اسرائیلی رخنہ اندازی اور وینس کا تہلکہ خیز انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا نے ایران پر مسلسل چھٹی رات بھی فضائی حملے کیے اور دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔

ایران نے الزام لگایا ہے کہ امریکا خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ رات جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا نے 6 پل اور بجلی گھر کے علاوہ شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔ اس کے ردِ عمل میں پاسداران انقلاب نے خطے میں امریکی اڈوں سے منسلک انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا عندیہ دیا، یعنی جنگ میں مزید حدت اور شدت پیدا ہورہی ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس اور دیگر جنوبی علاقوں میں امریکی حملوں کے نتیجے میں 35 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے ، جبکہ ایک کینسر اسپتال کو حملوں کے مقام سے قربت کے باعث 200 سے زائد مریضوں سے خالی کرانا پڑا۔

اس ابھرتے ہوئے منظر نامے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایک دھماکے دار بیان  دنیا کی آنکھیں کھولنے سے کم نہیں، جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں بیان کیا کہ یہ اسرائیل ہی ہے جو امن مذاکرات میں رخنہ اندازی کر رہا ہے ۔اگر وہ اسرائیلی کابینہ کا حصہ ہوتے تو اپنے واحد طاقتور اتحادی امریکا کے خلاف محاذ آرائی نہ کرتے، جبکہ اس بیان کو واشنگٹن میں پہلی مرتبہ اعلیٰ سطح پر اسرائیل کے رویے پر کھل کر کی گئی تنقید کے طورپر ایک بڑے حلقے کی جانب سے  پذیرائی مل رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق جے ڈی وینس کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا میں اسرائیل سے متعلق روایتی پالیسی پر بحث شدت اختیار کر رہی  ہے اور امریکی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھا رہی ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی میں قومی مفادات زیادہ قابل ترجیح ہیں یا اسرائیلی مفادات؟جے ڈی وینس نے اپنے حالیہ بیان میں اسرائیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات دیگر اتحادی ممالک کی طرح مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ ایسی صورت میں جہاں ایک فریق امریکی پالیسی پر ویٹو جیسا اثر رکھتا ہو۔

دوسری جانب ایران پر حملوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش بھی کررہی ہے۔ مجوزہ فریم ورک میں پابندیوں میں نرمی، ایران کی اقتصادی بحالی، آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت اور ایرانی جوہری پروگرام پر نئی پابندیاں شامل ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی حکومت یہ اشارہ بھی دے رہی ہے کہ مسلسل جنگ کی بجائے سفارت کاری ہی اس جنگ سے نجات دلا سکتی ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے مذاکراتی عمل پر بالواسطہ یا بلاواسطہ رکاوٹیں بھی سامنے آتی جارہی ہیں۔

اگرچہ جے ڈی وینس نے ایران میں امریکی زمینی کارروائی کے امکان کو مسترد کیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر ترکی بہ ترکی حملوں میں مصروف ہیں، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھتا اور امریکی افواج خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی، جبکہ پیٹ ہیگستھ کی آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہ رکھنے والی بات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

اسی دوران ایران کے حامی حوثیوں کی جانب سے باب المنداب کی بندش کے امکانات پر بھی بحث جاری ہے، کیونکہ اگر خطے میں ایک اور تجارتی گزرگاہ کی بندش کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی سپلائی اور خطے کے تمام ممالک مزید متاثر ہوں گے۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کی سلامتی بھی اس صورتحال سے براہ راست منسلک ہے، جبکہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کے تناظر میں ایسی کسی بھی پیش رفت کو انتہائی حساس معاملہ سمجھا جا سکتا ہے۔

ادھر کویت کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے جواب میں دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ وزارت کے مطابق مختلف علاقوں میں سنائی دینے والے زور دار دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائیوں کا نتیجہ تھیں۔ اس پیش رفت نے خلیجی ممالک میں ایک بار پھر سراسیمگی پھیلا دی ہے۔

اس کشیدہ ماحول میں مختلف علاقائی رہنما سفارتی کوششوں پر زور دے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطوں میں ایران جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے۔

موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ امریکا اور ایران ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں کیونکہ مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ اگر دونوں فریق سنجیدہ سفارت کاری پر آمادہ ہوں تو کسی غیر جانبدار مقام پر مذاکرات کا انعقاد کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، اور موجودہ علاقائی ماحول میں اس مقصد کے لیے اسلام آباد سے بہتر کوئی مقام نہیں سمجھا جاتا کیونکہ  پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو تمام فریقین کو اب تک قابل قبول ہے اور اس سے قبل بھی علاقائی جنگ کی آگ کو ٹھنڈا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

Related Posts