امریکا کی جانب سے ایران پر مسلسل دوسرے روز درجنوں فضائی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائلز اور ڈرونز کی بارش سے ایک مرتبہ پھر یہ گمان پیدا ہوگیا ہے کہ شاید ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے شعلے دوبارہ بھڑکنا شروع ہوچکے ہیں۔
اس تاثر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یہ کہہ دیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا مفاہمتی معاہدہ ان کے خیال میں ختم ہوچکا ہے۔ تاہم دوسری جانب انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے, یہی تضاد اس پورے بحران کا سب سے اہم پہلو ہے۔
گزشتہ دو روز کے دوران امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً 170 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جن میں بندر عباس، چابہار، جاسک، سیرک، ابو موسیٰ اور دیگر ساحلی علاقے شامل تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں فوجی تنصیبات کے ساتھ بعض شہری ڈھانچے، ریلوے پل اور ایک ماہی گیری کی بندرگاہ بھی متاثر ہوئی جبکہ 14 افراد جاں بحق اور 78 زخمی ہوئے۔ اس کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، کویت اور قطر میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اگرچہ دونوں جانب ہونے والے حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے گریز کیا گیا۔ یہی پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک طاقت کا مظاہرہ ضرور کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسی مکمل جنگ سے بھی بچنا چاہتے ہیں جس پر قابو پانا ممکن نہ رہے اور عالمی معیشت کی اذیت ایک بار پھر شروع ہوجائے۔
اگر رواں برس 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران جنگ کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 100 روز سے زائد جاری رہنے والے اس تنازعے میں ایران نے جس مزاحمت، استقامت اور قومی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، وہ امریکا اور اسرائیل کی ابتدائی توقعات سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی، بلکہ عوامی بغاوت کو بھی نہیں ابھارا جاسکا۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو یقین تھا کہ چند دن کی شدید بمباری کے بعد ایران اندرونی طور پر ٹوٹ جائے گا، عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ایرانی قیادت کمزور پڑ جائے گی۔ لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہوا۔ نہ ایرانی ریاست بکھری، نہ عوامی بغاوت سامنے آئی اور نہ ہی ایران نے امریکا اور اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ اس کے برعکس حالات اس نہج پر پہنچے کہ صدر ٹرمپ کو جنگ بندی اور مفاہمت کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرنا پڑی۔
حالیہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک کا طرزِ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ مکمل جنگ کے بجائے محدود فوجی دباؤ کی حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہیں۔ امریکا نے اپنے حملوں کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایرانی کارروائیوں کا جواب قرار دیا، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کشیدگی دراصل امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کا نتیجہ ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اگر اس پر حملے نہ کیے جاتے تو نہ آبنائے ہرمز میں بحران پیدا ہوتا، نہ عالمی تجارت متاثر ہوتی اور نہ ہی تیل کی ترسیل خطرے میں پڑتی۔
آبنائے ہرمز اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل، 20 فیصد ایل این جی، 30 فیصد کھاد، تقریباً 50 فیصد سمندری سلفر اور 30 سے 35 فیصد ہیلیم کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے اور جنگ کے باعث جہاز رانی شدید متاثر ہوئی، ہزاروں ملاح اس علاقے میں پھنس گئے جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور معاشی بے یقینی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ایران اور امریکا ہی نہیں بلکہ پاکستان سمیت پوری عالمی برادری اس تنازعے کے جلد خاتمے کی خواہاں ہے۔ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ قطر نے بھی یہ نظر انداز کرتے ہوئے کہ اس کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے ایرانی حملوں کی زد میں آئے، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھی۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ امریکا اور ایران دونوں ایک دوسرے پر ایم او یو کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں، کیونکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت یقینی نہیں بنائی، جبکہ ایران کا ماننا ہے کہ امریکا نے حملے کرکے خود معاہدے کی بنیادی شقوں کو پامال کیا۔ اس اختلاف نے امن مذاکرات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے، اگرچہ کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا۔
سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صورتحال بھی آسان نہیں کیونکہ اگر وہ ایران کے ساتھ جاری بحران کو قابو میں لانے میں ناکام رہتے ہیں تو آئندہ مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکن جماعت کو شدید سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں نہ صرف کانگریس میں ان کی پوزیشن کمزور ہوگی بلکہ ان کے خلاف سیاسی اور قانونی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک طرف وہ سخت بیانات دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں معاہدہ ختم ہوچکا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکی مذاکرات کار ایرانی حکام سے رابطے جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن فوجی دباؤ اور سفارتی مذاکرات، دونوں راستے بیک وقت استعمال کر رہا ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اپنی عسکری صلاحیت اور مزاحمت کا پیغام دے رہا ہے لیکن ساتھ ہی اقوام متحدہ سے رجوع کرکے سفارتی محاذ کو بھی متحرک رکھے ہوئے ہے۔ یہی دوہری حکمتِ عملی دونوں ممالک کے درمیان موجودہ کشیدگی کو ایک منفرد صورت دیتی ہے، جہاں جنگی نوک جھونک اور مذاکرات بھی ساتھ ہی چل رہے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگرچہ خطے میں دوبارہ جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، لیکن امریکا اور ایران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی لیے حالیہ حملوں کے باوجود دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو ایسا نقصان پہنچانے سے گریز کیا ہے جو ناقابلِ واپسی جنگ کا سبب بن جائے۔ اس وقت اصل معرکہ میدانِ جنگ سے زیادہ مذاکرات کی میز پر لڑا جا رہا ہے، جہاں آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ خطہ ایک نئی جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا ایک پائیدار سیاسی سمجھوتے کی جانب، جس سے نہ صرف اس خطے کا بلکہ پوری دنیا کا معاشی مستقبل وابستہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں