مشرقِ وسطیٰ کا ایران امریکا جنگ کی حدت سے نبرد آزما خطہ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا ہے جو اگر پھٹا تو اس کے اثرات ومضمرات نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سیاست کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں کیونکہ امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
حالیہ ایام میں امریکی افواج کی جانب سے ایران کے اندر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور تہران نے بھی ترکی بہ ترکی اس کا جواب دیتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے اور خطے میں کشیدگی دوچند کردی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کی چنگاری کو ہوا دینے کے بعد امریکی سینٹ کام نے مسلسل تین راتوں سے ایران کے جنوبی ساحلوں پر سخت اور شدید حملے کیے ۔ بندر عباس، قشم، کیش اور ابو موسیٰ جیسے تزویراتی مقامات پر امریکی میزائلوں نے تباہی کی نئی داستانیں رقم کیں۔ تاہم اس تمام تر تصادم کا سب سے خوفناک پہلو صدر ٹرمپ کی وہ دھمکی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہم وسطی ایران کے کوہ کولانگ گازلا کو نشانہ بنانے جارہے ہیں۔ ایران مفاہمتی یادداشت ایک آزمائش تھی، ایران نے اس کی پاسداری نہیں کی۔
ایران کی یہ انتہائی محفوظ ایٹمی تنصیب جو تہران کے جنوب میں واقع ہے، ٹھوس گرینائٹ کی تہوں کے نیچے سینکڑوں میٹر گہرائی میں کھود کر بنائی گئی ہے۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق یہ مقام ایران کے ایٹمی پروگرام کا وہ خفیہ مہرہ ہے جسے تباہ کرنا امریکہ کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دو ٹوک بیان کہ ہم پک ایکس ماؤنٹین کو ختم کر دیں گے اس بات کا غماز ہے کہ واشنگٹن اب ایران کی ریڈ لائن کو عبور کرنے کیلئے ذہن بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں خطہ ایک بڑی مصیبت کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی خاموش تماشائی بننے کے بجائے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی اپنا لی ہے ۔پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کر دی اور یہاں ایک عجیب و غریب تضاد سامنے آیا کہ جہاں امریکہ لاکھوں ڈالر مالیت کے مہنگے ترین انٹرسیپٹر میزائل استعمال کر رہا ہے، وہیں ایران محض 30 ہزار ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے شاہد ڈرونز کے ذریعے خلیجی ممالک کے دفاعی نظام کو آزمائش میں ڈال رہا ہے اور یہ اَن چاہی جنگ خلیجی ممالک کیلئے ایک بھیانک خواب بنتی جارہی ہے کیونکہ ان کے دفاعی ذخائر تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔
یہی نہیں، بلکہ خلیجی ممالک اس وقت آگے کنواں پیچھے کھائی کی صورتحال سے دوچار ہیں کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی انہیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتی بلکہ ایرانی حملوں کا تر نوالہ بنا دیتی ہے۔ بحرین، قطر، کویت، عمان اور متحدہ عرب امارات نے اپنے دفاع کے لیے پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید ترین نظام نصب کر رکھے ہیں، لیکن ایرانی میزائلوں کی بوچھاڑ نے ان کی افادیت پر سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ قطر میں ایرانی میزائل گرنے سے ایک بچے سمیت تین افراد کا زخمی ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔
اس بحران کے دوران سفارتی محاذ پر ایک بڑی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آئی ، جب قطر نے حالیہ کشیدگی اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے ثالثی سے ہاتھ کھینچ لیے ، جبکہ قطر طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔ ایسے میں پاکستان کا کردار ایک کلیدی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کیلئے یہ ایک کڑی آزمائش ہے کہ وہ کس طرح دو روایتی حریفوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس لاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں موجود ابہام اور امریکی سینٹ کام اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان براہِ راست رابطوں کا نہ ہونا اور غلط فہمیوں کو جنم دینا اس آگ کو مزید بھڑکانے کا باعث بنا ہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، جبکہ یہ سمندری راستہ اس وقت میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے کیونکہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل ناکہ بندی کے اعلان نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کوایک بار پھر بڑھاوا دے دیا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہاز رانی مکمل بندش کے دہانے پر کھڑی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ کہ خلیجی ممالک اپنی حفاظت کے عوض امریکہ کو تجارتی سامان کی مالیت کا 20 فیصد ادا کریں، خطے کے ممالک کے لیے ایک نیا معاشی بوجھ ثابت ہوسکتا ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ ایک ایسے وقت میں جب خطہ جنگ کی لپیٹ میں ہے، قطر اپنے بانی امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات پر سوگوار ہے۔ ان کی وفات پر تعزیت کے لیے دنیا بھر کے رہنماؤں بشمول وزیر اعظم پاکستا ن شہباز شریف کی دوحہ آمد نے ثابت کیا کہ قطر اس وقت بھی سفارت کاری کا مرکز ہے۔ تاہم، امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو اب ایک طرف اپنے عظیم والد کا غم سہنا ہے اور دوسری طرف اپنے ملک کو ایران امریکا جنگ کی آگ سے بچانا ہے جو ان کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہے۔
خلیج میں جاری اس ہولناک تصادم کے سائے میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات امن کی ایک موہوم سی کرن دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا انخلا اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا سہی، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اسرائیل اب بھی لبنان کے اندر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ کسی بھی قیمت پر ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں۔
بحیثیت مجموعی ، آج مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں جنگ کے بھڑکتے شعلوں کو بجھانے کیلئے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کا جارحانہ لہجہ اور دوسری طرف ایران کا تزویراتی صبر اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر اب بھی پاکستان اور دیگر عالمی قوتیں فوری طور پر اثر و رسوخ استعمال کر کے فریقین کو دوبارہ میز پر لانے میں کامیاب ہوجائیں تو لحظہ لحظہ آزمائشوں سے گزرتی اور ہچکولے کھاتی ہوئی عالمی معیشت کی بحالی کی امید دم توڑنے سے بچ سکتی ہے ، شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے تاحال ثالثی سے پیچھے ہٹنے کا اعلان نہیں کیا اور مسلسل اپنی کاوشوں کو جاری رکھے ہوئے ہے ، بلاشبہ پاکستان کیلئے دنیا کی پیچیدہ ترین آزمائش ہے اوردیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کو جنگ کے بھڑکتے شعلوں سے کس طرح کھینچ کر امن کی جانب لاتا ہے ، کیونکہ پاکستان ماضی میں بھی دونوں ممالک کو جنگ سے پیچھے دھکیل کر پوری دنیا کو حیران کرچکا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت ایک بار پھر ایسا ہی کوئی اور سفارتی کرشمہ کرنے میں کامیاب ہوجائے جس کی آج پوری دنیا کو اشد ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں