براعظم ایشیا کا وہ خطہ جہاں پاکستان، بنگلہ دیش، ایران اور بھارت جیسے ممالک موجود ہیں، یہ کبھی علم و ادب، تہذیب و تمدن اور معاشی خوشحالی کا گہوارہ تھا، آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف ماضی کی تابناک روایات ہیں اور دوسری طرف پسماندگی کی تاریک کھائیاں۔
اس خطے کی مٹی نے صدیوں تک دنیا کو دانائی اور حکمت کے درس دیے، مگر آج یہی خطہ سیاسی عدم استحکام، باہمی منافرت اور معاشی زبوں حالی کا شکار ہے۔ دورِ حاضر کی نئی نسل، جسے ہم جین زی کے نام سے پکارتے ہیں، اس خطے کے ان دگرگوں حالات پر نہ صرف فکر مند ہے بلکہ ایک گھمبیر اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کی چکا چوند اور عالمگیریت کے ثمرات سے لیس ہو کر جب اپنے ارد گرد نگاہ دوڑاتے ہیں، تو وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آخر یہ وسیع و عریض خطہ، جو وسائل سے مالا مال ہے، ترقی کی دوڑ میں اس قدر پیچھے کیوں رہ گیا؟اور یہ کوئی فرسودہ سوچ نہیں بلکہ کچھ کرگزرنے کی وہ لگن ہے جو انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے، بقول علامہ اقبال:
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
دراصل جین زی کے یہ روشن دماغ نوجوان، جو پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے دقیانوسی خیالات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اب ان کی فرسودہ سیاسی رسہ کشیوں اور زہر آلود بیانیوں سے اکتا چکے ہیں جنہوں نے عشروں سے اس خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان جدید ٹیکنالوجی کے ماہر نوجوانوں کے درمیان ایک قدرِ مشترک بھی پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے مشترکہ مسائل کا حل مشترکہ کوششوں میں تلاش کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی اناؤں کے بت توڑ کر اور نفرتوں کے بت کدوں کو مسمار کر کے ایک ایسی اکیسویں صدی کی بنیاد رکھیں جہاں باہمی احترام اور باہمی مفادات کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور کسی خاص گروہ یا طبقے کی جانب سے من مانے فیصلے مسلط کرنے کی بجائے حقیقی معنوں میں عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی ہوکیونکہ اگر ہم نے اب بھی اپنے رویوں میں تغیر نہ لایا، تو ہم مغرب کی ترقی کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات، اپنی بقا کی جنگ بھی ہار جائیں گے۔
اس خطے کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ایٹمی تصادم کا خطرہ ہے جو دو جوہری ممالک کے درمیان کسی بھی وقت بھڑک سکتا ہے۔ یہ کوئی معمولی خطرہ نہیں بلکہ انسانیت کی گردن پر لٹکتی ہوئی وہ تلوار ہے جو سب سے پہلے اس خطے کے کروڑوں انسانوں کی گردن زنی کے لیے تیار کھڑی ہے۔ ماضی قریب میں، جیسا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ کیا تھا، پاکستان اور بھارت ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے تھے۔ اگر خدا نخواستہ یہ جنگ چھڑ جاتی، تو نہ صرف یہ خطہ راکھ کا ڈھیر بن جاتا بلکہ پوری دنیا اس کی ہولناک زد سے نہ بچ سکتی۔
جدید سائنسی تحقیق کے تحت تشکیل دی گئی ییل کلائمیٹ کنکشنز(Yale Climate Connections)کی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک محدود ایٹمی جنگ بھی عالمی سطح پر ایٹمی موسم سرما کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور صرف 50 چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ہی کم و بیش ساڑھے چار کروڑ انسانوں کو لمحوں میں لقمہ اجل بنا سکتا ہے، جو ہلاکتوں ، تباہی و بربادی اور انسانیت کے خوفناک انجام کا صرف ایک نکتہ آغاز قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ ان دھماکوں سے پیدا ہونے والے آگ کے طوفان کروڑوں ٹن دھواں اور راکھ زمینی کرہ ہوائی کی بالائی تہوں میں بھیجتے ہوئے سورج کی روشنی کو روک کر زمین کا درجہ حرارت تیزی سے گرا دیں گے۔
