جانوروں کیلئے سہولیات اور بہتر جگہ کا انتظام ضروری ہے

دنیا کے سب سے بڑ ے سمجھے جانے والے ہاتھی کاون کو کمبوڈیا منتقل کرنے کے صرف چندہفتوں بعد اسلام آباد کے چڑیا گھر میں موجودہمالیہ کے دو بھور ے ریچھ ایوبیہ نیشنل پارک نہیں بلکہ اردن منتقل کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے کیونکہ ہم ان کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ ریچھ کے جوڑے کو بیرون ملک منتقل کیا جانا چاہئے ، اس فیصلے میں کہا گیا کہ یہ چڑیا گھرحراستی کیمپ ہیں اور جب تک کہ ملک میں کوئی بہتر جگہ موجود نہ ہو کسی جانور کو دوسرے چڑیا گھروں میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

ان ریمارکس سے پتہ چلتا ہے کہ ہم کس طرح ان جانوروں کی دیکھ بھال کرنے میں ناکام رہے ہیں جو سرکاری محکموں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی سال سے عدم توجہی کا شکار ہیں اور غیر تربیت یافتہ نگراں افراد کے رحم و کرم پر ہیں۔

ہاتھی کاون کو کئی سال عدم توجہی کا سامنا کرنا پڑا اور وہ چھ سال تک رنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جس نے اس کی ذہنی صحت کو متاثر کیا اوراس کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی۔ جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے کئی سال کی کوششوں کے بعد اس کی کمبوڈیا منتقلی عمل میں آئی،کاون کی رخصتی ایک دہانی تھی کہ ہم ملک میں واحد ایشین ہاتھی کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر تھے۔

اپریل میں عدالت نے اسلام آباد کے چڑیا گھر سے تمام جانوروں کو منتقل کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یہ انکشاف ہوا ہے کہ بارہ جانوروں اور پرندوں کی موت ہوگئی ہے جبکہ 513 نقل مکانی کے دوران چوری ہوگئے ہیں، ایک چڑیا گھر جاتے ہوئے شیروں کا ایک جوڑا اس وقت دم توڑ گیا ۔

لاپرواہی کی ایسی ہی ایک صورتحال پشاور چڑیا گھر میں پیش آئی جہاں ایک افریقی زرافہ کی پراسرار موت ہوگئی ہے۔ چڑیا گھر کا افتتاح صرف دو سال قبل ہوا تھا لیکن انھوں نے متعدد جانوروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے جس کے نتیجے میں سول سوسائٹی کے ممبران نے شدید احتجاج کیا۔ کراچی کا چڑیا گھر بھی مختلف نہیں ہے اور بہت سے جانوروں کو یہاں بھی فوری نگہداشت کی ضرورت ہے۔

چڑیا گھروں میں جانوروں کی دیکھ بھال کرنے کی صلاحیت اور وسائل کی کمی ہے،قانون میں کسی جانور کو ظالمانہ طریقے سے مارنے کی سزا دینے کے لئے موجود ہے لیکن ایسا کرنیوالوں کو یہاں صرف چھ ماہ کی سزا دی جاتی ہے۔ ہمیں اس طرح کے واقعات اورجانوروں پرتشدد روکنے کے لئے مزید سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم جانوروں کی دیکھ بھال کرنے سے قاصر ہیں تو ہمیں تمام چڑیا گھر بند کردینے چاہئیں۔

حکومت نے ایک نئی جگہ پر جانوروں کو بسانے کیلئے انتظام کیا ہے اور تمام جانوروں کو چڑیا گھر سے باہر ایک بہتر جگہ منتقل کیا جارہا ہے جہاں ان کی دیکھ بھال کی جاسکتی ہے، اس وقت ملک میں چڑیا گھر کا تصور یکسر تبدیل ہوچکا ہے اور اب ایسا نہیں ہونا چاہئے جہاں جانور پنجروں میں قید ہوں بلکہ ان کے قدرتی مسکن کی طرح ماحول بھی تشکیل دیا جائے۔

کیا آپ بھی جعلی خبروں سے پریشان ہیں؟ تو ڈاؤن لوڈ کریں ایم ایم نیوز کی اپلیکیشن اور جانبدار خبروں سے جان جھڑائیں