پردیسیوں کی عید

البرٹ عروج بھٹی


کالم نگار صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔

عید کا نام زبان پر آتے ہی مرجھائے چہروں پر چمک آجا تی ہے ،خوشی و انبساط کے رنگ چہار سو پھیل جاتے ہیں، امیر اور غریب ملکر اپنی بساط کے مطابق عید کی خوشیاں منانے میں مگن ہیں اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ ہر سال رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے بعد عید الفطر پیغام نشاط لاتی ہے،اس عید کو میٹھی عید بھی کہا جاتا ہے۔

عید جہاں خوشی کا پیغام لاتی ہے وہیں انسان کو رب کائنات کا شکر بجالانے کا موقع بھی دیتی ہے ، عید کے روز ہر سو خوشیوں کی مہکار ہوتی ہے، ننھے منے بچوں کا شورو غل، حنائی ہاتھوں سے بنے پکوانوں کی خوشبو اور گلیوں محلوں میں میلے ٹھیلوں کا اہتمام اس دن کی رونق کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ پاکستان میں عید کے موقع پر تمام مذاہب کے لوگ ملکر عید مناتے ہیں۔

مسیحی ہونے کے باوجود ہم بھی حلقہ یاراں مسلمانوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے عید الفطر اور عید الضحیٰ دوستوں کے ساتھ اسی روایتی انداز میں مناتے اور کبھی روزوں میں افطار کا اہتمام اور کبھی بقر عید سے قبل جانوروں کی خریداری اور محرم میں حلیم کا چندہ جمع کرتے تھے۔

پوری زندگی کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں یا کسی نے یہ احساس دلایا ہو بلکہ ہمیشہ دوستوں کو اپنے جیسا ہی پایا اور یہی وجہ ہے کہ ہر عید پر ہم بھی نئے جوڑے سلوتے اور نماز کے بعد جو دوستوں کے ساتھ شریک محفل ہوتے تو عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد ہی الگ ہوتے۔

ایک بات جو دل میں پھانس بن کر رہ گئی وہ ہے پردیسیوں کی عید، ہم سب کے کوئی نہ کوئی عزیز روزگار کی عرض سے سمندر پار روز شب محنت کرکے اپنے اہل خانہ کو وہ سب خوشیاں دینے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، کچھ سال قبل مجھے بھی رمضان المبارک میں متحدہ عرب امارات جانے کا اتفاق ہوا۔

ماہ صیام کے اواخر میں تو دبئی کے شاپنگ مالز میں بے انتہا بھیڑ تھی لیکن سب سے حیرت ناک اور افسوسناک بات یہ تھی کہ عید کے روز کوئی گلے ملکر مبارکباد دینے والا ہی نہیں تھا۔ پردیس میں پہلی بار عید کے روز صبح سویرے کاٹن کا کلف لگا سوٹ پہن کر جب گھر سے باہر نکل کر دیکھا تو سڑکوں پر ویرانی ، گلیوں میں ہو کا عالم تھا۔

پاکستان میں عید کے روز گلیوں میں صبح سویرے میلے کا سماں ہوتا ہے، ہر گلی محلے میں جھولے اور ڈھول تاشے بج رہے ہوتے ہیں، آپ کوئی بھی ہیں کسی بھی مذہب سے ہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہر کوئی آگے بڑھ کر دوسرے کو مبارکباد دینے اور گلے ملنے میں پہل کرنے کی کوشش کرتا ہے، بچے گھروں سے عیدیاں سمیٹ کر باہر آئسکریم، گول گپے، چاٹ، دہی بڑے سے دل بہلارہے ہوتے ہیں تو بڑے یاروں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گلے شکوے دور کررہے ہوتے ہیں ۔

دبئی میں عید منانے کے سارے ارمان ویرانی نے چکنا چور کردیئے، پردیسی گھروں میں دبکے فون پر اپنے اہل خانہ سے بات چیت کرکے اپنی اداسی کا غم پی رہے تھے ، ملک میں بیٹھ کر اپنےباپ بھائیوں سے مہنگی چیزوں کی فرمائشیں کرنیوالے شائد پردیسیوں کا وہ دکھ کبھی نہیں دیکھ سکتے جو اس دن میری گناہ گار آنکھوں نے دیکھا۔

اپنے گھروالوں کی ہر فرمائش پوری کرنے والے پردیسیوں کی آنکھوں سے روز عید بہنے والے آنسو آج بھی تیر بن کر دل میں اترتے محسوس ہوتے ہیں، عید تو خوشیاں بانٹے کا نام ہے، روٹھوں کا منانے کا نام ہے، سب کو گلے لگانے کا نام ہے اور اگر انسان عید تہوار پر بھی اپنے بچوں یا اہل خانہ سے گلے نہ مل سکے اور ان کے ساتھ خوشیاں نہ مناسکے اور دلوں سے کدورتیں مٹاکر اپنوں کو نہ ملا سکے تو ایسی عید یں سال میں دس بار بھی آئیں تو ایسی عید اور کسی عام دن میں کوئی فرق نہیں ۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں