پاکستان میں 8 اکتوبر 2005 کو آنے والے تباہ کن زلزلے کو 21 برس بیت گئے ہیں لیکن اس قیامت خیز سانحے کے زخم اور اپنوں کو کھونے والوں کا غم آج بھی تازہ ہے۔ اس تباہ کن زلزلے نے آزاد جموں و کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔
تباہی کے اعداد و شمار اور تاریخی پس منظر
7.6 ریکٹر اسکیل کی شدت کا یہ زلزلہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین اور سنہ 2005 میں دنیا کا چوتھا بڑا زلزلہ تھا۔ اس خوفناک قدرتی آفت کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کل 74,698 افراد جاں بحق ہوئے جن میں اکیلے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا میں 73,338 اموات ہوئیں جبکہ بھارتی کشمیر میں 1,360 افراد لقمہ اجل بنے۔
اس سانحے میں ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی، 3.3 ملین (33 لاکھ) افراد بے گھر اور 8 ملین (80 لاکھ) سے زائد آبادی متاثر ہوئی۔ اس زلزلے کے باعث قریباً 5 ارب امریکی ڈالر (تقریباً 400 ارب پاکستانی روپے) کا مالی نقصان ہوا۔

زلزلہ ہفتے کے روز پیش آیا جو کہ ایک معمول کا دن تھا اور اسکول کھلے ہوئے تھے اس لیے منہدم ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہونے والوں میں بچوں کی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔ اس آفت کے بعد انسانی ہمدردی کے تحت تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول کو پانچ مختلف مقامات سے کھولا گیا تھا۔
پاک فوج کا تاریخی اور قابلِ تحسین کردار
اس قیامت خیز گھڑی میں پاک فوج کے جوانوں نے متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ریسکیو اور بحالی کے لیے دن رات کام کیا۔
آزاد کشمیر کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کو آنکھوں کے سامنے تڑپتے دیکھنے والوں کے لیے پاک فوج کے جوان امید کی کرن بنے۔ جوانوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر ملبے تلے دبے افراد کو نکالا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ 8 اکتوبر 2005 کو پاک فوج نے جو لازوال کردار ادا کیا اسے کبھی بھلایا نہیں جا سکتا اس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ کشمیر واقعی پاکستان کی شہ رگ ہے۔


بحالی اور تعمیر نو کے نامکمل منصوبے
دو دہائیاں گزرنے کے باوجود متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے کئی اہم منصوبے تاحال نامکمل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، ہزارہ ڈویژن میں بحالی کے 23 فیصد منصوبے اب بھی ادھورے ہیں جبکہ نیو بالاکوٹ سٹی کا منصوبہ بھی 21 برس گزر جانے کے باوجود مکمل نہیں ہو سکا۔ اگرچہ وقت کے ساتھ اس قدرتی آفت کے ظاہری زخم تو کچھ مدھم ہوئے ہیں لیکن نامکمل منصوبے آج بھی اس تباہی کی المناک یاد تازہ کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








