے اتحادی شیر کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں اور گیدڑ کی طرح چھپ کر حملہ کرنے کی پلاننگ بھی جاری و ساری رہتی ہے۔ چین اس تمام تر صورتحال سے نکلنا چاہتا ہے۔

عوامی ڈیفنس آرمی کے باعث میانمار فورسز کی بٹالین کی بٹالین نے سرنڈر کرنا شروع کردیا ہے۔ لوگ نہ تو فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں اور نہ ہی ملک پر حکومت کرنے والی فوجی حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جس پر میانمار کے سربراہ نے کہا کہ ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں جس سے چین کو لاحق تشویش دوچند ہوگئی ہے۔ بھارت کا بھی میانمار سے 1600 کلومیٹر طویل بارڈر ہے ، اور اسی وجہ سے بھارت کو بھی تشویش لاحق ہے کہ میانمار کا مستقبل کیا ہوگا؟

بھارت کی تشویش کی 2 وجوہات ہیں جن میں یہ اہم وجہ ہے کہ بھارت امریکا کا اتحادی ہے اور امریکا کی خارجہ پالیسی میں چائنہ کنٹینمنٹ پالیسی سر فہرست ہے یعنی امریکا کو کسی بھی صورت چین کو ترقی کرنے سے اور آگے بڑھنے سے روکنا ہے چاہے وہ معاشی ترقی ہو یا دفاعی میدان میں آگے بڑھنا ہو جبکہ اس پالیسی میں بھارت سر فہرست ملک ہے جو امریکا کی مدد کرسکتا ہے اور کر رہا ہے تاہم بھارتی ریاست منی پور کے حالات اور میانمار کی اندرونی صورتحال کے باعث اس پر پڑنے والے منفی اثرات بھی اس کی وجہ ہوسکتے ہیں۔

ایک اور  وجہ یہ ہے کہ بھارت کا تجارتی راستہ بھی میانمار سے ہوکر جاتا ہے اور اگر یہاں حالات بگڑتے ہیں تو بھارت کی تجارت اور تجارتی راستے  پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یوں بھارت کے پاس میانمار کی صورتحال پر فکر کرنے اور تشویش لاحق ہونے کی متعدد وجوہات موجود ہیں۔ میانمار کی صورتحال خراب ہونے کا فائدہ امریکا اور اتحادی اس طریقے سے اٹھا سکتے ہیں کہ وہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کو متاثر کرتے ہوئے میانمار میں لگی آگ کو مزید ہوا دیں اور چین ان تمام حقائق سے واقف ہے۔

اس تمام تر صورتحال میں راقم الحروف کو ذاتی طور پر میانمار میں چین کی مداخلت بہت قریب نظر آرہی ہے ، جس کا فی الحال چین نے سوچا نہیں اور میانمار کے عوام اور فوجی حکومت کے مابین کسی مفاہمت کی امید میں یا کسی اور صورت سے میانمار کے  امن و امان کی بحالی کے انتظار میں ہے۔ چین کبھی نہیں چاہے گا کہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی پیدا ہو جس سے اس کا بی آر آئی منصوبہ اور تجارتی عوامل متاثر ہوسکیں۔

ہوتا یہ ہے کہ جب فورسز سرینڈر کرنا شروع کردیں تو وہ عمل بہت تیز ہوجاتا ہے۔ روس میانمار کو اربوں ڈالرز کے ہتھیار فراہم کررہا ہے جبکہ برما میں روس اور چین دونوں اسٹرٹیجک مفادات رکھتے ہیں۔ روس میانمار کو جدید ترین لڑاکا طیارے فراہم کررہا ہے، چند روز قبل ہی روس نے 34 پائلٹ ٹریننگ دے کر بھیجے اور میانمار میں مینٹیننس کیلئے روس کا عملہ بھی موجود ہے۔

رواں برس کے اختتام کو محض ایک ماہ سے کچھ روز زیادہ بچے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر روس یوکرین تنازعہ، میانمار کی صورتحال اور پھر غزہ پر اسرائیل کی مسلسل بمباری جیسے واقعات کے باعث آئندہ سال 2024 ء  میں بھی بہتری کی امیدیں دم توڑتی نظر آتی ہیں کیونکہ کسی بھی گھر کو آگ لگانے کیلئے ماچس کی ایک تیلی کافی ہوتی ہے تاہم وہی آگ بجھانے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہے اور یہی عالمی منظرنامے کا حال ہے کہ ہر جگہ آگ لگی ہے جسے بجھانے میں طویل وقت لگ جانے کا خدشہ ہے اور پسماندہ ممالک جن کی معیشت مخدوش ہوچکی ہے، ان پر مضر اثرات کا مرتب ہونا ایک لازمی امر ہے۔