کورونا کا پھیلاؤ، کراچی کے ضلع وسطی میں ڈبل سواری بند،گھر سے نکلنے پر پابندی عائد

Sindh bans pillion riding in Karachi

کراچی : شہر قائد کے ضلع وسطی میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر شہریوں کی غیر ضروری آمد و رفت اور ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی،کورونا کیسز میں اضافہ کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ضلع وسطی کے مختلف علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ضلع وسطی کے چار ٹانز گلبرگ، نارتھ کراچی، لیاقت آباد اور نارتھ ناظم آباد کے رہائشی علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن 19مئی سے 2جون تک نافذ ہوگا۔نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں کورونا کے 63مریض موجود ہیں، ضلعی ہیلتھ آفیسر کی جانب سے ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی کے بعد پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں آنے اور جانے والے تمام افراد کو ماسک پہننا لازمی ہوگا جبکہ شہریوں کی غیر ضروری نقل و حرکت پر پابندی ہوگی، علاوہ ازیں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ڈبل سواری پر سختی سے پابندی ہوگی جبکہ گھر یا باہر کسی بھی چھوٹی بڑی تقریب کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر کے مطابق متاثرہ علاقوں کے کورونا مثبت افراد اپنے گھروں میں قرنطینہ کریں گے، صوبائی حکومت متاثرہ علاقوں میں بسنے والے مستحق افراد میں راشن تقسیم کرنے کے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

پی ایم اے کا اظہار تشویش
پی ایم اے نے کورونا سے متعلق پابندیوں میں نرمی سے متعلق فیصلے پراظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے مثبت کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو بیماری کابوجھ مزید بڑھے گا۔پاکستان میڈیکل ایسویس ایشن کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے اسپتالوں میں کورونا کے بستر کم پڑرہے ہیں مریضوں کو جگہ نہیں مل رہی پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ تھوڑا وقت سے پہلے کیا گیا ہے اس فیصلے سے ملک میں کورونا کے کیسز مزید بڑھ سکتے ہیں۔

عید الفطرکے بعد کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے کورونا کی تیسری لہر سے پہلے بھی پی ایم اے نے پابندیاں نرم نہ کرنے کی تنبیہ کی تھی پابندیوں میں نرمی سے صورتحال خراب ہونے کااندیشہ تھا اور ایسا ہی ہے سندھ خاص طورپر کراچی میں کورونا کی صورتحال خراب ہورہی ہے پی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ حکومت سندھ حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیکرپابندیاں اٹھانے کا فیصلہ کرے پی ایم اے ہمیشہ صوبوں اور تمام فریقین کی مشاورت سے یکساں پالیسی لاگو کرنے کا مشورہ دیتی ہے۔

سندھ حکومت
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوراں مزید 15 مریض انتقال کر گئے جبکہ 1248 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اور 908 افراد صحت یاب ہوئے ہیں ۔ انہوں نے یہ بات عالمی وبا کے حوالے سے آگاہی دیتے ہوئے آج بروز پیر وزیراعلیٰ ہاؤس سے اپنے بیان میں کہی۔

سندھ میں کیسز کی شرح
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17123 نمونوں کی جانچ کی گئی جس کے نتیجے میں 1248 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو کہ تشخیص کی شرح کا 7.3 فیصد بنتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج مزید 15 مریض انتقال کرگیا جس سے اموات کی مجموعی تعداد 4869 ہوگئی ہے جوکہ اموات کی شرح کا 1.6 فیصد بنتا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ابتک 3901272 نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے اور 304554 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج 24 گھنٹوں میں مزید 908 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جس سے صحت یاب افراد کی مجموعی تعداد 279188 ہوچکی ہے جو کہ بحالی کی شرح کا 91.3 فیصد بنتا ہے۔

اسپتالوں کی صورتحال
اسوقت 20497 مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 19610 گھروں کے اندر قرنطینہ ہیں، 862 مریض مختلف اسپتالوں اور 25 مریض آئیسولیشن سینٹرز میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 826 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جن میں سے 63 مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں وینٹی لیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے ۔

کراچی میں کورونا کے اعداد وشمار
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ کے 1248 کورونا وائرس کے کیسز میں565 کراچی شہر سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کراچی شرقی میں 234، کراچی وسطی میں 145، کراچی جنوبی میں 129، کورنگی میں 20، کراچی غربی میں 19 اور ملیر میں 18 نئے کیسز سامنے آئے۔

سندھ کے دیگر اضلاع
حیدرآباد میں206، سکھر میں 76، کشمور میں 57، دادو میں 39، مٹیاری میں 35، سجاول میں 30، میرپورخاص اور شکارپور میں 27-27، نوابشاہ میں 23، جیکب آباد میں 22، خیرپور اور ٹنڈو الہیار میں 21-21، ٹنڈو محمد خان میں 18، بدین اور جام شورو میں 15-15، گھوٹکی میں 12، لاڑکانہ میں 4، سانگھڑ میں 3، نوشہروفیروز اور عمرکوٹ میں ایک ایک مزید کیس سامنے آئے۔