مریم اورنگزیب کا کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پاکستان کی وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا گھیراؤ کیا گیا، نامناسب زبان استعمال ہوئی اور بدتہذیبی پر مبنی نعرے لگائے گئے جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان اب کوئی نیا، نو آموز یا نوزائدہ معاشرہ نہیں رہا جس میں اس قسم کے واقعات کا عام ہونا کوئی معمولی بات قرار دی جاسکے۔ وطنِ عزیز کے قیام کو 75 برس مکمل ہوچکے ہیں اور اب ہمارے ذہنوں میں ایک واضح ثقافت، تہذیب اور قابلِ قبول و مثبت سماجی روئیے کا مظاہرہ کرنے کا رویہ راسخ ہوجانا چاہئے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کے بیان کے مطابق مریم اورنگزیب کے ساتھ لندن میں جو واقعہ پیش آیا، وفاقی وزیرِ اطلاعات نے اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے انکار کردیا جبکہ نہ صرف 4 خواتین سمیت 14 افراد پر مشتمل اس گروہ کے خلاف کارروائی کی جاسکتی تھی بلکہ مقدمہ بھی درج کیا جاسکتا تھا۔

قبل ازیں وزارتِ داخلہ واقعے میں ملوث 4 خواتین اور 10 مردوں کا ڈیٹا حاصل کرچکی تھی، ان کی شہریت کی تفاصیل بھی حاصل کر لی گئیں۔ بظاہر پی ٹی آئی سپورٹر نظر آنے والے افراد نے مریم اورنگزیب کو ایک کافی شاپ میں گھیرا اور پاکستانی عوام کا پیسہ لندن میں لٹانے کا الزام عائد کیا اور نامناسب زبان پر مشتمل ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوا۔

موجودہ حکومت پر پی ٹی آئی کی جانب سے سب سے بڑا الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے غیر ملکی سازش کے تحت وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو تحریکِ عدم اعتماد لا کر اقتدار سے بے دخل کردیا، جس پر تحریکِ انصاف کے سپورٹرز بجا طور پر غم و غصے کا اظہار کرسکتے ہیں، ملک کا آئین انہیں ایسا کرنے کی پوری اجازت دیتا ہے۔

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے بے شمار بیانات میں موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف، نئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مریم اورنگزیب سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں پر بدعنوانی اور چوری کے الزامات لگا چکے ہیں۔ پی ٹی آئی سپورٹرز کا اس معاملے میں بھی تحقیقات کا مطالبہ بالکل جائز قرار دیا جاسکتا ہے۔

تاہم قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی۔ مریم اورنگزیب اگر وفاقی وزیرِ اطلاعات کے عہدے پر نہ بھی ہوں تو بطور خاتون ہر پاکستانی کو ان کی عزت اور احترام کرنا چاہئے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وزیرِ اطلاعات بدعنوانی، چوری یا کسی دوسرے سنگین جرم میں ملوث ہیں تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاسکتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ مریم اورنگزیب کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل مسجدِ نبوی ﷺ میں بھی وزیر اعظم شہباز شریف جب روضۂ رسول ﷺ پر حاضری دینے کیلئے گئے تو بعض افراد نے چور چور کے نعرے لگائے تھے جس پر قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی گئی تھی۔

مسجدِ نبوی ﷺ کے تقدس کی توہین پر مبنی یہ واقعہ رواں برس اپریل کے دوران پیش آیا اور اب مریم اورنگزیب کے ساتھ بدتمیزی کا واقعہ پیش آیا ہے جس پر وزیر اطلاعات کا کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جس پر ان سے بدتمیزی کرنے والوں کو اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کا موقع مل گیا ہے۔

Related Posts