ایران جنگ، یمن محاذ اور مذاکرات کی امید

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران اور امریکا کی جنگ ابھی تھمنے ہی نہ پائی تھی کہ یمن میں حوثیوں کی نئی پیش قدمی اور سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کردیا ہے جہاں یمن اب محض ایک الگ جنگ نہیں رہا۔ نجران سے آبنائے ہرمز اور تہران سے ریاض تک بظاہر مختلف بحران ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ پاکستان ایک مرتبہ پھر ان متضاد محاذوں کے درمیان امن کے حصول کیلئے سفارتی راستہ تلاش کررہا ہے۔

اس منظرنامے میں نجران خصوصی اہمیت اختیار کرگیا ہے کیونکہ 1934 کی سعودی۔یمن جنگ کے اختتام پر معاہدۂ طائف کے ذریعے نجران، جیزان اور عسیر کے علاقے سعودی عرب نے حاصل کرلیے، جبکہ سعودی فوج نے جنگ کے دوران یمن کے اندر فتح کیے گئے علاقوں سے انخلا کیا اور الحدیدہ سمیت علاقوں پر یمنی اقتدار بحال ہوا۔یوں موجودہ سرحد محض جغرافیائی لکیر نہیں بلکہ ایک تاریخی تنازعے کا نتیجہ بھی ہے۔

نجران کی اہمیت کا ایک دوسرا پہلو سرحد کے دونوں طرف موجود قبائلی روابط ہیں۔ صنعاء سینٹر کی ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق نجران کی یام اور شمالی یمن کی بعض قبائلی آبادیوں کے درمیان سماجی، مذہبی اور خاندانی تعلقات سرحد سے کہیں پرانے ہیں؛ حتیٰ کہ صعدہ کی جنگوں کے دوران یام کے بعض قبائلی حلقوں نے سرحد پار قبائل سے یکجہتی بھی ظاہر کی تھی۔

یمن کے معاملے میں سامنے آنے والا بہت تشویشناک پہلو یہ ہے کہ نجران کے قبائل حوثیوں کے پاس جرگہ لے کر پہنچے اور سعودی عرب کی جگہ حوثیوں سے وفاداری کا عہد کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا کہ اگر حوثی نجران پر حملہ کردیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائے گا جو سعودی عرب کیلئے داخلی سلامتی کا نہایت حساس معاملہ بن سکتا ہے۔ اسی کشیدگی کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر 20 اکتوبر کو تہران پہنچے، جہاں انہوں نے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار محسن رضائی سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔یہاں اصل معاملہ ایران کی وہ 7 شرائط ہیں جو اس نے امریکا کے سامنے رکھی ہیں۔ ان میں ایرانی تیل پر امریکی پابندیوں کا خاتمہ، ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنا اور خطے میں دشمنانہ کارروائیاں روکنا شامل ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو 7 دن میں دوبارہ کھولنے کی پیشکش بھی انہی شرائط سے منسلک کررکھی ہے۔

اس تصویر کا دوسرا اہم رخ یمن ہےاورفیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے حوالے سے امید کی کرن یہ ہے کہ حوثیوں کے حوالے سے بھی فیلڈ مارشل نے ضرور ایرانیوں سے معاونت پر بات کی ہوگی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی، لیکن ان کے بقول ابھی تک سعودی عرب اور حوثیوں کی جانب سے اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا جو کہ یقیناً ایک ناقابلِ فہم بات ہے کیونکہ ایران کا حوثیوں پر اثر کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے۔

اس سے قبل 19 اکتوبر کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے اسی وسیع تر نکتے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقائی مسائل فوجی طریقے سے حل نہیں ہوں گے اور خلیج کی سلامتی ایسا علاقائی بندوبست ہونا چاہیے جس میں بیرونی افواج پر انحصار نہ ہو۔روس نے بھی مذاکراتی حل کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے ساتھ اپنے تزویراتی تعاون کو جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔

لیکن زمینی حقیقت سفارت کاری سے زیادہ تیزی سے تبدیل ہورہی ہے۔ حوثی سعودی اہداف، ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے دعوے کررہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں جہاز رانی کے خطرات نے عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کیا ہے۔

اسی پس منظر میں برطانیہ نے آر اے ایف کے ٹائفون لڑاکا طیارے سعودی عرب بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزارت دفاع کے مطابق یہ طیارے دفاعی کردار میں سعودی شہروں اور اہم تنصیبات کو فضائی حملوں سے بچانے کے لیے استعمال ہوں گے ، تاہم حوثیوں پر جارحانہ حملے نہیں کریں گے۔

فی الحال امید کی سب سے اہم کرن یہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور پاکستان اس رابطے میں فعال ہے۔ لیکن اگر یمن کا محاذ سعودی سرحد کے اندرونی سماجی و قبائلی معاملات سے جڑنے لگا، یا حوثی حملے توانائی اور شہری مراکز پر مزید شدت اختیار کرگئے، تو بحران صرف ایران اور امریکا کے درمیان نہیں رہے گا۔ تب نجران، یمن، آبنائے ہرمز اور سعودی عرب ایک ہی علاقائی بحران کے مختلف محاذ بن سکتے ہیں۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے 18 اکتوبر کو اپنے بیان میں خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کسی نئی فوجی کارروائی کی صورت میں ایرانی مسلح افواج پہلے سے زیادہ سخت جواب دینے کی تیاری کرچکی ہیں۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق رضائی نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی مسلسل دھمکیاں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کسی نئی مہم جوئی کے جواب کے لیے گزشتہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں سے بھی زیادہ تباہ کن منصوبہ تیار کر رکھا ہے۔

تاہم پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کاوشیں جاری ہیں اور ایران اور امریکا دونوں یہ بات خوب سمجھتے ہیں کہ مسلسل فوجی کارروائیوں سے مخالف فریق کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے، لیکن اس سے سیاسی مقاصد حصول آسان نہیں بنایا جاسکتا۔ ایران کو اپنی سلامتی، خودمختاری اور اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ امریکا کو علاقائی استحکام، اپنے اتحادیوں کے تحفظ، بحری تجارت اور جنگ کے وسیع تر معاشی و سیاسی نتائج کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر فریقین مزید تباہی، معاشی دباؤ اور علاقائی عدم استحکام سے بچنا چاہتے ہیں تو انہیں جنگ بندی، سلامتی کی ضمانتوں، بحری آمدورفت کے تحفظ اور اختلافات کے قابلِ تصدیق حل پر بات کرنا ہوگی۔ بالآخر ایران اور امریکا دونوں کے لیے مذاکرات ہی ایسا راستہ ہیں جو جنگ کے خاتمے اور پائیدار سیاسی تصفیے کی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔

Related Posts