مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان باہمی دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اور دفاعی صورتحال میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جمعے کے روز تینوں ممالک نے ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے، جس کے تحت تینوں فریقین نے اپنی سلامتی اور دفاع کے شعبے میں تعاون مزید مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید بحران سے گزر رہا ہے اور ایران و امریکا اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے کو بھونچالی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ اگرچہ معاہدے کے فریقین نے اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے کا نکتہ آغاز ثابت ہورہی ہے۔
پاکستان کے لیے یہ معاہدہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک ایک طرف سعودی عرب کا قریبی دفاعی شراکت دار ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اس کے جغرافیائی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ ایسے میں اسلام آباد کی پالیسی کا بنیادی مقصد تمام فریقین کوساتھ لے کر چلتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنا، مذاکرات کو فروغ دینا اور امن و استحکام کے لیے اپنا سفارتی کردار ادا کرنا ہے۔
معاہدے میں تینوں ممالک کی مختلف صلاحیتیں ایک دوسرے کو تقویت فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے پاس ایک تجربہ کار اور جنگی حالات سے گزرنے والی فوج، دفاعی پیداوار کی صلاحیت اور جوہری قوت ہے۔ ترکیہ جدید ڈرون ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور نیٹو کی رکنیت کے باعث اہم عسکری صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب خطے کی ایک بڑی معاشی طاقت ہونے کے ساتھ ساتھ اوپیک کا بانی رکن ہے اور دفاعی تعاون کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
اس پیش رفت کو امریکا کی مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی پالیسی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ خطے کے بعض ممالک میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی سطح پر بھی باہمی تعاون اور امن کے نئے راستوں کا انتخاب کیا جائے۔
تاہم مکہ دفاعی معاہدے کو فوری طور پر کسی نئے وسیع عسکری بلاک کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ یہ اب بھی واضح نہیں کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک کو کسی علاقائی تنازع میں نشانہ بنایا جاتا ہے تو باقی دونوں ممالک کس حد تک عملی طور پر اس کی مدد کے پابند ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس معاہدے کو ایک اہم دفاعی اور سفارتی پیغام تو قرار دیتے ہیں، لیکن اس کے عملی اثرات کے بارے میں محتاط رائے رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے خطے کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ عمان کے ساتھ ہونے والے کسی بھی سمجھوتے کے نتیجے میں خودکار طور پر نہیں ہوگا بلکہ امریکا کو ایران کی شرائط مکمل طور پر تسلیم کرنا ہوں گی۔ ایرانی حکام کے مطابق عمان اور ایران کے درمیان ایک عمومی فریم ورک پر اتفاق ہوا ہے، تاہم اسے اعلیٰ سطحی منظوری درکار ہے۔
ایران آبنائے ہرمز کے معاملے میں اپنی پوزیشن واضح طور پر مضبوط رکھنا چاہتا ہے۔ تہران کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے موجودہ راستے کے بجائے نئے انتظامات کیے جائیں گے اور اس حوالے سے ایران اور عمان کے درمیان دوطرفہ اتفاق کو ترجیح دی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔
گو کہ ایران کے وزیر خارجہ نے یہ عندیہ دے دیا ہے کہ عمان سے آبنائے ہرمز کی انتظام کاری (مینجمنٹ) کا معاہدہ جلد از جلد ہونے والا ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کی سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے بیان کیا ہے کہ جب تک ان کے منجمد اثاثے اورگردونواح سے امریکی فوجیوں کو ہٹایا نہیں جاتا اور تمام محاذوں پر جنگ بند نہیں کی جاتی اور دوبارہ حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی اور امریکا کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کو یہ ادراک ہوچکا کہ امریکا کے ہتھیار و اوزار اس علاقے میں بالکل کمترین سطح پر آگئے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ امریکا کے اندر جو پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کم ترین حد تک آگئے ہیں اور شنید یہ ہے کہ تقریباً ہفتے سے دس روز تک کے ذخائر موجود ہیں، اسے مدنظر رکھتے ہوئے ایران نے اپنے مطالبات پیش کیے ہیں جن میں سے کوئی بھی مطالبہ نیا نہیں بلکہ یہ پہلے سے ہی طے شدہ 14 نکاتی اسلام آباد ایم اویو میں موجود ہیں تاہم ایک نکتہ جس پر ایران زور دے رہا ہے وہ آبنائے ہرمز کھولنے سے قبل جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہے۔
اسی دوران عمان ایک مرتبہ پھر ایران اور امریکا کے درمیان رابطے اور مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا معاملہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں کیونکہ اس گزرگاہ سے عالمی توانائی کی ترسیل وابستہ ہے۔ طویل عرصے تک کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت، بحری آمدورفت اور ترقی پذیر معیشتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ایسے حالات میں پاکستان کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارتی توازن برقرار رکھے۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور معاشی تعلقات پاکستان کے لیے اہم ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت اور خطے میں امن کی ضرورت بھی پاکستان کو محتاط اور متوازن پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو خطے میں اپنی دفاعی اور سفارتی اہمیت مزید اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، لیکن پاکستان کے لیے اصل کامیابی عسکری اتحاد کے ساتھ ساتھ اس صلاحیت میں بھی ہوگی جو خطے کے مختلف فریقوں کےمابین کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مؤثر کردار ادا کرے۔موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ خطے کے ممالک کسی نئے وسیع تصادم کی طرف جانے کے بجائے سفارت کاری، باہمی اعتماد اور علاقائی تعاون کو ترجیح دیں۔ پاکستان کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال ہو، جنگ اور کشیدگی میں کمی آئے اور مشرق وسطیٰ میں ایسا ماحول پیدا ہو جس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی استحکام مل سکے اور یقیناً پاکستان کے اس کردار کو قدرومنزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور از خود معرکہ حق کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کی جو اڑان سامنے آئی ہے، اس سے پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافہ ہوا اور خاص طور پر عسکری اہمیت میں اضافہ کرنے میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے اور اب قوم و ملک اس بات کی متلاشی ہے کہ اس کے ثمرات کب اور کتنے عرصے میں ملک کو حاصل ہوسکتے ہیں، لیکن اس سے پہلے ملک کے اپنے نظام اور خاص طور پر اس کے انتظامی امور پر بھی غور و خوض بہت ضروری ہے، وگرنہ اس کے باوجود کہ ملک کے عالمی وقار میں اضافہ ہوا، بوسیدہ نظام کے تحت ملکی ترقی کے اہداف کے حصول میں زیادہ آسانی نہیں ہوسکتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں
