عمران خان کی گرفتاری

پارٹی رہنماؤں اور وزراء کے ان دعوؤں کے باوجود کہ وہ آئینی مدت پوری کریں گے، مخلوط حکومت ایک ڈورسے لٹک رہی ہے۔ پی ٹی آئی قبل از وقت انتخابات کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے اور معیشت مزید خراب ہورہی ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف اتحادی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے اپنے اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ حکومت اقتدار میں رہے اور معیشت کو ٹھیک کرے۔ تاہم، مسلم لیگ (ن) ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے جیسے سخت معاشی فیصلوں کا سارا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں ہے کیونکہ اس کی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنی پڑسکتی ہے۔

موجودہ حکومت کو دو چیزوں کو سنبھالنے کی ضرورت ہے (گرتی ہوئی معیشت اور عمران خان)جب کہ آئی ایم ایف سے معیشت کو سہارا دینے کے لیے فنڈز کے حصول کے لیے بات چیت جاری ہے، حکومت کرنسی کی گرتی ہوئی قدر، گرتی ہوئی اسٹاک مارکیٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ یہ بوجھ اگلی حکومت پر ڈالنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں، کیونکہ اس کی انہیں بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑسکتی ہے۔

عمران خان کے حوالے سے ایسا لگتا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی چیئرمین کو گرفتار یا نظربند کرنے پر غور کر رہی ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے یہ اشارہ کہ وہ عمران خان کو جیل بھیجنے کے موقع کا انتظار کر رہے ہیں، حکومت کے مذموم عزائم کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ شاید ملک بھر میں ہونے والے بڑے عوامی جلسوں سے پریشان ہے یا انہیں اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری کی عارضی گرفتاری اور رہائی پر جو ناکامی ہم نے دیکھی وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آگے ہونے والا ہے۔ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے جس کا مشاہدہ ہم کر چکے ہیں۔ حکومت کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا، یا نظر بند کیا گیا یا کسی بھی طرح سے نقصان پہنچایا گیا تو سنگین نتائج ہوں گے۔

قوم ایک بار پھر اس دہانے پر پہنچ چکی ہے کہ سیاسی رہنما عوام کے مسائل کے حل کی طرف توجہ دینے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات میں بندھے ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مزید سیاسی ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے کیونکہ موجودہ بحران جلد ہی کسی بھی وقت ختم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ حکومت کو انتشار کی طرف لے جانے کی بجائے قوم کے عظیم مفاد میں فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصرے: 0

آپ کا ای میل پتہ شائع نہیں کیا جائے گا۔ مطلوبہ فیلڈز * کے ساتھ نشان زد ہیں