کورونا پابندیوں میں نرمی

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر نے عید الفطر کی تعطیلات کے بعد آج سے ملک میں کاروباری مراکزاور دفاتر کھولنے کی اجازت دیدی ہے جبکہ گزشتہ روز بین الاضلاع ٹرانسپورٹ بھی بحال کی جاچکی ہے تاہم پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے 50 فیصد مسافروں کی گنجائش کی شرط برقرار رکھی گئی ہے جبکہ این سی او سی کے مطابق تمام دفاتر نارمل اوقات کار کے تحت 17 مئی سے کھلیں گے تاہم دفاتر میں 50 فیصد حاضری رکھی جائے گی۔

حکومت کی جانب سے پابندیوں اور سخت اقدامات کے بعدخوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران کورونا وائرس کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، مارچ کے بعد پاکستان میں 3 ہزار سے کم کیسز ریکارڈ کئے گئے جب مثبت کیسز کی شرح بھی 8 فیصد سے کم ہوچکی ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ پورا ملک بند کرکے لوگوں کو گھربٹھایا کھلایا جاسکے اس لئے پاکستان میں کورونا کی وباء پھوٹنے سے اب تک حکومت متاثرہ علاقوں اور اہم مقامات پر پابندیاں عائد کرکے وباء پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حکومت نے کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران منتخب علاقوں میں لاک ڈاؤن و ضروری پابندیاں لگاکر وباء کو کنٹرول کیا اور تیسری لہر کے دوران بھی جہاں مثبت کیسز کی شرح 10 فیصد سے بھی بڑھ چکی تھی اور طبی ماہرین کی طرف سے سنگین خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا وہاں حکومت کے راست اقدامات کی وجہ سے مثبت کیسز کی شرح کافی حد تک نیچے آگئی ہے۔

ملک میں جہاں وباء پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں وہیں کورونا سے مستقل چھٹکارے کیلئے ویکسی نیشن کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے اور حکومت نے 30 سال کے لوگوں کیلئے بھی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا ہے اور قابل تحسین بات تو یہ ہے کہ عیدالفطر کے دوران بھی کورونا کیخلاف شروع سے صف اول پر لڑنے والے مسیحاؤں نے قوم کو موذی وباء سے بچانے کیلئے خدمات انجام دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور ہزاروں لوگوں کو ویکسین لگائی۔

پاکستان میں گزشتہ ہفتے کا جائزہ لیا جائے تو کورونا کے اشاریے نہایت حوصلہ افزاء قرار دیئے جاسکتے ہیں لیکن یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں عید سے قبل 8 مئی کو ہی تعطیلات شروع ہوگئی تھیں اور اس دوران بازار بند رہے اور لوگوں زیادہ تر اپنے گھروں تک محدود رہے جس کی وجہ سے وباء کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملی تاہم ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے اور اس بات کا ادراک حکومت کو بھی ہے اسی لئے تشویشناک صورتحال میں بھی معاشی پہیہ جام کرنے سے گریز کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے پابندیوں میں نرمی مستحسن اقدام ہے اور ٹرانسپورٹ و کاروبار کی بحالی ملکی معیشت کی نبض اور عوام کاچولہاچلانے کیلئے ناگزیر ہے تاہم قوم ایک بات ضرورت ذہن نشین رکھے کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا اور ہماری تھوڑی سی بے احتیاطی ہمیں اور دوسروں کو بھی مشکل میں ڈال سکتی ہے ، اس لئے پابندیوں میں نرمی کے باوجود اپنی سرگرمیوں کو محدود رکھیں اور حکومت کی مقرر کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بناکر اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ بنائیں۔

کورونا کے بحران کو پاکستان اپنی معیشت کیلئے اصلاحات اورخارجہ و سیکیورٹی پالیسیز کی تشکیل کیلئے ایک موقع سمجھ سکتا ہے۔ اگر اس موقعے سے بھی فائدہ نہ اٹھایا گیا تو معیشت کی صورتحال مزید دگرگوں ہوسکتی ہے۔غربت اور بے روزگاری میں اضافہ معاشی اضطراب کا سبب بنتا ہے جس کے نتیجے میں حکومت عدم استحکام اور جمہوری عمل سست روی کا شکار ہوسکتا ہے۔