ایران پر بھیانک حملے کی تیاریاں

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 اکتوبر 2026 کو ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیا ہے جبکہ ترکیہ میں امریکی سفیر ٹام بیرک نے بھی کہا ہے کہ امریکا ایران پر اسی ہفتے کے آخر میں حملہ کر سکتا ہے۔ بیرک کے اس بیان کے بعد ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ انہیں ایسی کسی ممکنہ کارروائی کے بارے میں علم نہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان کر چکے تھے۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ حملہ کیا تو وہ خلیجی خطے میں اہم تنصیبات اور زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے دنیا کا نظام جمود کا شکار ہوجائے گا۔ اس صورت حال میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ڈیٹا سینٹرز اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا کیا ہوگا؟ کیونکہ مائیکروسافٹ، ایمیزون ویب سروسز اور گوگل جیسی کمپنیاں خطے میں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی انفراسٹرکچر کو وسعت دے رہی ہیں۔ ایسے میں اگر جنگ پھیلتی یا شدت اختیار کرتی ہے تو ان سرمایہ کاریوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ آیا اسرائیل ایسی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر خلیجی ممالک کو اپنی سلامتی کے لیے ابراہم اکارڈ جیسے ایگریمنٹ پر مزید انحصار کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے، جبکہ جنگ کے بعد تعمیرِ نو میں امریکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی فوجی کارروائیوں اور سخت اقدامات میں مزید اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ 23 اکتوبر کو الخلیل کے قریب ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جس کے بعد وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے متعلقہ علاقے میں وسیع فوجی کارروائی، مکانات کی تلاشی، ہتھیار ضبط کرنے اور مبینہ عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد اسرائیلی بلڈوزروں نے بعض مکانات منہدم کرنا شروع کر دیے۔ نیتن یاہو کا یہ مؤقف کہ انتخابات کے بعد بھی غزہ میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی جاری رہ سکتی ہے، اس وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت اسرائیل غزہ سے فوجی انخلا کو حماس کے غیر مسلح ہونے اور مستقبل کے انتظامی بندوبست سے مشروط کرتا رہا ہے۔ اس صورت حال سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی فوجی موجودگی اور مغربی کنارے میں مزید سخت اقدامات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار اور امریکی محکمہ خارجہ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کے سابق عہدیدار لیری سی جانسن کے مطابق متحدہ عرب امارات نے تاحال ایران سے خفیہ رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے تاکہ اس پر کوئی حملہ نہ ہو جس کے عوض یقیناً یو اے ای نے پس پردہ کوئی مالی یا معاونتی بندوبست کر رکھا ہوگا۔

اس سے قبل بھی اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیتوں کو اپنے لیے خطرہ قرر دیتا آیا ہے تاہم اس بار اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ایسا بہانہ بنایا ہے کہ ایران نیوکلیئر بم بنانے والا ہے اور اسرائیل کو اس سے سلامتی کے خطرات لاحق ہیں اور محسوس یہی ہوتا ہے کہ اپنی سلامتی کو بہانہ بنا کر اسرائیل بھی ایران پر حملہ کرنے کیلئے بالکل تیار بیٹھا ہے۔

اس تنازعے کا ایک اہم پہلو امریکی داخلی سیاست بھی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو کہا تھا کہ امریکا 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، جبکہ 23 اکتوبر کو ان کے اپنے سفیر ٹام بیرک نے ممکنہ حملے کو مسترد نہیں کیا۔ اس تضاد سے امریکی پالیسی کے بارے میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ بیرک نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد لازماً ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ علاقائی خطرات کم کرنا ہے۔ امریکی انتخابات کے نتائج صدر کی سیاسی پوزیشن اور جنگ کے بارے میں فیصلوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، تاہم ایران اور امریکا نے جنگ کی تیاری اور مشقیں شروع کر رکھی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے حملہ کچھ ہی وقت کی بات رہ گئی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی کوششوں کا پس منظر بھی اہم ہے کیونکہ جون 2026 میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت اور جوہری پروگرام جیسے معاملات پر مزید بات چیت کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ تاہم فریقین کے اختلافات اور جنگ بندی کے بعد دوبارہ پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس عمل کو کمزور کیا۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے سے تیل کی عالمی رسد، بیمہ اخراجات اور نقل و حمل کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے اثرات صرف امریکا یا خلیجی ممالک تک محدود نہیں بلکہ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک بھی اس سے براہِ راست متأثر ہورہے ہیں۔

ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو اس تنازعے میں شامل کرنا محض قیاس آرائی نہیں رہا۔ 23 اکتوبر کو رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام نے ممکنہ نئی جنگ کی صورت میں خلیج میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبوں کا ذکر کیا ہے۔ ایرانی حکام پہلے ہی امریکی روابط رکھنے والے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو ممکنہ اہداف قرار دے چکے ہیں۔ مائیکروسافٹ نے ستمبر 2026 میں اعلان کیا کہ وہ 2030 تک مشرقِ وسطیٰ میں 10ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ ایمیزون ویب سروسز، گوگل اور اوریکل بھی خلیجی خطے میں ڈیجیٹل بنیادی انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ اس لیے کسی نئی جنگ کے اثرات فوجی تنصیبات تک محدود رہنے کے بجائے انٹرنیٹ، مالیاتی لین دین، کاروباری خدمات اور عالمی ڈیجیٹل معیشت تک پھیل سکتے ہیں۔

اس لیے ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کو صرف ممکنہ فضائی حملوں کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں بلکہ خلیجی ممالک کی سلامتی، امریکی داخلی سیاست، اسرائیلی علاقائی حکمتِ عملی، عالمی توانائی کی رسد اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری بھی اس کے ساتھ منسلک ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکیں تو کسی نئی جنگ کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

Related Posts