ڈیجیٹل لین دین کی اہمیت

عمر معین ملک


کالم نگار ایزی پیسہ اور ٹیلینور مائکروفنانس بینک میں ڈیجیٹل پیمنٹ کے ہیڈ ہیں۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے زیادہ تر استعمال ایزی پیسہ / ٹیلی نار مائکرو فنانس بینک وغیرہ کا کیا جاتا ہے، پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں نقد لین کا استعمال ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ رہا ہے، اگرچہ دیکھا جائے تو حکومت اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے پچھلی دہائیوں کے دوران ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لئے متعدد بار کوششیں کی گئیں ہیں، آج بھی ملک میں 120ملین بالغ افراد میں سے صرف 30 ملین سے بھی کم کے بینک اکاؤنٹ موجود ہیں۔

تاہم، کوویڈ 19 وبائی بیماری کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے استعمال میں کافی تیزی دیکھنے کو ملی ہے، جس میں ڈیجیٹل ادائیگی والے اکاؤنٹس شامل ہیں، اگرچہ ای کامرس، ڈیجیٹل ادائیگی، فوڈ آرڈرنگ، اور گروسری کی ترسیل کی خدمات کو کچھ برس بیت چکے ہیں، لیکن حقیقت میں کورونا وباء جیسی خوفناک بیماری کے پیش نظر صارفین کو حقیقی معنوں میں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق، تجارتی بینکوں کے ساتھ رجسٹرڈ موبائل بینکاری صارفین 2019 کی سہ ماہی میں 5 ملین سے بڑھ کر2020میں 820 ملین تک پہنچ چکے ہیں، برانچ لیس بینکنگ کے استعمال کرنے والوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، ملک میں 50 ملین سے زیادہ اسمارٹ فونز اور بڑھتے ہوئے، موبائل اکاؤنٹس کے ذریعے باضابطہ مالی خدمات کی طرف مزید لاکھوں صارفین کو ابھی بھی راغب ہونے کی ضرورت ہے۔

ملک کی پہلی ڈیجیٹل بینکنگ سروس ایزی پیسہ کی مثال لے لیں، تقریباً 8 ملین صارفین کے ایک فعال کسٹمر کے ساتھ، ایزی پیسہ ایپ اینڈروئیڈ پلے اسٹور اور آئی او ایس ایپ اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ اور استعمال شدہ پاکستانی ایپ بن چکی ہے، جس میں 200 سے زائد ادائیگیوں کے آپشنز پیش کیے گئے ہیں۔ تمام Telcoسمز میں فوری اکاؤنٹ کھولنے کے ساتھ، نقد رقم جمع کروانے اور نکلوانے میں مدد کے لئے Pakistan IBFT فنڈز بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے 1-لنک کے ساتھ رابطے اور 75,000 سے زیادہ ایزی پیسہ دکانیں، ڈیجیٹل مالی خدمات کا ذریعہ بن چکی ہیں۔

ایزی پیسہ ایک گھریلو نام بن گیا ہے، جو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کا ذریعہ ہے، اسی طری دوسرے ذرائع جیسے یو پیسہ،جازکیش، ایچ بی ایل کونکٹ اور دیگر بھی اپنی سی کوششیں کر رہے ہیں اور لوگوں کی سہولت اس کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے کہ موبائل ادائیگی والے اکاؤنٹ معاشی شمولیت کے لئے گیم چینج کرنے والے بن چکے ہیں۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس متحرک صنعت کو مختلف اقدامات جیسے ڈیجیٹل بینکنگ ریگولیشنز، ڈیجیٹل اکاؤنٹ کھولنے اور Raast Scheemکے ساتھ تعاون کررہے ہیں جو لائسنس یافتہ مالیاتی اداروں کے مابین فنڈز کی نقل و حرکت اور تصفیہ کیلئے نئی، تیز تر سروس فراہم کریں گے، نئے قواعد و ضوابط اور پلیٹ فارم اور آمدنی کے لین دین کے لئے استعمال ہونے والے ذرائع مارکیٹ کے پیش نظر آنے والے آئندہ سال انتہائی دلچسپ ہوں گے کہ نئی مالی خدمات کے ساتھ پاکستانیوں کی خدمت کے لئے کس طرح کی ٹیکنالوجی موجود ہے۔

ڈیجیٹل لین دین کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر بالغ افراد ابھی بھی بینک اکاؤنٹس یا موبائل منی اکاؤنٹ استعمال نہیں کرتے ہیں۔ وہ صرف نقد استعمال کرتے ہیں۔ ٹیکس مراعات کی جانب ترغیب دینے کی ضرورت ہے، تاکہ لوگوں کو نقد رقم چھوڑنے اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف بڑھایا جاسکے جبکہ پورے ملک میں نقد رقوم کی نقل و حرکت کے لئے ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، حکومت 2021 کے آخر تک تمام سرکاری ادائیگیوں (قومی اور صوبائی) کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے اور نقد ادائیگیوں کو قبول نہ کرنے کا اقدام کرکے بھی کردار ادا کرسکتی ہے۔ ان اقدامات سے پاکستان میں عوام کو ڈیجیٹلائزیشن میں شامل کرنے میں حقیقی طور پر مدد ملے گی۔