صدر کی طرف سے معافی، عمران خان نے عارف علوی کو کیا پیغام پہنچادیا؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے صدر عارف علوی کی جانب سے صدارتی معافی کے ذریعے کسی بھی قسم کے ریلیف کے امکان کی مخالفت کی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا سمیت مختلف اطراف سے معافی کے مطالبات کے پیش نظر عمران خان نے صدر علوی کو پیغام پہنچایا ہے کہ وہ ان کی سزاؤں کی معافی کے لیے کسی درخواست پر غور نہ کریں۔

رؤف حسن نے کہا کہ اگرچہ صدر کے پاس کسی بھی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا کو معاف کرنے کا آئینی اختیار ہے تاہم پی ٹی آئی کے بانی ایسی معافی کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا کو معطل کر دیا تھا تاہم پی ٹی آئی کے بانی کو جلد ہی تین الگ الگ مقدمات بشمول قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے توشہ خانہ کیس، سیفر کیس اور غیر اسلامی نکاح نامے میں سزا سنائی جاچکی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 45 صدرمملکت کو کسی بھی مجرم کو معاف کرنے کا اختیار دیتا ہےجس کے تحت عمران خان کی سزا معاف کی جاسکتی ہے۔

آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر مملکت صرف وزیر اعظم کی تجویز پر کسی بھی سزا کو معاف یا معطل کر سکتے ہیں جبکہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر چیف ایگزیکٹو کے مشورے کے بغیر خود بھی کسی مجرم کی سزا معاف کرسکتے ہیں۔