ریلوے کا 2 ارب ڈالر کا ایم ایل ون منصوبہ 8 ارب ڈالر تک کیسے پہنچا؟ جانیں اہم ترین انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ وزارت ریلوے)

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ریلوے کے اہم منصوبے مین لائن ون (ایم ایل ون) کی تکمیل میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت میں 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد منصوبے کا تخمینہ 8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق روہڑی سے کراچی تک ایم ایل ون کے سیکشن پر کام آئندہ سال جون تک شروع کرنے کا ہدف ہے جبکہ پورا منصوبہ ڈھائی سال میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

حنیف عباسی نے بتایا کہ ایم ایل ون منصوبے کا کنٹریکٹ تین سال کے لیے ہوگا تاہم اسے دو سے ڈھائی سال میں مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ منصوبے سے متاثر ہونے والے افراد کو متبادل رہائش اور جگہ فراہم کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے ریلوے کے انجنوں کی صورتحال سے متعلق بتایا کہ مجموعی 439 انجنوں میں سے 267 فعال جبکہ 172 غیر فعال ہیں۔ ان کے مطابق چھ انجن صرف چھ ماہ چلنے کے بعد خراب ہوگئے جبکہ 40 انجنوں کی اوورہالنگ جاری ہے جس پر 45 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ فی الحال نئے انجن خریدنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے ورکشاپس کی پرانی مشینری کو دوبارہ فعال بنانے اور لیبارٹری کی استعداد بہتر کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

حنیف عباسی کے مطابق پاکستان ریلوے کی آمدن تاریخ میں پہلی مرتبہ 100 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ آپریٹنگ اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔ اب 100 روپے کی آمدن کے حصول پر 84 روپے خرچ ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان ریلوے نے 21 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی 2 لاکھ 82 ہزار 609 ایکڑ اراضی بھی واگزار کرائی ہے۔

Related Posts