امریکا نے ایران پر مسلسل دسویں شب بھی فضائی حملے مکمل کیے، جن کے جواب میں ایران نے ایک مرتبہ پھر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف خطے میں موجود امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی بلکہ کویت، بحرین اور اردن کے ان علاقوں پر بھی حملے کیے جہاں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
انہی حملوں کے دوران کویت میں بجلی کی تنصیبات اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے اہم پلانٹس میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے ان تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔ اسی دوران آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکروں میں بھی خوفناک آتشزدگی کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ یہ جہاز غیر محفوظ راستے اختیار کرنے کے باعث اس صورتحال کا شکار ہوئے۔ دوسری جانب انہی انتہائی نازک حالات میں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئے، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ تہران بھی اس خونریز تصادم کو کسی نہ کسی سفارتی راستے سے روکنے کا خواہاں ہے، اگرچہ میدانِ جنگ میں اس کی حکمت عملی مسلسل نپے تلے انداز میں سخت ہوتی جارہی ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کا دورۂ پاکستان معمول کا سفارتی رابطہ ہرگز نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک طویل وابستگی رکھتے ہیں اور ایران کے سیکیورٹی ڈھانچے میں ان کی حیثیت محض ایک سیاسی عہدیدار کی نہیں بلکہ ایسے فرد کی ہے جس پر عسکری قیادت بھی اعتماد کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہمراہ آنے والے وفد میں اعلیٰ سطح کے فوجی حکام کی موجودگی اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ وہ کسی اہم مینڈیٹ کے ساتھ اسلام آباد پہنچے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب پاکستان حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ فعال کرنے اور جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی سفارتی کوششوں میں سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔
یہ امر غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ میدانِ جنگ میں گولہ بارود کی شدت بڑھنے کے باوجود سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ یہی وہ واحد پہلو ہے جو اب بھی امید کی ایک ٹمٹماتی اور مدھم پڑتی ہوئی کرن دکھاتا ہے۔ اگرچہ دس روز سے جاری حملوں کے باوجود جنگ کے بنیادی خدوخال تبدیل نہیں ہوئے، تاہم دونوں ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ یہ تصادم اگر اسی رفتار سے جاری رہا تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ ایک ایسے عدم استحکام میں داخل ہوسکتا ہے جس سے نکلنے میں برسوں یا شاید صدیا ں لگ جائیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران نے مرحلہ وار پیش رفت کی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کو تیل کی برآمدات اور دیگر اہم معاملات کے لیے کھلا رکھنے کے حوالے سے مثبت پیش رفت ہوئی، مگر دوسری جانب معاہدے کی پاسداری نہ کی گئی۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ایران کے بحرین، کویت اور اردن میں کیے گئے حملوں کو برادر ممالک کی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے اور متأثرہ ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ۔ اس ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی حالیہ عسکری حکمت عملی نہ صرف امریکا بلکہ خطے کے ان ممالک کے ساتھ بھی اس کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے جن کے ساتھ کئی دہائیوں سے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی روابط قائم رہے ہیں۔
درحقیقت یہی وہ پہلو ہے جس نے موجودہ بحران کو پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایران اب صرف امریکی دباؤ کا جواب نہیں دے رہا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی روایتی سفارتی حدود و قیود بھی عبور کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے۔ خلیجی ممالک، جو کئی مواقع پر تہران کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کرتے رہے، اب خود کو براہِ راست خطرات کی زد میں محسوس کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں جنگ ختم ہونے کے بعد بھی ایران کے علاقائی تعلقات کی نوعیت ماضی جیسی رہنا مشکل دکھائی دیتی ہے۔
یہی نہیں، بلکہ امریکی سیاسی حلقوں میں بھی اب اس جنگ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کانگریس کے متعدد ارکان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پینٹاگون کی جانب سے درست معلومات فراہم کی جا رہی ہیں یا نہیں، کیونکہ ایک طرف مسلسل یہ دعویٰ کیا جاتا رہا کہ ایران اب کوئی بڑا عسکری خطرہ نہیں رہا، جبکہ دوسری طرف دس روز سے جاری جنگ اس دعوے کی نفی کرتی دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک ایسے طویل تنازع میں الجھتے جا رہے ہیں جس کے خلاف وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلسل آواز بلند کرتے رہے تھے اور جسے وہ مشرق وسطیٰ کی “لامتناہی جنگیں” قرار دیتے تھے۔
اگرچہ امریکی عسکری منصوبہ ساز مستقبل کے ممکنہ اقدامات، حملوں میں اضافے اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں، تاہم زمینی افواج بھیجنے کا امکان بظاہر مسترد کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود اب تک واشنگٹن کی جانب سے ایسا کوئی واضح اشارہ سامنے نہیں آیا جس سے یہ یقین کیا جا سکے کہ گیارہویں شب نئے حملے نہیں ہوں گے یا جنگ بندی قریب ہے۔
موجودہ جنگ میں سب سے زیادہ اہمیت آبنائے ہرمز کو حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ متعدد بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابتدا میں اس تنازعے کا بنیادی موضوع ایران کا جوہری پروگرام تھا، لیکن اب تمام توجہ عالمی توانائی کی ترسیل اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر مرکوز ہو چکی ہے۔ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ممتاز تجزیہ کار امین سیکال کے مطابق ایران اس جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو اپنی سب سے بڑی تزویراتی برتری سمجھتا ہے اور وہ کسی قیمت پر اس دباؤ کے ذریعے حاصل ہونے والی قوت سے دستبردار نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچا کر ایک ایسی حد تک پہنچ چکے ہیں جہاں منطقی طور پر مذاکرات ہونے چاہییں، مگر زمینی حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔
اسی لیے پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں محض رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے ممکنہ بحران کو روکنے کی کوشش ہیں جس کے نتائج کئی نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اگر پاکستان دونوں متحارب ممالک کے مابین اعتماد سازی میں کامیاب ہو کر جنگ کو مختصر مدت کیلئے بھی روکنے میں کامیاب ہوجائے تو یہ صرف ایک جنگ بندی نہیں ہوگی بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی وسیع تباہی سے بچانے کی کوشش ہوگی جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی پر یکساں طور پر مرتب ہوں گے۔ بصورت دیگر، اگر موجودہ عسکری رفتار برقرار رہی تو دسویں شب کے بعد گیارہویں، بارہویں اور اس سے آگے کی راتیں بھی اسی آگ، دھویں اور خون کی داستان لکھتی رہیں گی، جبکہ ہر گزرتا دن مذاکرات کی میز کو مزید دور اور میدانِ جنگ کو مزید وسیع کرتا چلا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں