کرپٹو ایکسچینج بائنانس کا 5 ارب 99 کروڑ ڈالر ریکور کرنے کا دعویٰ! جانیں معاملہ ہے کیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس نے اپنے پلیٹ فارم سے چوری ہونے والے 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثوں میں سے 95 فیصد کی فراہمی کا انتظام کرنے کے بعد صارفین کے لیے رقم نکلوانے کی سہولت مرحلہ وار بحال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

بائنانس کے مطابق کرپٹو کرنسی کی واپسی کا پہلا مرحلہ اتوار کو عالمی وقت کے مطابق صبح 6 بجے سے 9 بجے کے درمیان شروع ہوگا جس کے تحت صارفین بٹ کوائن، ایتھیریم، بی این بی، سولانا، ایکس آر پی، ڈوج کوائن سمیت دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی منتقلی اور رقم نکلوانے کی سہولت استعمال کرسکیں گے۔

کمپنی نے ہفتے کی شب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کا باقی 5 فیصد حصہ نسبتاً کم لیکویڈیٹی رکھنے والی کرپٹو کرنسیوں پر مشتمل ہے جنہیں مطلوبہ مقدار میں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ہفتے کو تصدیق کی کہ اس سائبر حملے میں شمالی کوریا کے سرپرستی یافتہ ہیکنگ گروپ ‘ٹریڈر ٹریٹر’ (TraderTraitor) کا ہاتھ تھا۔

ایف بی آئی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گروپ کے ارکان کو چوری شدہ ڈیجیٹل اثاثوں کو ایتھیریم کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے ہوئے دیکھا۔ امریکی تحقیقاتی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہیکرز متعلقہ ٹیکنالوجی کے ذریعے چوری شدہ اثاثوں کو مزید خفیہ طریقوں سے منتقل کرنے کی کوشش بھی کرسکتے ہیں۔

شمالی کوریا طویل عرصے سے اپنے ریاستی حمایت یافتہ سائبر گروپس کے ذریعے جاسوسی، مالیاتی چوری اور آمدنی حاصل کرنے کے الزامات کی تردید کرتا آیا ہے۔ اس معاملے پر تبصرے کے لیے جنیوا میں شمالی کوریا کے مشن اور چین میں اس کے سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا گیا تاہم فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ سائبر حملہ ڈیجیٹل مالیاتی دنیا میں ہونے والی بڑی چوریوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بائنانس کی جانب سے صارفین کی رقم نکلوانے کی سہولت مرحلہ وار بحال کرنے کا فیصلہ اس واقعے کے بعد ایک اہم پیش رفت ہے۔

Related Posts