ملک بھر میں گیس کے نئے کنکشنز کے منتظر لاکھوں گھریلو صارفین کے لیے امید کی ایک بڑی اور خوش آئند کرن نمودار ہوئی ہے۔ طویل عرصے سے گیس بحران اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے شہریوں کے لیے آئندہ ستمبر کا مہینہ بڑی خوشخبری لا سکتا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے ایل این جی کے گھریلو کنکشنز پر عائد کی گئی پابندی کو ختم کیے جانے کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملک بھر میں گیس کنکشنز کے حصول کے لیے دائر درخواستوں پر لگی پابندی ستمبر تک ہٹائی جا سکتی ہے۔ اس ممکنہ فیصلے کی سب سے بڑی وجہ قطر کی جانب سے ایل این جی سپلائی پر عائد فورس میجر کا خاتمہ ہے۔
واضح رہے کہ قطر نے ایل این جی سپلائی کی عارضی معطلی سے متعلق رواں سال اگست تک فورس میجر کا اعلان کر رکھا تھا جس کے باعث گیس کی شدید قلت پیدا ہوئی اور گزشتہ مئی میں حکومت کو ایل این جی کے نئے کنکشنز فراہم کرنے کا عمل ہنگامی طور پر روکنا پڑا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر کا مہینہ گیس کی دستیابی کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ ایک طرف تو ستمبر سے قطر کی جانب سے ایل این جی کی سپلائی دوبارہ بحال ہونے سے ملک میں گیس کا اسٹاک نمایاں طور پر بہتر ہو جائے گا تو دوسری طرف اسی مہینے کے دوران پاور سیکٹر (بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں) کی طرف سے گیس کی طلب میں بھی واضح کمی واقع ہوگی جس سے گھریلو صارفین کے لیے اضافی گیس دستیاب ہو سکے گی۔
گیس حکام کا اس حوالے سے محتاط موقف سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل این جی کنکشنز پر سے پابندی ہٹانے کا حتمی اور حتمی فیصلہ ستمبر کے مہینے میں سپلائی اور طلب کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی اور باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ رواں سال مئی میں ملک کو درپیش شدید گیس بحران کے پیشِ نظر حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ملک بھر میں نئے گیس کنکشنز کے اجرا پر مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ اس سلسلے میں وزارتِ پیٹرولیم کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے فوراً بعد سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے نئے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرنا بند کر دیے تھے۔
ذرائع نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ اس سخت فیصلے کے تحت ارجنٹ (فوری) کیٹیگری اور عام فیس جمع کرانے والے تمام صارفین کے لیے نئے گیس کنکشنز کی فراہمی کو مکمل طور پر روک دیا گیا تھا، جو اب ستمبر میں بحال ہونے کی توقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








