معروف ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کی شادی کی تقریبات کے دوران بھگدڑ سے ایک شخص کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مزید سخت اقدام کرتے ہوئے ڈسکہ روڈ پر منعقد ہونے والی محفلِ سماع اور قوالی نائٹ کا اجازت نامہ منسوخ کردیا۔
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق نجی تقریب کے انعقاد کے لیے جاری کیے گئے این او سی میں واضح کیا گیا تھا کہ پروگرام کا آغاز نمازِ عشاء کے بعد کیا جائے گا تاہم منتظمین کی جانب سے مقررہ وقت سے پہلے ہی شام تقریباً 4 بجے انتظامات شروع کرنے اور شرائط کی خلاف ورزی کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اجازت نامہ منسوخ کردیا۔ انتظامیہ نے ممکنہ خلاف ورزی اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے پروگرام شروع ہونے سے پہلے ہی یہ فیصلہ کیا۔
مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک شخص جاں بحق، متعدد زخمی
یاد رہے کہ گزشتہ رات ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران شدید بدنظمی اور بھگدڑ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 18 سے زائد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
پولیس کے مطابق تقریب میں عام شہریوں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی جبکہ سوشل میڈیا پر نقد انعامات، ایک کار، 50 موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف تقسیم کرنے کے اعلانات کیے گئے تھے۔ انعامات حاصل کرنے کی امید میں سیالکوٹ سمیت گوجرانوالہ، گجرات، وزیر آباد، نارووال اور منڈی بہاؤالدین سے بڑی تعداد میں لوگ گراؤنڈ پہنچ گئے۔
پولیس کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق اسٹیج سے شرکا کو گراؤنڈ کے اندر آنے کی ہدایت دی گئی جس کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں نے بیک وقت داخل ہونے کی کوشش کی اور بھگدڑ مچ گئی۔ واقعے میں عقیل نامی شخص جان کی بازی ہار گیا۔
مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد افراد کے خلاف مقدمہ
واقعے کے بعد مقامی پولیس نے ٹک ٹاکر مسٹر پتلو سمیت 9 نامزد اور 45 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جبکہ 6 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق مسٹر پتلو سمیت دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
عینی شاہدین نے کیا بتایا؟
واقعے کے زخمی عینی شاہد محمد رفیق کے مطابق انعامات کی تقسیم کے اعلانات کے باعث گراؤنڈ کے باہر لوگوں کا ہجوم مسلسل بڑھ رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شرکا کو بتایا گیا تھا کہ رات 9 بجے کے بعد انعامات تقسیم کیے جائیں گے جس کے باعث لوگ بڑی تعداد میں وہاں موجود رہے۔
ایک اور زخمی شہری عبدالرشید نے الزام عائد کیا کہ تقریب کے منتظمین اور سکیورٹی عملے کے پاس ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق پروگرام اور انعامات سے متعلق متضاد اعلانات کے باعث شرکا میں بے چینی اور غصہ بڑھتا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق گراؤنڈ کے دروازے کھلنے پر لوگوں نے بیک وقت اندر داخل ہونے کی کوشش کی جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہجوم کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج بھی کیا گیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی اور متعدد افراد لوگوں کے پیروں تلے کچلے گئے۔
مسٹر پتلو کا موقف بھی سامنے آگیا
واقعے کے بعد مسٹر پتلو نے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی کی تقریبات ملتوی کردی گئی ہیں اور لوگوں سے گھروں کو واپس جانے کی اپیل کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک روز قبل گھر میں گرنے کے باعث انہیں چوٹ آئی تھی جس کی وجہ سے وہ تقریبات میں شریک نہیں ہورہے تھے۔
دوسری جانب ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے اپنے بیان میں کہا کہ مسٹر پتلو اپنے مداحوں اور مہمانوں کو شادی کی خوشی میں تحائف دینا چاہتے تھے تاہم شرکا کی بڑی تعداد کے باعث ہجوم کو سنبھالنا انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہوگیا۔ ٹیم کے مطابق گیٹ قبل از وقت کھلنے اور سکیورٹی اہلکاروں کی کمی نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوسری تقریب کا این او سی منسوخ کیے جانے کو ممکنہ بدنظمی اور مزید کسی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کے لیے اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








