کھمبوں والی سڑک کا معاملہ! ترجمان حیسکو نے مراد علی شاہ کے گرینڈ پلان کا پوسٹ مارٹم کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

حیدرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی کا ایک ایسا انوکھا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔ حیدرآباد میں سڑک کے عین درمیان بجلی کے کھمبے موجود ہونے کے باوجود تعمیراتی کام جاری رکھنے اور ٹریفک کے لیے راستہ کھولنے کے معاملے پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی وضاحت نے تنازع مزید بڑھا دیا ہے۔

معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب وزیراعلیٰ سندھ نے ایک تقریب کے دوران اعتراف کیا کہ سڑک کی تعمیر کھمبے ہٹائے بغیر شروع کرنے کا فیصلہ دراصل حیسکو پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ اس بیان کو انہوں نے ایک گرینڈ پلان قرار دیا تاہم اس وضاحت کے بعد سوشل میڈیا پر حکومت کو مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

کھمبے ہٹوانے کے لیے سڑک پہلے ہی بنا دی؟

حیدرآباد میں علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک زیر تعمیر سڑک کے درمیان بجلی کے کھمبوں کی موجودگی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے باوجود کئی مقامات پر بجلی کے کھمبے درمیان میں موجود ہیں اور گاڑیوں کو وہاں سے گزرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

شدید عوامی ردعمل کے بعد کراچی آرٹس کونسل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ سڑک کی تعمیر کے لیے زمین کے حصول کی منظوری حاصل کرلی گئی تھی اور حیسکو کو بھی کھمبوں کی منتقلی کے لیے ادائیگی کی جاچکی تھی لیکن اس کے باوجود بجلی کے کھمبے منتقل نہیں کیے جارہے تھے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق حیسکو کو متحرک کرنے اور اس پر دباؤ بڑھانے کے لیے حکومت نے کھمبے اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود سڑک کی تعمیر شروع کروا دی تاکہ میڈیا میں معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ وفاقی ادارہ کارروائی پر مجبور ہو۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 100 میں سے 25 کھمبے منتقل کیے جاچکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے میڈیا اور سوشل میڈیا کا شکریہ بھی ادا کیا اور دیگر تعطل کا شکار ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی اسی طرح توجہ دلانے کی درخواست کی۔

اعترافی ویڈیو بھی سرکاری اکاؤنٹ سے غائب

وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان کی ویڈیو وزیراعلیٰ ہاؤس کے سرکاری اکاؤنٹ پر بھی شیئر کی گئی تھی تاہم بعد ازاں اسے ڈیلیٹ کردیا گیا۔ ویڈیو ہٹائے جانے کے بعد بھی معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا اور صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر بجلی کے کھمبے ہٹوانے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی تھی تو شہریوں کو ممکنہ حادثات کے خطرے میں کیوں ڈالا گیا؟

سوشل میڈیا پر حکومت کو کڑی تنقید کا سامنا

مراد علی شاہ کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔

سوشل میڈیا صارف اور ولاگر عنبر دانش نے اپنے تبصرے میں اس حکمت عملی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھمبوں سے بھری سڑک کو ٹریفک کے لیے کھول کر شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا کس قسم کی منصوبہ بندی ہے۔

ایک اور صارف مونس جاوید نے وفاقی اداروں کی سستی کو جواز بنا کر کھمبے ہٹائے بغیر ٹریفک بحال کرنے کے فیصلے پر تنقید کی۔ انکے مطابق یہ اقدام انتظامی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں رہا بلکہ اسپین کے ایک ٹی وی چینل نے بھی اس ویڈیو کو اپنے پروگرام میں نشر کیا۔

حیسکو بھی سندھ حکومت کے اقدام پر حیران

دوسری جانب حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) نے بھی کھمبے منتقل کیے بغیر سڑک کی تعمیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

حیسکو کے ترجمان صادق کُبر کے مطابق معمول کے طریقہ کار میں کسی بھی سڑک کی تعمیر سے پہلے بجلی کے کھمبوں اور دیگر تنصیبات کی منتقلی ضروری ہوتی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو نشانات اور ضروری تفصیلات فراہم کرنے کے بعد ہی سڑک کی تعمیر اور کارپٹنگ کا کام کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ محکموں کو آگاہ کرنے کے باوجود کھمبے منتقل کیے بغیر تعمیراتی کام جاری رکھنے کی وجہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ حیسکو کو بھی اس بات کی پیشگی اطلاع نہیں تھی کہ سڑک کی تعمیر اس انداز میں آگے بڑھائی جائے گی۔

ترجمان کے مطابق علمدار چوک سے اولڈ نیشنل ہائی وے تک منصوبے کے سلسلے میں 22 فیڈرز کا کام مکمل کیا جاچکا ہے، جبکہ باقی فیڈرز کا لوڈ منتقل کرنے کے لیے جمعہ کو دو مرتبہ بجلی کی بندش کی جائے گی۔ ان کے مطابق درمیان میں موجود مزید 25 کھمبے بھی ہٹائے جائیں گے اور یہ کام اتوار تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔

کھمبے ہٹنے کے بعد نئی سڑک کا کیا ہوگا؟

اس پورے معاملے نے کئی اہم سوالات بھی کھڑے کردیے ہیں۔ اگر کھمبوں کی منتقلی کے بغیر سڑک تعمیر کی گئی تو انہیں ہٹانے کے بعد سڑک کو دوبارہ توڑنے اور مرمت کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس اضافی تعمیراتی کام پر آنے والے اخراجات کون برداشت کرے گا؟ کیا نئی تعمیر شدہ سڑک دوبارہ کھدائی کے بعد اپنی پائیداری برقرار رکھ سکے گی؟ اور کیا مرمت کا کام اسی معیار کے مطابق ہوگا جس کی ایک نئی سڑک سے توقع کی جاتی ہے؟

دوسری جانب میئر حیدرآباد کے ترجمان نے جیو نیوز سے گفتگو میں موقف اختیار کیا تھا کہ سڑک ابھی زیر تعمیر ہے اور اسے عارضی طور پر ٹریفک کے لیے کھولا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ کے بیان، حیسکو کے تحفظات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی فوٹیج نے ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی، اداروں کے درمیان رابطے اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سندھ حکومت کی کارکردگی پر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

Related Posts