پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے بیرونی تجارت میں عدم توازن کا سامنا کررہا ہے اور ملکی برآمدات میں اضافے کے باوجود درآمدات کا حجم مسلسل زیادہ رہنے کے باعث تجارتی خسارہ برقرار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی مصنوعات کی برآمدات میں مطلوبہ وسعت پیدا نہیں کرسکا، جبکہ صنعتی پیداوار، کاروبار ی لاگت، سرمایہ کاری اور عالمی منڈیوں میں مسابقت جیسے عوامل بھی برآمدی کارکردگی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اس عدم توازن کی عکاسی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ان تازہ اعدادوشمار سے بھی ہوتی ہے کہ ستمبر 2026 میں پاکستان کا جاری کھاتوں کا خسارہ 356 ملین ڈالر رہا، جبکہ اگست میں نظرثانی شدہ خسارہ 73 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں جاری کھاتوں کا مجموعی خسارہ 874 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔ستمبر میں اشیا اور خدمات کی برآمدات 3.95 ارب ڈالر رہیں، جن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ہوا، تاہم درآمدات 23 فیصد سے زیادہ اضافے کے ساتھ 7.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اسی عرصے میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر 3.59 ارب ڈالر رہیں، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملی۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں اشیا کی برآمدات 2.96 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 6.49 ارب ڈالر رہیں، جس کے نتیجے میں 3.53 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ سامنے آیا۔ پاکستان کا بیرونی قرض بھی اس صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے کیونکہ جون 2026 میں ملک کا بیرونی قرض تقریباً 138.8 ارب ڈالر رپورٹ کیا گیا۔ ایسے میں محض نئے قرضوں، مالیاتی سہولتوں یا درآمدات میں عارضی کمی کے ذریعے معاشی دباؤ کم کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ برآمدات، پیداواری صلاحیت اور زرمبادلہ کی مستقل آمدن میں اضافہ ناگزیر ہوا کرتا ہے۔
اس تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بینکوں کے کنسورشیم کی صدارت پاکستان کو ملنا ایک اہم موقع قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ وزارت خزانہ کے مطابق ایچ بی ایل کے چیئرمین سلطان علی الانا نے کنسورشیم کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔اس سے قبل بینکنگ کے شعبے سے نابغہ روزگار شخصیت سلطان علی الانا نے حبیب بینک سمیت جس پراجیکٹ میں بھی ہاتھ ڈالا، اسے کامیابی سے ہمکنار کیا، اور اب ان کی چیئرمین شپ سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کنسورشیم کی صدارت ملنے کے بعد نئی جدتوں کے ساتھ ملک کے تجارتی خسارے میں کمی آنے کے امکانات ہیں، لیکن اگر معاشی سفارت کاری کے تحت پاکستان کی وزارتِ خارجہ سمیت باقی وزارتیں بھی ان کے ساتھ ہم آہنگی سے متعلقہ اقدامات میں حصہ لیں تو معاشی کامیابی یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ علاقائی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال اور بینکوں کے درمیان تعاون کے موجودہ انتظامات پر عمل درآمد کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔پاکستان اور چین کے درمیان 30 ارب چینی یوآن کا کرنسی سواپ معاہدہ پہلے سے موجود ہے، جس کی اکتوبر 2024 میں تین سال کے لیے تجدید کی گئی تھی۔ ایسے معاہدوں کا بنیادی مقصد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون کو سہولت فراہم کرنا اور لین دین میں کسی تیسرے ملک کی کرنسی، بالخصوص امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنا ہے۔تاہم قومی کرنسیوں میں دوطرفہ تجارت کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مسلسل تجارتی خسارے والے ممالک اپنے شراکت داروں کی کرنسی میں اتنی آمدن حاصل نہیں کرپاتے کہ ان کی درآمدات کی ادائیگیاں پوری ہوسکیں۔ محض ڈالر کی جگہ مقامی کرنسیوں کو استعمال کرنے سے تجارتی عدم توازن ختم نہیں ہوتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ ایس سی او کا بینکاری کنسورشیم دوطرفہ ادائیگیوں سے آگے بڑھ کر ایک کثیرالجہتی تجارتی کلیئرنگ کے نظام کی جانب قدم بڑھائے، جس کی تجویز زیر نظر تحریر میں راقم الحروف کی جانب سے دی جارہی ہے۔ اس مجوزہ نظام کے تحت رکن ممالک کے درمیان تجارتی واجبات کا حساب ہر ملک کے ساتھ الگ الگ کرنے کے بجائے پورے نیٹ ورک کی سطح پر کیا جاسکے گا۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان کسی ایک رکن ملک سے زیادہ درآمدات کرتا ہے جبکہ دوسرے رکن ملک کو زیادہ برآمدات کرتا ہے تو باہمی حساب کتاب کے ذریعے ان واجبات کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش اس مکینزم میں موجود ہے جسے نافذ العمل کیاجاسکتا ہے۔ اس طرح ایک ملک کی اضافی لیکویڈیٹی دوسرے ملک کی عارضی مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں معاون بن سکتی ہے۔اس مقصد کے لیے شریک ممالک کے مرکزی بینکوں کو دوطرفہ کرنسی سواپ معاہدے قائم کرنے اور موجودہ معاہدوں کو مزید مضبوط بنانے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ اسی طرح شریک بینکوں کے تعاون سے ایک ایسی قلیل مدتی مالیاتی سہولت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جو تصدیق شدہ تجارتی لین دین اور عارضی ادائیگیوں کے خسارے کی بنیاد پر مالی معاونت فراہم کرے۔ شریک ممالک کی قومی کرنسیوں کی مخصوص اجتماعیت کی بنیاد پر مشترکہ حسابی اکائی متعارف کرانے کی تجویز بھی زیر غور لائی جاسکتی ہے، جس سے علاقائی تجارت کی قدر متعین کرنے اور خالص مالیاتی واجبات کا حساب لگانے میں آسانی ہوسکتی ہے، تاہم ابتدائی مراحل میں مشترکہ کرنسی کے نظام کو صحیح معنوں میں نافذ العمل کرنے سے کافی حد تک کامیابی مل سکتی ہے۔ اس نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ادائیگیوں کے تصفیے کی مدت اور حفاظتی ضوابط کے فریم ورک کو مستحکم کرنا بھی ضروری ہوگا۔ کثیرالجہتی کلیئرنگ کے بعد اگر کسی ملک کا خالص مالیاتی خسارہ باقی رہ جائے تو اسے کسی متفقہ قابلِ تبدیلی کرنسی، کرنسی سواپ، قرض کی سہولت یا دوسرے منظور شدہ مالیاتی انتظام کے ذریعے ادا کرنا ہوگا، جس میں متعلقہ ملک کے فارن ایکسچینج کے ذخائر میں کمی ایک قدرتی امر ہوگا۔اس حوالے سے شریک بینکوں اور مرکزی بینکوں کے نمائندوں پر مشتمل ایک تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کیا جاسکتا ہے، جو ان تجاویز کی عملی افادیت کا جائزہ لے اور تین سے چار رضامند رکن ممالک کے درمیان ابتدائی آزمائشی نظام وضع کرے۔تاہم پاکستان اس پورے مالیاتی تعاون کا حقیقی فائدہ اسی وقت اٹھا سکتا ہےجب پاکستان اپنی برآمدی صلاحیت بھی بڑھائے۔ ٹیکسٹائل اور ملبوسات، تیار شدہ غذائی مصنوعات اور خصوصی صنعتی اشیا سمیت ایسی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات کو ترجیح دینا ہوگی جن کی ایس سی او ممالک میں طلب موجود ہے اور جو اس وقت دوسرے ممالک سے درآمد کی جارہی ہیں۔ اس کے لیے برآمدی مالی معاونت، عالمی معیار کی پابندی، مسابقتی قیمتوں اور قابلِ اعتماد ادائیگیوں کے نظام کو یکجا کرنا ضروری ہے۔
اگر مذکورہ تجاویز پر عمل کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ایس سی او کے بینکوں کا کنسورشیم محض بینکوں کے درمیان تعاون تک محدود رہنے کے بجائے علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی روابط کو فروغ دینے والا مؤثر ادارہ نہ بن سکے تاہم پاکستان کے لیے اصل کامیابی قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کے متبادل راستے پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی مصنوعات کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگی، کیونکہ مالیاتی سہولتیں تجارت کو آسان بنا سکتی ہیں، لیکن مستقل تجارتی توازن کے لیے پیداواری اور برآمدی بنیاد مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی سفارتکاری پر بھی زور دینا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








