جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون؟ چیف جسٹس کے عہدے تک کیسے پہنچے؟

موسم

قیمتیں

ٹرانسپورٹ

بطور چیف جسٹس حلف اٹھانے سے قبل متعدد کیسز میں دئیے گئے سخت ریمارکس اور ایوانِ سیاست میں دئیے گئے بیانات سے شہرت پانے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا شمار ملک کے مؤقر ترین ججز میں کیاجاتا ہے۔

دلچسپ طور پر گزشتہ برس ستمبر میں جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ بھی ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود تھیں اور عالمی میڈیا نے اس کیلئے شارٹ اینڈ سویٹ انتقام کے الفاظ استعمال کیے۔

ذاتی زندگی 

چیف جسٹس کا حلف اٹھانے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے ان کے عہدے کا حلف 17 ستمبر 2023 کو صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لیااور قاضی فائز عیسیٰ ملک کے 29ویں چیف جسٹس بن گئے جو 1 سال سے زائد عرصے تک اس عہدے پر خدمات انجام دیں گے۔

بطور ججج 14 سال تک مسلسل کام کرنے والے جسٹس فائز عیسیٰ ملکی تاریخ کے پہلے جج ہیں جو عدالتی تاریخ میں پہلی بار کسی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ہی تعینات ہوئے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے والد قاضی محمد عیسیٰ قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے دادا قاضی جلال الدین پاکستان کے قیام سے قبل ریاستِ قلات کے وزیراعظم کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ سے حاصل کی اور 27سال تک وکیل کے طور پر کام کیا۔

آگے چل کر 1985 میں جسٹس فائز عیسیٰ ہائیکورٹ کے وکیل بنے اور 1998 میں سپریم کورٹ کیلئے وکیل کے طور پر کام شروع کیا۔ سابق صدر جنرل مشرف نے جب ملک پر ایمرجنسی نافذ کی تو سپریم کورٹ نے 2009 میں اسے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

یہ وہ فیصلہ تھا جس کے بعد ججز کو نوکریاں چھوڑنی پڑیں۔ جن ججز نے جنرل مشرف کے عبوری آئینی حکم نامے (پی سی او) کے تحت حلف اٹھایا تھا، وہ سب 3عہدوں سے فارغ ہوئے تو بلوچستان ہائیکورٹ کے تمام ججز بھی اپنی نوکریوں سے فارغ ہوگئے۔

بلوچستان ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ تک

یہ وہ وقت تھا جب چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بلوچستان ہائیکورٹ کاچیف جسٹس بنانے کی سفارش کی جو منظور کر لی گئی اور 5 اگست 2009 کو قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بن گئے۔

یہ بطور جج قاضی فائز عیسیٰ کی پہلی تعیناتی تھی۔ 2011 میں انہوں نے میمو گیٹ کے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی کی اور مئی 2012 میں کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہوئی۔ 2014 میں سینیارٹی کی بنیاد پر جسٹس فائز سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔

اختلافات کی تاریخ

سپریم کورٹ ہو یا ہائیکورٹ، ججز کے آپس میں یا دیگر عدالتوں کے ججز کے فیصلوں پر اختلافات حیرت کا باعث نہیں ہوسکتے کیونکہ آئین و قانون دونوں میں ایسے ایسے سقم موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھا کر قصور وار کو شک کا فائدہ اور بے قصور کو سزا دی جاسکتی ہے۔

ایسے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے متعدد سابقہ ججز اور چیف جسٹسز سے اختلافات کیے جن پر ان کے بیانات اور اختلافی نوٹس ریکارڈ پر موجود ہیں۔ چیف جسٹس کا ازخود نوٹس اور بینچز کی تشکیل کا معاملہ بھی اختلافات کی وجہ بنا۔

سابق چیف جسٹس سابق نثار پر الزام ہے کہ انہوں نے پشاور میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو اس لیے بینچ سے الگ کردیا کیونکہ وہ مفادِ عامہ کی تشریح پر سوال اٹھا رہے تھے۔ اس کے بعد ملٹی اسٹیبلشمنٹ پر بھی ان سے اختلاف کا الزام لگا۔

اگر ہم 2018 کی بات کریں تو سپریم کورٹ پشاور رجسٹری برانچ میں از خود نوٹس پر اختلاف کے نتیجے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بینچ سے الگ کردیا جس پر جسٹس فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا تھا۔

چیف جسٹس کا عہدہ

ستمبر میں جب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے حلف اٹھایا تو آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی ندیم انجم نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو نیا منصب سنبھالنے کی مبارکباد ان کے پاس جا کر دی تھی۔جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کو بطور چیف جسٹس نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔

مثال کے طور پر آج ہی یہ خبر سامنے آئی کہ ایک شخص کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دھمکی آمیز سوشل میڈیا مہم چلانے پر گرفتار کیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔ ایک جانب تو یہ چیف جسٹس کیلئے تشویش کی بات ہے اور دوسری جانب ان کے نظامِ عدل و انصاف کا بھی امتحان ہے۔