بدر ایم او یو: ایک اور سنگ میل

تازہ ترین

تازہ ترین

یہ دنیائے رنگ و بو جس کے کرتا دھرتا ہونے کا دعویدار اشرف المخلوقات انسان ہے، آج بھی جنگل کے سب سے بڑے قانون جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر چلتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل میں یہ عنانِ اقتدار شیر اور صرف اور صرف شیر کے ہاتھ میں صدیوں تک رہی لیکن انسانوں کے جنگل میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آقا اور غلام دونوں ہی تبدیل ہوجایا کرتے ہیں ۔

صدیوں تک مغرب اور سامراجی اقتدار نے اربوں انسانوں پر راج کیا لیکن آج طاقت کا یہ توازن تبدیل ہو کر عالمی شمال سے عالمی جنوب کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے اور یہ تبدیلی اب صرف تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی تک محدود نہیں رہی بلکہ دفاعی معاہدے، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی پیداوار، علاقائی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے نئے بندوبست بھی اس کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ 21 اکتوبر کو دوحہ میں پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا کے درمیان طے پانے والی ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کی ایک اہم کڑی ہے۔

بدر مفاہمتی یادداشت کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے الگ تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ بدر کوئی دفاعی معاہدہ نہیں جس کے تحت ایک ملک پر حملہ تمام شریک ممالک پر حملہ تصور کیا جائے، بلکہ اس کا بنیادی محور مشترکہ دفاعی پیداوار، تحقیق و ترقی، تکنیکی تربیت، صنعتی استعداد میں اضافہ، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق اس شراکت داری سے مشترکہ تحقیق، تربیتی تبادلوں، صنعتی صلاحیت میں اضافے، مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، حتیٰ کہ مکہ دفاعی معاہدے کو بھی فائدہ پہنچانے کا سبب بنیں گے اوروقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی پیداوار کی خودکفالت کا ذریعہ بھی بن جائے گا۔

درحقیقت کسی بھی مضبوط دفاعی بندوبست کے لیے صرف سیاسی عزم کافی نہیں ہوتا، اس کے پیچھے مستحکم رسد، جدید ٹیکنالوجی، وافر سرمایہ کاری، تربیت یافتہ افرادی قوت اور مؤثر دفاعی صنعت بھی ضروری ہوتی ہے۔ اسی اعتبار سے بدر مفاہمتی یادداشت خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چاروں ممالک اپنی اپنی مخصوص دفاعی اور معاشی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔ ترکیہ بغیر پائلٹ جنگی طیاروں، برقی دفاعی آلات، میزائلوں، بکتر بند گاڑیوں، فضائی دفاع اور بحری نظاموں میں تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ 2025 میں ترکیہ کی دفاعی اور ہوابازی برآمدات تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ترکیہ کے تیار کردہ بغیر پائلٹ جنگی طیارے دنیا کے متعدد ممالک استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان بھی جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے، سپر مشاق تربیتی طیارے، میزائل، گولہ بارود، بکتر بند گاڑیاں اور مختلف زمینی و فضائی دفاعی نظام تیار کرتا ہے۔ پاکستانی دفاعی صنعت نے حالیہ برسوں میں برآمدی منڈی میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے، تاہم اس شعبے میں مزید تحقیق، سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ بدر مفاہمتی یادداشت اسی کمی کو پورا کرنے اور پاکستان کی دفاعی صنعت کو نئی بلندی تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

انڈونیشیا بھی محض دفاعی سازوسامان کا خریدار نہیں بلکہ اس کی صنعت طیاروں، ہیلی کاپٹروں، بحری جہازوں اور زمینی دفاعی نظاموں کی تیاری میں قابل ذکر صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب قطر کی اصل قوت اس کے وسیع مالی وسائل، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری میں پوشیدہ ہے۔ ستمبر 2026 میں قطر کے بین الاقوامی ذخائر اور غیر ملکی کرنسی میں نقد دستیابی تقریباً 262 ارب قطری ریال تھی۔ قطر مائع قدرتی گیس کے دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں بھی شامل ہے اور 2025 میں اس کی یومیہ برآمد تقریباً 10.6 ارب مکعب فٹ رہی۔ یوں قطر اپنی مالی طاقت کو نئی دفاعی اور صنعتی سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔

اس نئی شراکت داری میں پاکستان کا دفاعی تجربہ، ترکیہ کی تیزی سے ترقی کرتی عسکری ٹیکنالوجی، انڈونیشیا کی فضائی و بحری صنعتی صلاحیت اور قطر کا سرمایہ ایک دوسرے کے لیے معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ تاہم بدر مفاہمتی یادداشت کی حقیقی کامیابی صرف دستخطوں سے نہیں ناپی جائے گی۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ کتنی سرمایہ کاری آتی ہے، کتنا عملی کام ہوتا ہے، کتنی ٹیکنالوجی منتقل ہوتی ہے، کتنے مشترکہ کارخانے اور تحقیقی منصوبے قائم ہوتے ہیں اور پیداوار کے اہداف کس حد تک حاصل کیے جاتے ہیں۔

