کمیشن نے احمد کو کیوں مشکوک قرار دیا؟ میر رضا کیس میں اہم پیش رفت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن نے مقتول کے بزنس پارٹنر احمد کو روسٹرم پر طلب کرکے مختلف معاملات پر سوالات کیے۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر سیال اور احمد کے درمیان اہم مکالمہ بھی ہوا، جبکہ کمیشن نے انہیں کیس سے متعلق معلومات بلاواسطہ اور واضح انداز میں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران کمیشن نے احمد سے کہا کہ وہ کمیشن کے سامنے مکمل سچ بیان کریں۔ جسٹس عمر سیال نے ان کے بعض میڈیا انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان انٹرویوز میں احمد کی جانب سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ انہیں کیس سے متعلق متعدد راز معلوم ہیں۔

کمیشن نے ریمارکس دیے کہ میر رضا اور احمد کے درمیان قریبی دوستی تھی، اس لیے مقتول کی ذاتی زندگی، خاندانی معاملات اور ممکنہ مشکلات کے بارے میں بھی احمد کو معلومات ہوسکتی ہیں۔ کمیشن کے مطابق کسی شخص کے قریبی دوست عموماً اس کی مالی پریشانیوں، قرضوں یا دیگر ذاتی معاملات سے واقف ہوتے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ کمیشن کا بنیادی مقصد کسی فرد کو ملزم قرار دینا یا اس کی شناخت کرنا نہیں بلکہ کیس کے حقائق تک پہنچنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کمیشن کو کسی معاملے کا مکمل علم بھی ہو، تب بھی قانونی تقاضوں کے بغیر کسی شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔

کمیشن نے دورانِ سماعت کہا کہ تحقیقات میں ایسے افراد بھی سامنے آئے ہیں جن کے بیانات میں تضاد یا مبینہ طور پر غلط بیانی پائی گئی تاہم احمد کو تاکید کی گئی کہ وہ اپنا مؤقف سچائی کے ساتھ پیش کریں۔

کمیشن کے مطابق میر رضا کے اہلخانہ کو کیس کے انجام اور تحقیقات سے متعلق اپنے سوالات کے جوابات حاصل کرنے کا حق ہے۔ اسی طرح احمد کو بھی اپنے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات اور اپنے موقف کی وضاحت کرنی چاہیے۔

احمد کے بارے میں کمیشن کے تحفظات

سماعت کے دوران کمیشن نے احمد سے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے اس کے لیے ایک مشتبہ کردار رہے ہیں۔ جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات سے کمیشن کو یہ بات سمجھ آئی ہے کہ متعلقہ افراد کا تعلق براہِ راست فائرنگ یا ہتھیار چلانے والے کردار سے نہیں تھا۔

کمیشن نے بتایا کہ احمد اور بعض دیگر افراد کو میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات سے روکا گیا تھا، تاہم جن افراد نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تحقیقات میں کمیشن ان تک بھی پہنچ چکا ہے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ تحقیقات کے دوران متعدد معلومات سامنے آئی ہیں اور اگر کسی مرحلے پر غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔

کمیشن نے احمد کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر دیے گئے انٹرویوز کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان گفتگوؤں سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ احمد کے پاس کیس سے متعلق اہم معلومات موجود ہیں۔ کمیشن نے ایسے انٹرویوز کو ان کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرز کی عوامی گفتگو بعض اوقات معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

یہاں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی

کمیشن نے واضح کیا کہ کارروائی کا مقصد کسی فریق کے ساتھ محاذ آرائی نہیں ہے۔ جسٹس عمر سیال نے کہا کہ احمد بھی میر رضا کے دوست رہے ہیں اور اگر ان کے ذہن میں کوئی سوالات ہیں تو وہ کمیشن کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔

احمد کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے موقف اور کیس سے متعلق معلومات تحریری صورت میں حلف نامے کے ساتھ کمیشن میں جمع کروائیں۔

کمیشن نے ضمانت قبل از گرفتاری اور مبینہ طور پر رقوم کے مطالبے جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان اقدامات نے احمد کے کردار سے متعلق سوالات کو جنم دیا۔

جسٹس عمر سیال نے احمد کے بعض انٹرویوز کے حوالے سے یہ بھی ریمارکس دیے کہ ان سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں میر رضا کے اہلخانہ کو بدنام کرنے کے لیے سامنے لایا گیا ہو۔

اہلخانہ سے براہِ راست ملاقات کی ہدایت

کمیشن نے احمد کو مشورہ دیا کہ وہ عوامی سطح پر مزید گفتگو کرنے کے بجائے پہلے میر رضا کے اہلخانہ کے ساتھ بند کمرے میں بیٹھیں اور ان کے سوالات کے جواب دیں۔

سماعت کے دوران کمیشن نے میر رضا کے اہلخانہ کو بھی ہدایت کی کہ وہ احمد سے براہِ راست بات کریں اور کیس سے متعلق جو سوالات ہیں، وہ خود ان سے پوچھیں۔

کمیشن نے احمد بھاردے کو ہدایت کی کہ وہ اسی روز میر رضا کے اہلخانہ سے ملاقات کریں اور اگر ان کے پاس کیس سے متعلق کوئی حقائق یا معلومات ہیں تو انہیں اہلخانہ کے سامنے بھی رکھیں۔

احمد بھاردے نے اس ہدایت پر کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ بھی ان کی اپنی فیملی کی طرح ہیں اور وہ اسی روز ان کے گھر جا کر ملاقات کریں گے۔ کمیشن نے عندیہ دیا کہ ضرورت پڑنے پر احمد کو آئندہ بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔

جبران ناصر کا موقف

میر رضا کے خاندان کی جانب سے وکیل جبران ناصر نے کہا کہ اگر احمد کے پاس میر رضا کے قتل سے متعلق کوئی حقائق یا اہم معلومات موجود ہیں تو انہیں بلا تاخیر تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

احمد کے وکیل نے سماعت کے دوران کہا کہ ان کی مکمل ہمدردی میر رضا اور ان کے خاندان کے ساتھ ہے اور وہ صرف احمد کی قانونی معاونت کے لیے موجود ہیں۔

وکیل نے مزید کہا کہ اگر کمیشن سے عدالت کی حیثیت سے بات کرنے کی توقع کی جارہی ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ احمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کا معاملہ کس بنیاد پر دیکھا گیا تھا۔

کمیشن کی میڈیا سے اپیل

کمیشن نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ میر رضا کیس کی رپورٹنگ کرتے ہوئے حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور غیر مصدقہ اطلاعات یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کیا جائے۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کی کارروائی پر سرکاری خزانے سے خطیر رقم خرچ ہو رہی ہے اور تحقیقات کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ غلط بیانی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

کمیشن نے پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میر رضا کیس کی تحقیقات میں پولیس کی جانب سے کئی معاملات درست انداز میں نہیں نمٹائے گئے۔

کمیشن نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ دنیا بھر میں ایسے مقدمات موجود ہیں جو مکمل طور پر حل نہیں ہو پاتے تاہم بعض معاملات میں متاثرہ خاندان پولیس کی تفتیش یا کارروائی کے خلاف شکایت بھی درج نہیں کراتے۔

سماعت کے دوران کمیشن نے وکیل خالد ممتاز کو بھی متنبہ کیا کہ اگر وہ عوامی فورم پر کمیشن کے خلاف گفتگو کریں گے تو اسے مناسب طرزِ عمل نہیں سمجھا جائے گا، کیونکہ کمیشن کے وقار اور ساکھ کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔

کمیشن کی کارروائی کے دوران میر رضا کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید تحقیقات جاری رکھنے کا عندیہ دیا گیا جبکہ احمد کو اہلخانہ سے ملاقات اور اپنے پاس موجود معلومات کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

Related Posts