عوام کو غیر ملکی اشیاء سستی کیوں مل رہی ہے؟ حکومت کا نیا معاشی منصوبہ زیر غور

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

مقامی صنعت کو غیرملکی سستی مصنوعات کی یلغار سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کے قانون میں اہم تبدیلیوں کی تیاری کرلی ہے۔ مجوزہ ترامیم کے تحت ڈیوٹی کی وصولی یقینی بنانے، ریفنڈ کے طریقہ کار کو سخت کرنے اور قانونی کارروائی میں تاخیر کم کرنے کے لیے نئے اقدامات متعارف کروانے کی تجویز دی گئی ہے۔

دستاویزات کے مطابق اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی ادائیگی محفوظ بنانے کے لیے متعلقہ فریقوں کو بینک گارنٹی فراہم کرنے یا نقد رقم جمع کروانے کی سہولت دی جاسکے گی تاکہ عائد کردہ ڈیوٹی کی وصولی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

مجوزہ قانون میں غیرضروری ریفنڈز کی روک تھام کے لیے بھی شرائط مزید سخت کرنے کا فیصلہ زیر غور ہے۔ اس حوالے سے تجویز دی گئی ہے کہ درآمد کنندگان کو ڈیوٹی کی رقم واپس کرنے سے پہلے یہ اطمینان کرنا ضروری ہوگا کہ اس کا مالی بوجھ خریدار پر منتقل ہوا ہے یا نہیں۔ نیشنل ٹیرف کمیشن کے مطمئن ہونے کے بعد ہی ریفنڈ کی اجازت دی جاسکے گی۔

دستاویزات میں اینٹی ڈمپنگ سے متعلق مقدمات میں اپیلوں کا عمل تیز کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ ٹریبونل کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹایا جاسکے اور قانونی کارروائی غیرضروری تاخیر کا شکار نہ ہو۔

مجوزہ ترامیم کے تحت عارضی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے لیے عائد کی جاسکے گی تاہم مخصوص ضرورت کے تحت اس مدت میں مزید دو ماہ کی توسیع کی گنجائش بھی رکھی جائے گی۔

مجوزہ تبدیلیوں کا بنیادی مقصد غیرملکی مصنوعات کی غیرمنصفانہ قیمتوں کے باعث مقامی صنعت کو پہنچنے والے نقصان کی روک تھام، تحقیقات کے عمل کو تیز اور اینٹی ڈمپنگ قوانین کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔

ان ترامیم کے ذریعے نیشنل ٹیرف کمیشن کی انتظامی اور قانونی صلاحیت بہتر بنانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، تاکہ ڈمپنگ سے متعلق شکایات کی تحقیقات اور فیصلوں میں غیرضروری تاخیر ختم کی جاسکے۔

مجوزہ قانونی تبدیلیاں نافذ ہونے کی صورت میں مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی کی وصولی اور اس کے ریفنڈ کے نظام کو بھی زیادہ موثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

Related Posts