یہ تعاون پہلے سے موجود تجارتی تعلقات کو بھی مزید وسعت دے سکتا ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان 2025 میں تجارت تقریباً 3.25 ارب ڈالر رہی، جبکہ پاکستان اور انڈونیشیا کی دوطرفہ تجارت تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچی۔ ترکیہ اور انڈونیشیا کی 2025 کی تجارت تقریباً 2.55 ارب ڈالر تھی، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کی تجارت 2024 میں تقریباً 1.36 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ دفاعی صنعت میں تعاون ان تجارتی روابط کو زیادہ متنوع بنانے اور نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں 7 اگست 2026 کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کہیں زیادہ گہرا سلامتی کا بندوبست قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس معاہدے کی بنیادی شق کے مطابق تینوں میں سے کسی ایک ملک کے خلاف مسلح حملہ تمام فریق ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ اصول کسی حد تک شمالی بحرِ اوقیانوس کے دفاعی اتحاد کے اجتماعی دفاع کے اصول سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم دونوں کے انتظامی ڈھانچے، فیصلہ سازی، جغرافیائی دائرۂ کار اور فوجی نظام میں نمایاں فرق موجود ہے۔ مکہ معاہدے میں اجتماعی دفاع کے ساتھ خفیہ معلومات کے تبادلے، تربیت، دفاعی صنعت، رسد اور دیگر عسکری شعبوں میں تعاون کی گنجائش بھی موجود ہے۔

اسی لیے مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر مفاہمتی یادداشت ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے ایک دوسرے کے معاون دکھائی دیتے ہیں اور کوئی بھی دفاعی معاہدہ اسی وقت زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے جب شریک ممالک کے پاس ہتھیاروں، گولہ بارود، مرمت، رسد اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے قابل اعتماد مقامی یا علاقائی ذرائع موجود ہوں۔

ان معاہدوں کی اہمیت ایسے وقت میں مزید بڑھ جاتی ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور خلیج مسلسل کشیدگی کی زد میں ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ اور اس میں اسرائیل کی براہ راست شمولیت کے بعد اگرچہ بڑے پیمانے کی لڑائی محدود ہوئی، لیکن مستقل سیاسی تصفیہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں، آبنائے ہرمز اور علاقائی سلامتی جیسے بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں۔ اکتوبر میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران میں نئی امریکی یا اسرائیلی فوجی کارروائی کا خدشہ بھی موجود رہا، جبکہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کے امکانات نے خطے میں بے یقینی تاحال برقرار رکھی ہوئی ہے۔

دوسری طرف یمن اور حوثیوں سے جڑی کشیدگی نے سعودی عرب، بحیرۂ احمر، آبنائے ہرمز اور توانائی کی عالمی ترسیل کو مزید حساس بنادیا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خلیج میں ایک میزائل یا ایک نیا فوجی تصادم صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات تیل، گیس، بحری تجارت، رسد، مہنگائی اور عالمی معیشت تک پہنچتے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان، ترکیہ اور انڈونیشیا جیسے بڑے اور عسکری طور پر مستحکم ممالک خطے میں توازن، مذاکرات اور سلامتی کے قیام میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے ممالک طویل عرصے سے مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا دفاعی سازوسامان خریدتے رہے ہیں۔ اگر بدر جیسے معاہدوں کے ذریعے ہتھیار، گولہ بارود، بحری نظام، فضائی ٹیکنالوجی اور دیگر دفاعی سازوسامان خطے کے اندر مشترکہ طور پر تیار ہونے لگے تو اس سے درآمدی اخراجات کم کرنے، مقامی صنعت کو ترقی دینے اور دفاعی خود انحصاری بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے اور اس کا ایک نہایت اہم پہلو روزگار بھی ہے کیونکہ پاکستان کی نوجوان آبادی 12 کروڑ سے زیادہ ہے۔ اگر دفاعی تعاون محض دستاویزات تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ کارخانوں، تحقیقی مراکز، ہوابازی، جہاز سازی، برقی آلات، گولہ بارود اور جدید دفاعی نظاموں کی تیاری تک پہنچتا ہے تو انجینئروں، ہنرمندوں، محققین اور تکنیکی ماہرین کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

یوں مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر مفاہمتی یادداشت کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ خطے میں مزید خوف اور جنگی ماحول پیدا کرتے ہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ تحفظ کا زیادہ احساس، مضبوط مقامی صنعت، نئی سرمایہ کاری، روزگار اور علاقائی استحکام پیدا کریں۔ اگر دفاعی خود انحصاری اور اجتماعی قوت کو دانش مندی، سفارت کاری اور معاشی تعاون کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ معاہدے نئے محاذ کھولنے کے بجائے جنگ کے امکانات کم کرسکتے ہیں۔ ایک ایسے خطے میں جو دہائیوں سے جنگوں، بیرونی اسلحے پر انحصار اور عدم تحفظ کی بھاری قیمت ادا کرتا آیا ہے، شاید ان دونوں معاہدوں کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوگی کہ طاقت میں اضافہ جنگ کے خوف کو بڑھانے کے بجائے طاقت کے بل بوتے پر امن کے اعتماد کو مضبوط کرے۔

Related Posts