ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایران کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا کے ساتھ ہمارے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہورہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ کو فوجی جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اس کے رویے کو متضاد اور غیر مستحکم قرار دیا۔ دوسری جانب تقریباً دو ہفتوں کی شدید بمباری کے بعد امریکا نے ایران پر حملے روک رکھے ہیں، جس کے بعد تہران نے بھی خطے میں اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے میزائل حملوں میں تقریباً 18 ہوائی جہاز عمان کی بیس پر ہینگرز میں تباہ کیے ، جہاں پاسداران انقلاب نے 200 ہلاکتوں کا بھی دعویٰ کیا ہے، اگرچہ آزادانہ طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق اگر ہلاکتوں کی تعداد 20 بھی ہو تو یہ امریکا کے لیے بڑا دھچکا تصور ہوگی۔ ایران کا سالانہ دفاعی بجٹ تقریباً 23 ارب ڈالر ہے، جبکہ امریکا تقریباً 996 ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے اور اگلے مالی سال کے لیے 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کیا جا چکا ہے۔ امریکا کے دنیا بھر میں تقریباً 800 فوجی اڈے ہیں جن میں سے 27 مشرق وسطیٰ میں واقع ہیں، جہاں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔
گولہ بارود کی قلت سے متعلق امریکی میڈیا میں رپورٹس سامنے آئیں، جن میں کہا گیا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ گولہ بارود موجود ہے اور یہ ضرورت سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ اس سے قبل سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ جنرل ڈین کین نے ذخائر میں کمی سے متعلق آگاہ کیا تھا، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اسی نوعیت کی اطلاعات شائع کی تھیں۔
امریکا اور ایران کے مابین جاری جنگ کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ امریکا اور ایران کے حملے رکنے کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 8 فیصد کمی کے ساتھ 86 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، حالانکہ گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث یہی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔ بعض رپورٹس کے مطابق امریکا کے تیل کے اسٹریٹجک ذخائر 174 دن سے کم ہو کر صرف دو سے ڈھائی ہفتوں کے برابر رہ گئے ہیں، جبکہ چین کے پاس 120 دن سے زائد کے ذخائر موجود ہیں۔
دلچسپ طور پر امریکا اور ایران کے مابین ایک طرف جنگ کا شور اور ایک دوسرے کے خلاف دھواں دھار بیان بازی ہے تو دوسری جانب سفارتی محاذ پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن پہنچ چکے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں ایران سرفہرست موضوع ہوگا۔ نیتن یاہو کے مطابق دونوں رہنما اسرائیل کی سلامتی، خطے کی صورتحال اور دیگر اہم معاملات پر گفتگو کریں گے۔ دوسری طرف عمانی وفد تہران میں آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے انتظام پر اپنے مؤقف میں کوئی نرمی نہیں لایا اور براہ راست امریکا سے مذاکرات بھی نہیں کر رہا، تاہم ایرانی قیادت اس سے قبل متعدد مرتبہ بیک چینل مذاکرات کا اعتراف کرچکی ہے اور یہ کہتی آئی ہے کہ جنگ کے باوجود مذاکرات کا راستہ کھلا رکھاگیا ہے۔
ادھر سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے عراق سے آنے والے ڈرونز کو مار گرایا جو مشرقی علاقے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اردن نے بھی دو ڈرون مار گرانے کی تصدیق کی ہے، تاہم دونوں ہی واقعات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسرائیلی حملوں کا پہلے پہل نشانہ بن کر تباہ و برباد ہونے والے مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ اور لبنان میں بھی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ امدادی فنڈنگ میں کمی کے باعث سال کے اختتام تک غزہ کی دو تہائی آبادی غذائی قلت کا شکار ہو سکتی ہے۔ لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ اسرائیلی فوج نے مشرقی یروشلم کے قریب قلندیہ کیمپ میں اقوام متحدہ کے ادارے اونروا کے تربیتی مرکز پر چھاپہ مار کر عملے کو حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب ایران نے یوکرین کی جانب سے بحیرۂ کیسپین میں ایرانی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد خبردار کیا ہے کہ اس واقعے کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ اسی دوران مبصرین کے مطابق عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، خلیجی ممالک کی مالیاتی حکمت عملی میں تبدیلی اور عالمی معیشت میں طاقت کے توازن کی منتقلی مستقبل کی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جنگ کبھی بھی کسی مسئلے کا مستقل حل ثابت نہیں ہوئی، بلکہ اس کے نتیجے میں صرف انسانی جانوں کا ضیاع، معاشی تباہی، بے گھری، بھوک اور نفرت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اس کی قیمت عام شہری نسل در نسل مفلسی، فاقہ کشی اور بدترین حالات کا سامنا کرتے ہوئے ادا کرتے ہیں۔ پائیدار امن، باہمی احترام، سفارت کاری اور مذاکرات ہی ایک ایسا راستہ قرار دیا جاسکتا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے۔ پاکستان اور قطر نے تو ایران اور امریکا کو جنگ بندی مذاکرات سے متعلق تجاویز پیش کردیں، تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ فریقین جنگ کے بھڑکتے شعلوں میں قیام امن کی راہ ہموار کرنے کی ان تجاویز کا کیا جواب دیتے ہیں جس سے پوری دنیا کا سیاسی ، سماجی اور معاشی مستقبل وابستہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں