جامعہ کراچی کے طلباء کا اساتذہ پر خودکش حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

جامعہ کراچی کے طلباء کا اساتذہ پر خودکش حملے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

کراچی: جامعہ کراچی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ نے انسٹیٹیوٹ میں تین چینی اساتذہ پر خودکش بم حملے کے خلاف جمعہ کو انسٹیٹیوٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ناصر خان اور سیکیورٹی ایڈوائزر محمد زبیر بھی احتجاج میں موجود تھے۔

طلباء نے پلے کارڈز اور پاکستان اور چین کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے جن پر ”پاک چین دوستی”، ”دہشت گردی ناقابل قبول ہے” کے نعرے اور پوسٹرز پر جاں بحق ہونے والوں کی تصویریں تھیں۔

طلباء نے یونیورسٹی کیمپس کے اندر اپنے اساتذہ اور پاکستانی ڈرائیور پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی اور قصورواروں کو فوری سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے کہا کہ وہ ان کی کلاسوں کو بحال کرنے اور جلد از جلد اپنے اساتذہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے انتظامات کریں، انہوں نے مزید کہا کہ وہ چینی زبان سیکھنا جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن اس سے کسی کو دوسری قوم کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ملتا۔

کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کی ایک اور طالبہ فاطمہ نے کہا کہ یہ ناقابل تصور تھا کہ اساتذہ کے خلاف اس طرح کا گھناؤنا حملہ سیکھنے کی جگہ پر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کسی کو یونیورسٹی میں حفاظت کی ضمانت دی جانی چاہیے، چاہے وہ کچھ بھی سیکھنے آ رہا ہو۔

مزید پڑھیں:اے ایس او نے غیر ملکی شراب کراچی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی

پروفیسر ناصر خان نے اس فعل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ چینی اساتذہ کے خلاف دہشت گردی کسی صورت قابل قبول نہیں۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں