پی سی بی کو جھٹکا

ورلڈ کپ 2023 کی مایوس کن کارکردگی کے آفٹر شاکس نے پاکستان کرکٹ ٹیم اور پی سی بی کوہلاکر رکھ دیا ہے، کیونکہ سابق بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر وہاب ریاض کو مردوں کی قومی ٹیم کا چیف سلیکٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔

ورلڈ کپ میں اچھا کھیل پیش نہ کرنے کے بعد کپتان کو عہدے سے ہٹانے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی ہماری تاریخ رہی ہے، 1999 کے ورلڈ کپ فائنل میں شکست سے لے کر 2023 کے ورلڈکپ میں بابر الیون کی کارکردگی، وسیم اکرم، شاہد آفریدی، مصباح، اور سرفراز احمد کو ناقص کارکردگی کے بعد کپتانی سے استعفیٰ دینا پڑ گیا تھا۔

ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اعظم نے کھیل کے تینوں فارمیٹس سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد انضمام الحق اور بابر اعظم نے استعفیٰ دے دیا جبکہ مکی آرتھر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا جب کہ بولنگ کوچ کے طور پر کام کرنے والے مورکل نے بھی استعفیٰ دے دیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بدھ کو سابق کرکٹر محمد حفیظ کو نیا ”ڈائریکٹر پاکستان مینز کرکٹ ٹیم” مقرر کیا ہے کیونکہ ورلڈ کپ میں شکست کے بعد ٹیم میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا جا رہا ہے۔اس دوران بورڈ نے کوچنگ اسٹاف کے پورٹ فولیو میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔

بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم کب تک ٹیم پر تجربات کرتے رہیں گے،جب بات کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی ہو گی۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے غیر ملکی کوچ اسٹاف کی تقرری کے لیے شور مچایا گیا تھا اور لوگ پی سی بی میں لیجنڈ کرکٹرز کو تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے، جنہوں نے بطور کھلاڑی ٹیم کے لئے خدمات انجام دیں۔ہمیں ٹیم کی کارکردگی سے نمٹنے کے لیے کوئی مضبوط حل نکالنا چاہیے کیونکہ بڑے مرحلے پر ہر ناکامی کے بعد کپتان اور کوچنگ اسٹاف کو ہٹانا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