خیبر پختونخوا میں جمہوریت کا گلا گھونٹا؟ پی ٹی آئی ایمرجنسی کے خلاف عدالت پہنچ گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو باقاعدہ طور پر پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے عدالتِ عالیہ سے استدعا کی ہے کہ اس معاملے پر فوری سماعت کی جائے تاکہ صوبے میں معطل شدہ جمہوری حکومت کو دوبارہ بحال کیا جا سکے اور آئین کی بالا دستی قائم ہو۔

انہوں نے حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کے جاری کردہ تمام نوٹیفکیشنز کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی اس غیر آئینی اقدام کے خلاف اپنی قانونی اور آئینی جنگ بھرپور انداز میں جاری رکھے گی۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گورنر راج مسلط کر کے ایک منتخب جمہوری حکومت کو گھر بھیج دیا گیا ہے جو کہ جمہوریت پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔

قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ملکی سکیورٹی اور دہشتگردی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آج ملک میں دہشتگردی کو ایک بہانہ بنا لیا ہے حالانکہ دہشتگردی کا قلع قمع ہونا چاہیے اور ملک کے کسی بھی کونے میں دہشتگردوں کو پناہ نہیں ملنی چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اس قسم کے فیصلوں نے پورے پاکستان کے نظام کو مفلوج اور غیر فعال کر کے رکھ دیا ہے۔

Related Posts