خطے میں جاری جنگ، ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات اور خلیجی ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرات نے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کردار ادا کرنے کی ضرورت پیدا کردی ہے۔ اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے میں تہران میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے اعلیٰ حکام کی ملاقات اس سلسلے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ اس ملاقات نے واضح کیا کہ علاقائی تنازعات کے حل کے لیے محض عسکری طاقت یا بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے خطے کے ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے بھی ناگزیر ہیں۔ تاہم اس سفارتی پیش رفت کو جنگ کے خاتمے یا کسی حتمی معاہدے کے مترادف قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کی اہمیت اس حقیقت سے بڑھ جاتی ہے کہ اسلام آباد کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی دفاعی تعلقات ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ اس کی طویل مشترکہ سرحد، تجارتی روابط اور علاقائی سلامتی سے متعلق مشترکہ مفادات بھی موجود ہیں۔ ان مختلف تعلقات کو بیک وقت برقرار رکھنا ایک پیچیدہ سفارتی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کے امکانات بھی محفوظ رکھے۔
اس سے قبل 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والے چار ملکی اجلاس میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکیہ کی قومی انٹیلی جنس تنظیم کے سربراہ ابراہیم قالن اور ایرانی حکام نے شرکت کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ سکیورٹی قیادت سے ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی، جنگ کے اثرات، فلسطین و لبنان کی صورت حال اور مستقبل میں باہمی تعاون پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مذاکرات اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
سعودی وزیر دفاع کا تہران پہنچنا اس لیے بھی اہم تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے تعلقات حالیہ جنگ اور یمن میں حوثی حملوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ 27 اکتوبر کو سعودی قیادت میں سرگرم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی طرف داغے گئے میزائل اور ڈرون مار گرائے گئے۔ ان حملوں نے ریاض کے لیے دفاعی تحفظ اور تہران کے ساتھ سفارتی رابطوں، دونوں کی اہمیت بڑھا دی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان اگست 2026 میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے بدلتے سکیورٹی ماحول میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس معاہدے میں کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملے کے طور پر دیکھنے اور دفاعی تعاون بڑھانے کا تصور شامل ہے۔ اس کے تحت فوجی تعاون، مشترکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے جیسے شعبے بھی زیرِ بحث ہیں۔
اٹھائیس اکتوبر کو ترکیہ کی پارلیمانی خارجہ امور کمیٹی نے معاہدے کی منظوری دے کر اسے پارلیمان کے مکمل ایوان میں بحث اور ووٹنگ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ تاہم ترکیہ کے حکام نے معاہدے کو دفاعی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ دفاعی صلاحیت اور علاقائی استحکام کو مضبوط کرنا ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان تعاون ایران کے ساتھ مذاکرات کا متبادل نہیں بلکہ اس کے متوازی ایک دفاعی اور سفارتی فریم ورک بن سکتا ہے جبکہ تہران کے لیے یہ بات اہم ہے کہ اس کے ہمسایہ ممالک اپنی سلامتی کے انتظامات میں ایران کو مستقل مخالف کے طور پر دیکھنے کے بجائے براہِ راست رابطے کا راستہ بھی کھلا رکھیں۔ اسی طرح پاکستان اور سعودی عرب کے لیے ضروری ہے کہ ان کا دفاعی تعاون ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کا سبب نہ بنے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ اور مذاکرات کا سب سے حساس پہلو آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی، پابندیوں اور جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات ہیں۔ ایران نے حالیہ تجاویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے جاری کرنے اور تیل کی فروخت پر پابندیاں نرم کرنے جیسے مطالبات پیش کیے ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن چاہتا ہے کہ کسی بھی جامع معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودگی کی سطح اور بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی کے معاملات بھی شامل ہوں۔
آج کی تازہ ترین صورت حال میں اہم بات یہ ہے کہ سفارتی کوششیں جاری ہونے کے باوجود ایران امریکا بنیادی اختلافات حل نہیں ہوئے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے جنگ اور ناکہ بندی سے متعلق معاملات طے کیے جائیں، جبکہ امریکہ جوہری مسئلے کو مذاکرات کے بنیادی حصے سے الگ رکھنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے ایرانی تجویز مسترد کی تھی، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے لیے آمادگی کے ساتھ نئے حملوں کی صورت میں جواب دینے کی تیاری کا مؤقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان نے 28 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری معاملے پر زور دیا کہ تہران اور واشنگٹن جون میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔ پاکستانی نمائندے نے کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز اور جوہری تنازعے کے تکنیکی پہلوؤں کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے دائرۂ کار میں حل کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی۔ یہ مؤقف پاکستان کی اس کوشش کا تسلسل ہے جس کے ذریعے وہ دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
اس سفارتی عمل میں قطر کا کردار بھی اہم ہے۔ قطر اور پاکستان ایران امریکہ کے درمیان پیغامات کی ترسیل اور جنگ بندی سے متعلق تجاویز پر رابطوں میں معاون رہے ہیں۔ خلیجی ممالک کی نئی کوششوں میں آبنائے ہرمز کو کھولنے، یمن میں حوثیوں کے حملوں کو روکنے اور خطے کے لیے وسیع تر عدم جارحیت کے انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ان تجاویز پر فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا۔
اس کشیدگی کے اثرات پاکستان کی معیشت تک بھی پہنچے ہیں۔ 23 اکتوبر کو رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے ایرانی ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوئی اور بلوچستان میں 12 کلوگرام سلنڈر کی قیمت تقریباً 4,500 روپے سے بڑھ کر 7,000 روپے تک پہنچ گئی۔ تاہم 26 اکتوبر کو پاکستانی میڈیا نے درآمد کنندگان کے حوالے سے بتایا کہ تفتان اور گبد کے راستوں سے ایل پی جی کی ترسیل دوبارہ شروع ہوئی اور قیمتوں میں کمی کی توقع پیدا ہوئی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سرحدی کشیدگی کا اثر صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں بلکہ توانائی کی فراہمی، مقامی تجارت اور عام صارفین کے اخراجات پر بھی پڑتا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے لیے اصل کامیابی محض کسی اجلاس کی میزبانی یا سفارتی ملاقاتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہوگی کہ رابطوں کو قابلِ عمل نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔ ایران، امریکہ، سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کے مفادات مختلف ہیں، لیکن جنگ کے پھیلاؤ، توانائی کی ترسیل میں رکاوٹوں اور علاقائی عدم استحکام کے خطرات سب کو متاثر کرتے ہیں۔ تہران اجلاس نے مذاکرات کا ایک نیا راستہ ضرور کھولا ہے، مگر جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، یمن میں کشیدگی کے خاتمے اور جوہری تنازعے پر پیش رفت کے لیے مزید ٹھوس اقدامات درکار ہیں اور پاکستان کی جانب سے ایسے ہی ٹھوس اقدامات کیلئے مزید کاوشیں جاری و ساری ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