اس ایٹمی موسم سرما کے نتیجے میں دنیا بھر میں زراعت تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے گی اور لگ بھگ 2 ارب انسان جو پوری دنیا کی آبادی کا کم و بیش 25فیصد حصہ بنتے ہیں، فاقہ کشی اور بیماریوں کے باعث بہت جلد موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ تحقیق کے مطابق ایٹمی دھویں کی وجہ سے اوزون کی تہہ کو 20 سے 50 فیصد تک نقصان پہنچے گا، جس سے زمین پر بالائے بنفشی شعاعوں کی ایسی یلغار ہوگی جو انسانی صحت اور سمندری حیات کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔ جنوبی ایشیا کے لیے یہ صورتحال مزید ہولناک ہو گی کیونکہ یہاں مون سون کی بارشیں 20 سے 80 فیصد تک کم ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں وہ ممالک بھی قحط کا شکار ہوں گے جو خود کو اس جنگ کا فاتح سمجھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہوں گے اور یہ کوئی اتنا حیران کن تصور بھی نہیں، بلکہ یہ وہی ہولناک منظر نامہ ہے جسے کارل سیگن جیسے عظیم سائنسدانوں نے عشروں پہلے بھانپ لیا تھا۔
آج دنیا کا سیاسی اور معاشی محور بدل رہا ہے اور طاقت و اقتدار کا سورج گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب گامزن ہو کر مغرب میں غروب ہوچکا اور مشرق کی جانب سے طلوع ہورہا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی موقع ہے جس سے صرف وہی قومیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو بدلتے ہوئے عالمی تغیرات کو سمجھتے ہوئے اپنی تجارتی، معاشی اور تکنیکی مہارتوں کو بروئے کار لائیں۔ پاکستان سمیت اس خطے کے نوجوانوں کے پاس یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے خطے کے دگرگوں حالات کو بہتر کریں، جہاں آج بھی بے شمار افراد فاقہ کشی پر مجبور ہیں۔ جین زی کی یہ سوچ کہ ہمیں کچھ لو اور کچھ دوکی بنیاد پر مشترکہ مفادات کے تحت مسائل حل کرنے چاہئیں، اس خطے کی خوشحالی کی کلید ہے۔
بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان کے نوجوان آج ایک ڈیجیٹل بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر وہ مل کر کام کریں تو یہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن سکتا ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ بنگلہ دیش اور نیپال میں ہونے والی سیاسی تبدیلیاں اور نوجوانوں کی تحریکیں کس طرح جغرافیائی و سیاسی حالات کو ازسرِ نو ترتیب دے رہی ہیں۔ یہ نوجوان اب اس بھیانک کشیدہ ماحول سے جان چھڑانے کے لیے بے تاب ہیں اور امن کے سفیر بن کر ابھر رہے ہیں۔ ان کا وژن ایک ایسے جنوبی ایشیا کا ہے جہاں سرحدیں تجارت اور علم کی راہ میں حائل نہ ہوں، بلکہ رابطوں کا ذریعہ بنیں۔
مختصر یہ کہ اس خطے کا تابناک ماضی اور کھوئی ہوئی ترقی و خوشحالی کا احیاء اب کسی خواب کی تعبیر نہیں بلکہ وقت کی پکار اور جین زی کا پختہ عزم ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ایٹمی ہتھیاروں کی ضرورت کب تک پیش آتی رہے گی اور باہمی تنازعات وخونریزی کے لمحات کب تک طاری رہیں گے ۔ ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش ہمیں تحفظ کب تک دے سکے گی، درحقیقت اصل تحفظ معاشی استحکام اور باہمی تعاون میں پنہاں ہے۔ اگر ہم نے اپنی نوجوان نسل کی اس بصیرت کو تسلیم نہ کیا اور پرانی روش پر قائم رہے، تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک ایسا جہنم دے کر جائیں گے جہاں نہ سورج کی روشنی ہو گی اور نہ جینے کی امنگ۔
وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کے چراغ اپنی روشنی سے نفرتوں کے اندھیرے ختم کریں اور ایک ایسے عہد کا آغاز کریں جہاں امن، احترام اور ترقی کا بول بالا ہو۔ یہ جین زی کا حق ہے کہ وہ ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل میں جئیں، اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں ایک ایسا خطہ دیں جو ایٹمی موسم سرما کی ہولناکیوں سے پاک اور معاشی بہاروں سے معمور ہو۔ یہی پاکستانی قوم سمیت اس خطے کے عوام کا وہ خواب ہے جس کی تعبیر اب قریب آچکی ۔ اس عظیم مقصد کے لیے ہمیں دقیانوسی سیاستدانوں کی فرسودہ سوچ کو خیرباد کہہ کر خوشحالی و ترقی کی اس راہ پر گامزن ہونا ہو گا جس کی بنیاد محبت، اخوت اور باہمی مفاد پر استوار ہو،ورنہ حالات اس نہج تک پہنچ سکتے ہیں کہ تباہی و بربادی اس خطے کے باسیوں کا مقدر بن جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں