امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جو رواں برس 28 فروری کو شروع ہوئی، آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کسی واضح اور پائیدار اختتام تک نہیں پہنچ سکی۔ دونوں جانب سے ہونے والی دھواں دھار بیان بازی، عسکری تیاریوں اور ایک دوسرے کو دی جانے والی سخت دھمکیاں جنگ کے ممکنہ بھڑکتے شعلوں کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔ بظاہر جنگ بندی اور مذاکرات کی امیدیں بارہا روشن ہوئیں، لیکن ہر مرتبہ امن کی دہلیز پر پہنچ کر معاملات کسی نئے تعطل، اختلاف یا کسی شدید حملے کی نذر ہوگئے۔
برطانوی پارلیمنٹ کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے شروع کیے، جن کا اعلان کردہ مقصد ایرانی جوہری اور میزائل پروگرام کو نشانہ بنانا اور حکومت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ایران نے جواباً اسرائیل، خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور بعض پڑوسی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا۔بعد ازاں پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت سامنے آئی لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دونوں فریق جنگ کے معاشی، عسکری اور سیاسی نقصانات سے آگاہ ہیں، تو پھر مذاکرات کی میز پر پہنچ کر بھی مستقل امن کا راستہ کیوں نہیں نکلتا؟اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک کے بنیادی مطالبات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ امریکا ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کے ذخائر اور میزائل صلاحیتوں پر پابندیاں چاہتا ہے، جبکہ ایران جنگ کے مستقل خاتمے، اپنی خودمختاری کے احترام، پابندیوں کے خاتمے اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانتوں کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
پھر بھی پاکستان کی ثالثی نے اس جنگ میں ایک اہم سفارتی راستہ کھولا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور بعد ازاں سامنے آنے والی مفاہمتی تجاویز نے یہ ثابت کیا کہ شدید عسکری تصادم کے باوجود دونوں فریق بالواسطہ رابطوں کے ذریعے کسی مشترکہ بنیاد تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔17 جون 2026 کو سامنے آنے والی 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت، امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور مستقبل کے مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت جیسے نکات شامل تھے۔یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارتی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان نہ صرف دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا بلکہ جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے ایک قابل قبول پلیٹ فارم فراہم کرنے میں بھی کامیاب رہا۔
اس جنگ کا سب سے تشویشناک پہلو آبنائے ہرمز کی صورتحال ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے یہ گزرگاہ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی طویل بندش یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات، بیمہ پریمیم اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔یہا ں یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ خلیجی ممالک کی معیشتیں، عالمی توانائی کی منڈیاں اور ایشیائی صنعتی معیشتیں اس گزرگاہ کے استحکام سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ اس لیے آبنائے ہرمز کا بحران محض ایران یا امریکا کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کے معاشی نظام کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ایران کی جانب سے یہ واضح کیا جاچکا ہے کہ اگر اسے دوبارہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو وہ خطے میں امریکی مفادات اور عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ امریکا کا ساتھ دینے والے ممالک کو بھی ہدف بنانے کا ارادہ رکھتاہے اور شیشے کے محلوں میں رہنے والے پیٹروڈالرز سے مالامال حکمران اور ان کے ادارے دوبارہ ریگستانی زمانے میں دھکیلے جاسکتے ہیں۔ اس نوعیت کی دھمکیوں نے خلیجی ممالک کے لیے ایک نہایت پیچیدہ صورتحال پیدا کردی ہے، جن کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ کسی نئے حملے کی صورت میں ان کی بندرگاہیں، توانائی کی تنصیبات، ہوائی اڈے اور دیگر بنیادی ڈھانچے جنگ کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ جنگی ماحول میں خلیجی خطے کو شیشے کا گھر قرار دینا بے جا نہیں۔ اس خطے میں کسی ایک ملک کی سلامتی کو پہنچنے والا نقصان دوسرے ممالک کے دفاع، تجارت اور معاشی استحکام کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ایران کی حکمت عملی میں میزائل صلاحیت، ڈرون ٹیکنالوجی، علاقائی جغرافیے سے فائدہ اٹھانا اور طویل جنگ کے معاشی و سیاسی اخراجات کو مخالف فریق پر بڑھانا اہم عناصر ہیں۔دوسری جانب امریکی قیادت کے لیے یہ جنگ صرف ایرانی عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے کا معاملہ نہیں، بلکہ اپنے اتحادیوں کے تحفظ، عالمی توانائی کی ترسیل اور مشرق وسطیٰ میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کا مسئلہ بھی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف مواقع پر مذاکرات اور عسکری کارروائی، دونوں کے اشارے دیے جاتے رہے ہیں۔ اس طرز عمل نے سفارتی عمل میں غیر یقینی کی کیفیت کو مزید بڑھایا ہے۔ایران کی جانب سے بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن اپنی دفاعی صلاحیتوں اور خودمختاری پر سمجھوتے کو قبول نہیں کرے گا۔اس تناظر میں جنگ کے مستقبل کا تعین صرف عسکری طاقت سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ہوگا کہ کون سا فریق اپنے سیاسی مقاصد کو مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے کتنی لچک دکھاتا ہے۔
ایران امریکا جنگ کے اثرات پہلے ہی عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر نمایاں ہوچکے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک تجارتی جہازوں کی آمدورفت متاثر رہتی ہے تو اس کے اثرات تیل، گیس، بجلی، کھاد، صنعتی خام مال اور خوراک کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں اور پہنچے بھی ہیں جس کا اندازہ پاکستان میں ہر گزرتے روز کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے لگایا جاسکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، بالخصوص وہ ریاستیں جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتی ہیں، اس بحران سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے ان کے درآمدی بل بڑھ گئے، کرنسیوں پر دباؤ پڑا اور مہنگائی میں بھی اضافہ جاری ہے۔ یکم نومبر 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق ایران اور قطر کے ثالثوں کے درمیان دوحہ میں مسلسل تیسرے روز مذاکرات جاری رہے، جن کا مقصد آٹھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کسی قابل عمل معاہدے تک پہنچنا تھا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی کوششوں میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران دفاع اور سفارت کاری، دونوں کے لیے تیار ہے۔ تاہم کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔علاوہ ازیں ایران کی جانب سے ایک ایسی تجویز پر بات چیت جاری تھی جس کے تحت امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو پانچ روز کے اندر دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے عسکری کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات کے باوجود سفارتی راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ تاہم ماضی کے تجربات کی روشنی میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کسی حتمی معاہدے کی ضمانت بن چکے ہیں۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی مدت میں ممکنہ لچک، امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور جنگ کے مستقل اختتام جیسے معاملات پر پیش رفت کی گنجائش پیدا کرسکتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہی ہے کہ کیا دونوں ممالک اعتماد سازی کے اقدامات کو محض عارضی جنگ بندی تک محدود رکھیں گے یا انہیں ایک مستقل سیاسی سمجھوتے میں تبدیل کرنے کے لیے تیار بھی ہوں گے؟پاکستان کی ثالثی، عمان کے سابقہ سفارتی کردار اور قطر کے حالیہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی امکانات اب بھی موجود ہیں۔ تاہم ان امکانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ بندی کے وعدوں کو عملی اقدامات، شفاف نگرانی اور باہمی اعتماد کے ذریعے مضبوط بنایا جائے، کیونکہ اگر جنگ بندی کے معاہدے محض عارضی وقفے ثابت ہوتے رہے اور دھمکیوں کو سفارت کاری پر فوقیت دی جاتی رہی تو خلیجی خطے کا امن، عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت مسلسل خطرات کی زد میں رہیں گے۔اور اگر دونوں فریق اس موقعے کو مستقل مفاہمت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہی جنگ، جس نے دنیا کو ایک وسیع تر بحران کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، مستقبل میں علاقائی سلامتی کے ایک نئے اور زیادہ مستحکم نظام کی بنیاد بھی بن سکتی ہے۔فی الحال امن کی امید باقی ہے، لیکن اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے محض بیانات نہیں، بلکہ سنجیدہ فیصلوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








