کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند کا تقریباً دو دہائیوں بعد پاکستان کا سرکاری دورہ محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست، عالمی طاقت کے توازن اور پاکستان کی ابھرتی ہوئی اور کامیاب خارجہ پالیسی کے تناظر میں ایک غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
بیس سال بعد کسی کینیڈین وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں اور پاکستان خطے میں ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جسے علاقائی اور عالمی معاملات میں نظر انداز کرنا اب بہت مشکل ہے۔ خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ادا کیے گئے کردار نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے، اس تناظر میں کینیڈین وزیر خارجہ کے دورے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
روس کے بعد کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے، جس کا رقبہ 99 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد ہے جبکہ آبادی تقریباً ساڑھے چار کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ ملک قدرتی وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اور تیل، قدرتی گیس، یورینیم، سونا، پوٹاشیم اور دیگر اہم معدنیات کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کینیڈا ساٹھ سے زائد اقسام کی معدنیات اور دھاتیں پیدا کرتا ہے اور دنیا کی بڑی معدنیاتی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جیسے ترقی یافتہ اور وسائل سے بھرپور ملک کا پاکستان کے ساتھ اعلیٰ سطحی سفارتی رابطہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی معیشت کا توازن بتدریج گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند پیر کے روز اپنے پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں، جہاں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں ان کا استقبال کیا۔ یہ انیتا آنند کے وزارت خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہے جبکہ تقریباً بیس برس میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا یہ پہلا دوطرفہ دورہ بھی ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں پر گفتگو کی گئی، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، عوامی روابط، علاقائی اور عالمی امور سمیت باہمی تعاون کے مختلف شعبے شامل تھے۔ انیتا آنند نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کیں۔تاریخی اعتبار سے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات 1947ء میں قائم ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد مضبوط عوامی روابط پر استوار ہے۔ کینیڈا میں تین لاکھ سے زائد پاکستانی نژاد شہری آباد ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی، سماجی اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں پل کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ 2025ء کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم تقریباً 1.2 ارب امریکی ڈالر رہا، جس میں پاکستان نے تقریباً 696 ملین ڈالر کی برآمدات کیں، جن میں ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات اور دیگر اشیا نمایاں رہیں، جبکہ کینیڈا سے تقریباً 500 ملین ڈالر کی درآمدات ہوئیں، جن میں زرعی مصنوعات خاص طور پر نمایاں تھیں۔
اس دورے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایسے وقت میں ہوا جب کینیڈا اپنی تجارتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لا رہا ہے۔ امریکا کے ساتھ تجارتی اختلافات، محصولات اور نئی معاشی پالیسیوں نے کینیڈین حکومت کو اپنی برآمدات اور سرمایہ کاری کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے پر مجبور کردیا۔ اسی پس منظر میں انیتا آنند نے واضح کیا کہ کینیڈا آئندہ دس برسوں میں امریکا سے باہر اپنی تجارت کو دوگنا کرنا چاہتا ہے اور پاکستان اس حکمت عملی میں ایک اہم شراکت دار بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی میں تعاون کو فروغ دینے پر نہ صرف اتفاق کیا ، بلکہ جلد از جلد فارن انویسٹمنٹ پروموشن اینڈ پروٹیکشن ایگریمنٹ (FIPA) کو حتمی شکل دینے کی خواہش بھی ظاہر کی ، تاکہ سرمایہ کاروں کو زیادہ تحفظ اور اعتماد فراہم کیا جاسکے۔
اگر اس تناظر میں پاکستان کی حیثیت کا جائزہ لیا جائے تو ملک کی جغرافیائی اہمیت اسے ایشیا، مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کو ملانے والے ایک قدرتی تجارتی مرکز میں تبدیل کرتی ہے۔ پاکستان پہلے ہی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے خطے میں ایک نئی معاشی حب کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ اگر کینیڈین سرمایہ کاروں کو سی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی سہولت فراہم کی جائے تو اس سے پاکستانی، چینی اور کینیڈین کمپنیوں کے درمیان سہ فریقی تعاون کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ کم لاگت افرادی قوت، جغرافیائی محل وقوع اور خطے تک آسان رسائی کینیڈین صنعتوں کے لیے غیرمعمولی مواقع پیدا کرسکتی ہے۔
اسی تناظر میں زراعت، زرعی ٹیکنالوجی، فوڈ پروسیسنگ ، کان کنی، اہم معدنیات کی پراسیسنگ، جدید معدنیاتی ٹیکنالوجی اور توانائی کے منصوبوں میں اشتراک دونوں ممالک کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوسکتا ہے اور پاکستان کیلئے یہ بھی ایک اہم موقع ہے کہ وہ چین اور کینیڈا کے درمیان معاشی تعاون کے ایسے امکانات تلاش کرے جن سے تمام فریق مستفید ہوسکیں۔ گوادر پورٹ اور سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور افریقی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے والا اہم تجارتی دروازہ بھی بن گیا ہے۔ اگر اس صلاحیت کو مؤثر سفارت کاری اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں ، جن کا پاکستان میں فقدان سمجھا جاتا ہے ، سے درستگی کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو پاکستان خطے کی معاشی سرگرمیوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف تجارت تک محدود نہیں رہا بلکہ سلامتی کے شعبے میں بھی نئی پیش رفت سامنے آئی۔ کینیڈا نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان میں تین نئے سکیورٹی منصوبوں کے لیے 2.2 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گا، جن پر انٹرپول، اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کے تعاون سے عمل درآمد ہوگا۔ ان منصوبوں کے تحت سرحدی نظم و نسق، انسداد دہشت گردی، مالیاتی جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خصوصی تربیت پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کینیڈا نے پاکستان کے لیے 45 ملین ڈالر کی نئی ترقیاتی امداد کا بھی اعلان کیا، جو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، قدرتی آفات کے خلاف استعداد بڑھانے، عمومی اور بچیوں کی تعلیم، صحت عامہ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کاماننا ہے کہ کینیڈا میں آباد پاکستانی برادری دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک مضبوط ستون ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ گزشتہ برس شروع ہونے والی سفارتی رفتار کو ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ دوسری جانب انیتا آنند نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ حالیہ مہینوں میں ہونے والی پیش رفت کو مزید آگے بڑھایا جائے گا اور باہمی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جائے گا۔
کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند ایک تجربہ کار سیاسی رہنما سمجھی جاتی ہیں جنہوں نے کینیڈا میں سرمایہ کاری کے تحفظ، حکمرانی اور مختلف برادریوں کے درمیان روابط کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے لیے ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اسلام آباد میں تعینات کینیڈین ہائی کمشنر طارق خان پاکستان اور کینیڈا کے مابین روابط کو فروغ دینے میں بہت فعال ہیں اور وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پاکستان اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کار دوست اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور شفاف کاروباری نظام پر توجہ دے تو یہ دورہ پاکستان کی معیشت، برآمدات، روزگار، سرمایہ کاری اور عالمی ساکھ میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔ اس اعتبار سے انیتا آنند کا یہ دورہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے ثمرات آنے والے برسوں میں مزید نمایاں نظر آئیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں