راولپنڈی میں 12 سالہ میمونہ کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے والا خالو انجام کو پہنچا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

راولپنڈی میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارروائیوں کے دوران دو مختلف واقعات میں سنگین جرائم کے مقدمات میں نامزد ملزمان سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک واقعے میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم، ڈکیتی اور قتل سمیت متعدد مقدمات میں مطلوب اشتہاری ملزم ہلاک ہوگیا جبکہ دوسرے واقعے میں 12 سالہ بچی مہمونہ کے قتل کیس میں نامزد ملزم بھی مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

جاتلی میں مطلوب اشتہاری ملزم ہلاک

پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ جاتلی کی حدود میں دیوی داتا مین روڈ پر سی سی ڈی کی ٹیم سنیپ چیکنگ میں مصروف تھی کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار ملزمان نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں ایک ملزم ہلاک ہوگیا جبکہ دیگر ملزمان موقع سے فرار ہوگئے۔

ہلاک ہونے والے ملزم کی شناخت حماد عرف مادو سکنہ کھڈیوٹ کہوٹہ کے نام سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم کے قبضے سے ایک پستول بھی برآمد کیا گیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ملزم ڈکیتی کے دوران قتل، اقدامِ قتل اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔ اس پر یہ الزام بھی تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہوائی فائرنگ کی ویڈیوز شیئر کرکے علاقے میں خوف و ہراس پھیلاتا تھا۔

واقعے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس اور سی سی ڈی کی ٹیموں نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، جبکہ ہلاک ملزم کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردی گئی۔

12 سالہ میمونہ زیادتی و قتل کیس

دوسری جانب راولپنڈی کے علاقے خیابانِ سرسید ڈھوک نجو میں 12 سالہ بچی میمونہ کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم مبینہ عباسی کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق بچی 7 اکتوبر کو مدرسے جانے کے لیے گھر سے نکلی تھی لیکن واپس نہیں پہنچی۔ تلاش کے بعد 8 اکتوبر کی صبح اس کی لاش ایک قریبی رشتہ دار کے گھر سے برآمد ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا اور شہریوں کی جانب سے ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس مقدمے میں نامزد ملزم ممریز عباسی مقتولہ کا خالو تھا تاہم اس مبینہ پولیس مقابلے کی مکمل تفصیلات اور دونوں واقعات کے حوالے سے پولیس کا باضابطہ موقف سامنے آنا ضروری ہے۔

Related Posts